گجرم دلیرم

(Iftikhar Chohdury, )

فیصلہ آپ نے کرنا ہے میں نے نہیں سوچنا آپ نے ہے کسی اور نے نہیں۔قومیں بنتی کیسے ہیں اس کا گر سیکھیں۔ایک اکیلا چودھری رحمت علی راستہ دکھا گیا سینکڑوں بونے اس کی ٹانگیں کھینچنے میں کامیاب کیوں ہیں؟کئی نامی گرامی اس ایک شخص سے ڈرتے کیوں ہیں؟میں نے ایک بار مجید نظامی صاحب کو خط لکھا تھا کہ لگتا ہے کہ ایک مردہ رحمت علی آپ کے دفتر ۴ اے شارع فاطمہ جناح پر قبضہ کر لے گا اسی لئے رات دن آپ اس کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ہمارے ڈپٹی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل سوار خان بھی رہے اور ہم ان کا جسد خاکی نہ لا سکے دیکھتے ہیں بریگیڈئر صاحب داد کے صاحبزادے ارشد داد کیا کرتے ہیں ۔بڑا حوصلہ ملتا ہے ان سے مل کر۔اﷲ کامیاب کرے۔ قارئین محترم ایک بار نام تو لے کر دیکھیں مرچیں سی لگ جاتی ہیں اچھل پڑتے ہیں اور ساتھ ہی کہہ دیں گے جناب آپ برادری پرستی کرتے ہیں۔اپنے ناموں کے ساتھ راجہ،کھوکھر ملک،اعوان،قریشی،کیانی لکھیں گے ہم اگر چودھری ہوتے ہوئے کہہ دیں کہ گجر ہیں تو اچھل پڑتے ہیں دکھ اس بات کا ہے کہ ایک کالم لکھا جس میں مولنا عبدالمجید ہزاروی کے بارے میں لکھ دیا کہ موصوف گجر ہیں اور مولانا عبدالحکیم ہزاروی سابق ایم این اے پیپلز پارٹی کے فرزند ہیں ۔یہ وہ صاحب ہیں جو آج کل آل پارٹیز کانفرنس کے میزبان مولانا فضل الرحمن کے دست راست ہیں جن کی سلفیوں پر بحث جاری ہے۔ہمیں ان کی سیاست سے اختلاف ہے جس کا برملا اظہار کرتے ہیں گجرانوالہ سے ایک صاحب جو زمانہ طالب علمی سے جان پہچان رکھتے ہیں نام کے ساتھ کھوکھر لکھتے ہیں پیشے کے لحاظ سے لوہار ہیں ۔تڑپ اٹھے الٹے سیدھے پیغامات بھیجنا شروع کر دئے گجر کے نام پر تپ گئے ہیں۔سچ پوچھئے اس موضوع کو نہیں چھیڑنا چاہتا تھا لیکن اس کے محرکات کیا ہیں سر پکڑ کے سوچا کہ چودھری رحمت علی کو بھی سزا شائد اس وجہ سے نہیں ملی کہ گجروں نے انہیں گجر مشہور کر دیا ایک بار مجیب الرحمن شامی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا والہانہ پیار اس وجہ سے نہیں کہ وہ گجر تھے۔قومیں قبیلے شناخت ہوتی ہیں فخر نہیں لیکن سماج میں یہ اونچ نیچ کا نظام پوری دنیا میں ہے یہاں سعودی عرب میں عتیبی زہرانی مالکی اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہیں ۔ذات پات کا نظام پوری دنیا میں ہے کسی بھی گاؤں شہر یا ملک میں یہ نظام انسانیت کا منہ چڑاتا نظر آتا ہے۔میں گجر ہوں اس لئے گجر ہوں کہ گجر گھرانے میں پیدا ہوا ہوں یہ کوئی مذہب نہیں کہ ہوش سنبھال کر بدل سکوں اﷲ کا کرم ہوا ہمارے بڑے ہو سکتا ہے ہندو ہوں سکھ یا کسی اور مذہب سے اﷲ کا کرم ہوا ہم مسلمان ہوئے لیکن مسلمان ہونے سے پہلے گجر شناکت تو تھی۔گرچہ ہر شخص دین حنیف پر پیدا ہوتا ہے لیکن جس قوم قبیلے میں پیدا ہوتا ہے وہی شناخت بن جاتی ہے۔افریقی جنگلی معاشرت میں بھی قبیلوں کی شناخت ان کے چہروں پر گرم سلاخیں لگا کر ثابت کی جاتی ہے۔آل پارٹیز کانفرنس میں مولانا عبدالمجید کے ذکر سے جل بھن جانے والوں کے لئے عرض ہے ان سے سیاسی مخالفت تو قابل برداشت ہے لیکن قوم قبیلے کے حوالے سے طعن و تشنیع کو برداشت نہیں کیا جائے گا-

بر صغیر پاک و ہند میں گجروں نے برس ہا برس حکومت کی ہے۔یہ وہ واحد قوم تھی جس نے انگریز کے خلاگ علم بلند کیا میرٹھ میں پہلی بغاوت ان لوگوں نے کی دہلی کے گرد سیکڑوں گجر دیہات ہیں مغلوں کی مزاحمت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی تو انگریز کی حکومت آ گئی آپ تاریخ میں اٹھا کے دیکھ لیں کسی ایک گجر نے سفید شاہی کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ان کے خلاف ہتھیا اٹھائے رکھے وہ مارو بھاگ جاؤ تحریک کے بانی تھے اسی لئے انگریزون نے انہیں فوج میں بھرتی نہیں کیا انہیں جرائم پیشہ لوگوں کی فہرست میں اس لئے رکھا کہ وہ لوگ اس کی حاکمیت نہیں مانتے تھے۔اور قوموں کی طرح ان میں بھی پڑھے لکھے لوگوں کی کمی نہیں ہے لیکن ایک سازش کے تحت انہیں گوالہ بنا کر پیش کیا۔اور تو اور ایک سابق چیف جسٹس نے گوالوں کو گجر بنا کر پیش کیا حالنکہ یہ ایک پیشہ ہے جس طرح لوہار ترکھان کوئی قوم نہیں پیشہ ہے تو گوالا کیسے گجر بن گیا؟گجروں کی شان و شوکت دلیری اور بہادری سے ڈرے دبکے یہ لوگ اسی قسم کا گند اگلتے ہیں۔تاریخ کا سچ یہ ہے کہ راجے مہاراجے یہ گجروں کی اولاد ہیں گجروں میں سے جنہیں راج پاٹ یا جاگیر مل گئی انہیں راجہ کہا گیا دور نہ جائیں ریاست کالس کے راجے گجر ہیں اور وہ اپنے نام کے ساتھ راجہ لکھتے ہیں اس لئے کہ ریاست کے مالک ہیں۔پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے راجہ طارق کالس لکھتے ہیں چکوال سے تعلق ہے۔گجروں کی تاریخ کے لکھاری رانا علی حسن چوہان گجر ہیں۔خود ساہیوال کے رانے جو پاکستان کے بائیس خاندانوں میں رہے ہیں رانا ظفراﷲ خان نے مجھے خود کہا تھا کہ ہم بنیادی طور پر گجر ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ میں اپنی قوم کی برتری ثابت کروں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ میں تضحیک برداشت کرون آپ کو اپنا قریشی ہونا ہاشمی ہونا سید ہونا مبارک ہو ہم آل رسولﷺ کی نوکر اور خادم ہیں آپ بھلے سے کھوکھر ہوں بٹ ہو جٹ ہوں آپ کو آپ کا نسب مبارک لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اگر گجر ہیں تو آپ کو جلن ہو۔قوموں پر عروج و زوال آتے رہتے ہیں۔منگولوں نے مغلوں کی شان و شوکت کو تہس نہس کیا اور خود گجرانوالہ کے ہر لوہار کا یہ دعوی ہے کہ وہ مغل ہیں انجمن مغلیہ کے صدر یہ کہتے ہیں کہ ہم مغل ہیں جبکہ پورا شہر انہیں لوہار کہتا ہے یہ کھوکھر نام کے شخص جنہیں میں زمانہ ء طالب علمی سے جانتا ہوں ان کے اجداد کو جانتا ہوں لوہار ہیں انہیں کس بات کی تکلیف ہے کہ وہ مجھے گجر ازم کا طعنہ دیں انسان کو رفاقتیں یاد رہنا چاہئیں ان کے بھائی عثمان ہمارے ڈرائیور بھی رہے کبھی بھائی جان سے کم نہیں سمجھا لقمان تو ڈینٹر تھے لیکن پتہ نہیں کیا موت پڑی کے اچھل پڑے میں نے اندازہ لگایا لفظ گجر سے نفرت کرنے والے یہ ایک نہیں ہے ان گنت لوگوں کو اس نام سے نفرت ہے۔

دوسرا ہمارا قصور بھی ہے کہ ہم نے تعلیم و تربیت کی بات ہی نہیں کی۔جب بھی بات ہوئی مونچھوں کی بات کی مار دھاڑ کے قصے بیان کئے اس صدی کا پیار اور محبت کا سب سے بڑا شاعر ساحر لدھیانوی گجر تھا ہم کبھی اسے اپنا نہیں مانا چودھری رحمت علی کی بات کریں یا جناب چودھری غلام عباس کی یہ لوگ اپنے ناموں کے ساتھ گجر نہیں لگاتے تھے لیکن پھر بھی دنیا انہیں اس نام سے جانتی ہے۔پاکستان کے پہلے نشان حیدر میجر طفیل فاتح لکشمی پور کی بات کریں تو دلیری شجاعت ان کے برتن دھوتی نظر آتی ہے۔

اس قوم کی نشاط ثانیہ کے لئے گجر پلیٹ فارم بہت کام کر رہا ہے سوشل میڈیا پر گجروں کی عظمت رفتہ پر اس پیج اور آئی ڈی کا کام قابل تحسین ہے۔

قوموں کی عظمت ان کے اچھے کاموں سے ہوتی ہے ہمیں اپنی قوم کے اچھے کاموں کو آگے لانے کی ضرورت ہے۔

ہماری صفوں میں گھسے وہ ان پڑھ سوچ کے لوگ بھی ہیں جو کسی سیاست دان کے لئے جان نچھاور کرتے نظر آئیں گے اس کے لئے دوسرے گجر بھائی کی پگڑہ اچھالتے دکھائی دیتے ہیں۔ستر کی دہائی میں مختار گجر نامی ایک شخص نے ہری پور میں برادری کو اٹھانے کی بات کی وہاں کے جاگیرداروں کو چیلینج کیا لیکن اس کی مخالفت میں راجاؤں نے جو لوگ استعمال کئے وہ گجر تھے۔

یہ وہ دور تھا جب کوٹ نجیب اﷲ کے گجر اپنے نام کے ساتھ سردار اور آخر میں خان لکھا کرتے تھے۔سردار فخر عالم چیف الیکشن کمشنر بھی رہے لیکن کبھی برادری کو اٹھایا نہیں یہ وہ واحد شخس تھا جس نے نلہ جیسے غیر معروف گاؤں سے اٹھ کر جاگیرداروں کو للکارا شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گجرانوالہ میں پلا بڑھا اور اس نے گجرات گجرانوالہ کے گجروں کی دلیری اور بہادری کو لے کر مظلوم برادری کا نام لیا آج اس کی قبر نلہ میں ہے اور گزرتے لوگ دعا کرتے ہیں اور علاقے کا ہر غریب شخص انہیں دعائیں دیتا ہے۔

لیڈر لیڈر ہوتے ہیں چمچے نہیں ہوتے نہ ہم نے کسی کی چمچہ گیری کی البتہ جس کا ساتھ دیا دلیری اور بہادری سے دیا۔آمریت کی جیل جب نصیب ہوئی تو پاکستان کے ایک بڑے لیڈر نے مجھے کہا کہ آپ نے میرے لئے قربانی دی ہے جواب دیا نہیں میاں صاحب اﷲ نے دلیر گجر ماں اور باپ کا بیٹا بنایا ہے اپنے ضمیر کے لئے ان آمروں سے ٹکرایا ہوں اﷲ کرے گا وقت آئے گا میاں نواز شریف دے دلا کے باہر آ ہی جائے گا کوئی اس کے قریب بندہ ہو تو پوچھ لیں انجینئر افتخار کیا چیز تھی اپنے منہ میاں مٹھو بننا اچھا نہیں لیکن جو کچھ ہو سکا عمران خان کے لئے بھی کیا میں نے بڑے بڑے چوہان دیکھے ہیں جو شیریں مزاری کے سامنے لمے پئے گئے تھے ہم نے اﷲ کے کرم سے وہاں بھی دلیری دکھائی اور احترام کے ساتھ وقت گزارا عمران خان کو بھی صیح مشورے دئے روک کے ٹوک کے سیدھا راستہ دکھایا۔
گجروں کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ باتوں باتوں میں لوگوں کو بتائیں کہ وہ گجر ہیں میری کوئی بھی تقریر سن لیں تحریر دیکھ لیں گجر فرست رہا ہوں۔

بات کسی نام نہاد کھوکھر سے چلی تھی لمبی ہو گئی لیکن کہنا یہ ہے کہ قوم سوچے فکر کرے کہ کیا وجہ ہے گجر اتنے پیچھے کیوں ہیں ۔اتنی تعلیم کے باوجود میرا خیال ہے ہم سب پڑھے لکھے بھی جگا گجر کو ہیرو مانتے ہیں۔وحشی گجر کی بات کرتے ہیں مونچھ سے رشتہ نبھاہتے ہیں ۔

سوچ لیجئے ہمیں بننا کیا ہے رحمت علی یا جگا گجر۔اپنی شناخت بدلئے آپ جہاں بھی جائیں گے لوگ آپ کی قومیت جان جائیں گے نہ بھی لکھیں تو بھی سمجھ جائیں گے ۔گجر نام ساتھ نہ بھی لگا ہو ظلم جبر کے خلاف اٹھنا ہی آپ کی شناخت ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ گنڈاسہ بندوق اور سوٹا پکڑ کے ہو قلم بھی ہو سکتی ہے گفتگو تقریر بھی اور تحریر بھی یہ کام کر سکتی ہے۔سوچنا یہ ہے کہ چودھری رحمت علی کا نام استعمال کرنا
ہے یا چودھری رحمت علی بننا ہے۔
میری گزارش اگر اچھی نہ لگے تو معذرت۔گجرم دلیرم
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 161738 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
01 Jul, 2019 Views: 680

Comments

آپ کی رائے