خلاصہء سورة النساء

(Aalima Rabia Fatima, )

• آیت نمبر 1 سے 12 تک میں بتایا گیا ہے کہ اللہ عزوجل نے تمام انسانوں کو ایک جان سے پیدا فرمایا، یتیموں سے متعلق احکام کا ذکر بھی کیا گیا ہے ، پھر اسکے بعد مال وراثت میں سے ذوی الفروض کے حصے بیان کیے گئے ہیں۔
• آیت نمبر 15 سے 16 تک میں بدکاری کی ابتدائی اور عارضی سزا کا بیان ہے۔
• آیت نمبر 20 میں بیوی کے مقررہ مہر کی ادائیگی کا حکم ہے اور ان عورتوں کا ذکر ہے جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔
• آیت نمبر 25 میں یہ بیان کیا گیا ہےکہ جو مرد آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں وہ باندیوں سے نکاح کریں ۔
• آیت نمبر 29 میں باطل طریقے سے مال حاصل کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔۔ باہمی رضامندی سے کی گئی تجارت اور اس حاصل ہونے والے نفع کو اور ہبہ کو اور وراثت میں ملنے والے مال کو جائز قراردیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 30 میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص ظلما دوسروں کا مال کھاتا ہے وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔۔اور جو کبیرہ سے بچتا رہے گا اللہ عزوجل اپنی رحمت سے اس کے صغیرہ بھی معاف کردے گا۔
• آیت نمبر 31 سے 33 میں حسد کی ممانعت اور اللہ عزوجل سے اسکے فضل کا سوال کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 37 سے 42 تک میں بخل ریاکاری کی ممانعت اور انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ عزوجل کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ قیامت کے دن تمام انبیاء اپنی امتوں کے احوال و اعمال کی شہادت دینگے اور،حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شہادت درست ہونے کی گواہی دیں گے ۔ انبیاء و رسل کی نافرمانی پر وعید بھی مذکورہے۔
• آیت نمبر نمبر43 میں نماز سے متعلق چند احکام بیان کیے گئے ہیں۔
• آیت نمبر 44 سے 57 تک میں یہودیوں کی خبیث خصلتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کلام الہی میں تحریف کرتے پھرتے ہیں ، اور بعد میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ شرک کے گناہ کو کسی صورت معاف نہیں فرماتا۔
• آیت نمبر 58 سے 59 تک میں امانتوں کی ادائیگی اور عدل پر قائم رہتے ہوئے انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 60 سے 68 تک میں منافقین کی چالوں اور انکے دورخے پن کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 69 سے 70 تک میں اطاعت کرنے والوں کے ثواب کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 71 سے 84 تک میں جہاد کے اصول بتائے گئے ہیں اور منافقوں کی بزدلی اور خوف کا ذکر کیا گیا ہے اور نبی اکرم کو خود جہاد کرنے اور مؤمنین کو جہاد کی ترغیب دینے کا حکم ہے۔
• آیت نمبر 85 سے 86 تک میں سفارش حسنہ اور سیئہ کا ذکر کیا گیا ہے۔اور معاشرتی آداب سکھائے گئے ہیں ۔
• آیت نمبر 92 سے 93 تک میں قتل خطا اور قتل عمد کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 94 سے 100 تک میں مجاہدین کی فضیلت کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ جو سفر جہاد کے دوران یا میدان جنگ میں ایمان لے آئے تو اس کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔
• آیت نمبر 101 سے 104 تک میں قصر الصلوة اور صلوة الخوف كا بیان ہے۔
• آیت نمبر105 سے 113 تک میں عہد رسالت میں پیش آنے والے ایک یہودی اور مسلمان کے درمیان چوری کے معاملے میں ہونے والے فیصلے کے ایک خاص واقعے کا ذکر ہے۔
• آیت نمبر 114 سے 121 تک میں بتایا گیا ہے کہ مشوروں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں جب تک کوئی عملی اقدام نہ کیا جائے اور آگے یہ بی بتایا گیا ہے کہ شرک کے سوا تمام گناہوں کی معافی ہے۔
• آیت نمبر 122 سے 126 تک میں نیک اعمال کی جزاء کا بیان ہے۔
• 127 سے 130 تک میں عورتوں اور یتیم لڑکیوں کی شادی اور میراث میں انکے حصے کا ذکر کیا گیا ہے، اور ایک سے زائد ازوج کے ساتھ عدل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 131 سے 136 تک میں اللہ عزوجل کی وحدانیت اور ایمان والوں کو دین پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
• آیت نمبر 137 سے 149 تک میں منافقین کی عادت بد کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 150 سے 152 تک میں برائی کا اظہار کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور نیکی کے متعلق اجازت دی کہ چاہے تو اظہار کریں اور چاہیں تو نہ کریں۔۔ آگے کفار کی اقسام کا بیان کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 153 سے 161 تک میں یہودیوں کی جہالت سرکشی اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے اور حضرت موسی علیہ السلام سے کیے گئے فرمائشی مطالبات کا بیان ہے۔
• آیت نمبر 163 سے 166 میں رسولوں کو بھیجنے کی حکمت بیان کی گئی ہے ۔ اور پھر فرمایا گیا ہے کہ کچھ رسولوں کے ناموں کا ذکر ہے اور ان پر تعین کے ساتھ ایمان لانا فرض ہے۔ اور جن رسولوں کا ذکر نہیں ہے ان پر اجمالی طور پر ایمان لانا فرض ہے۔
• آیت نمبر 174 سے 175 تک میں مھتدین کے ثواب کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 176 میں میراث کے ایک مسئلے کلالہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
• رکوع ،آیات الفاظ اور حروف کی تعداد:
رکوع 24 ، 176 آیات ، الفاظ 3050 ، اور حروف 16030.
• وجہ تسمیہ:
عربی میں عورتوں کو نساء کہتے ہیں اس سورت میں باکثرت عورتوں سے متعلق احکام ذکر کیے گئے ہیں اس مناسبت سے اس سورت کا نام نساء رکھا گیا ہے۔
• فضائل:
• حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سورة البقرہ، مائدہ، حج اور نور سیکھو کیونکہ ان سورتوں میں فرض علوم بیان کیے گئے ہیں ( مستدرک ،حدیث نمبر :3545)
• حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے سورةالنساء پڑھی تو وہ جان لے گا کہ وراثت میں کون کس سے محروم ہوتا ہے اور کون کس سے محروم نہیں ہوتا۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 120 Print Article Print
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 22 Articles with 6193 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ