کک باکسنگ ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

33 ویں قومی کھیل امسال ماہ اکتوبر میں ہوں گے اور میزبانی کے فرائض پشاور کو حاصل ہوں گے۔ ان کھیلوں میں ملک بھر سے تقریباً بارہ ہزار اتھیلیٹ شرکت کریں گے۔ یہ اتھیلیٹ چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان ، آزاد جموں و کشمیر ،پاکستان کی بری، بحری اور ْفضائی افواج ، پاکستان ہائیر ایجوکمیشن ، پاکستان پولیس ، واپڈا اور ریلوے سے شریک ہوں گے۔ تمام مقابلے عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس چارسدہ ، حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور اور سپورٹس کمپلیکس پشاور میں منعقد ہوں گے۔ اس کے علاوہ ضم شدہ فاٹا کے اضلاع خیبر اور شمالی وزیرستان کے جمرود سپورٹس کمپلیکس اور یونس خان اسٹیڈیم میں بالترتیب کھیلے جانے کا پروگرام ہے۔ اس میگا ایونٹ کے اخراجات کا تخمینہ ایک سو ستر ملین روپے لگایا گیا ہے۔ اس خطیر رقم سے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات دی جائیں گی۔ ان کھیلوں سے دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں اور خصوصاً خیبر پختون خوا کے عوام کا سافٹ امیج اُجاگر کرنا ہے۔ ان تقریبات کا افتتاح وزیر اعظم پاکستان عمران خان کریں گے جب کہ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی صدر مملکت عارف علوی ہوں گے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی کک باکسنگ ایونٹ ہے ، خیبر پختون خوا کک باکسنگ ایسوسی ایشن نے صوبہ بھر کے تمام اضلاع کی ٹیموں کا ٹورنامنٹ سپورٹس کمپلیکس بنوں میں تین اور چار اگست 2019 ء کو منعقد کیا جس میں چھ ضلعوں بنوں ، ہری پور ، دیر ، سوات ، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے سو سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ تمام کھلاڑیوں کو ویٹ ( weight ) کے اعتبار سے انڈر 25 کلوگرام سے لے کر اوپن ویٹ تک اٹھارہ کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا۔ افتتاحی روز پول میچ کھیلے گئے، اس تقریب کے مہمان خصوصی چیئر مین تعلیمی بورڈ بنوں نیک نواز خان تھے جنہوں نے تمام مہمان ٹیموں کو خوش آمدید کہا اور یقین دلایا کہ وہ بنوں کے زندہ دل اور کھیلوں کے دل دادہ لوگوں کی میزبانی سے خوش نظر آئیں گے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ تمام کھلاڑی سپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کریں ، ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے۔ مہمان خصوصی کے لئے جمناسٹک کے کھلاڑیوں نے مختلف کرتب دکھائے اور مہمان گرامی کو اپنی صلاحیتوں سے محظوظ کیا۔اس روز کل ساٹھ مقابلے کھیلے گئے، جن میں کھلاڑیوں نے اپنی تکنیک اور بہترین کھیل سے مخالف کھلاڑیوں کو زیر کیا۔ اگلے روز ، یعنی چار اگست کو صبح آٹھ بجے سے پری کوارٹر فائنل ، کوارٹر فائنل ، سیمی فائنل اور فائنل مقابلے شروع ہوئے جو کہ رات گئے تک جاری رہے۔ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما سکندر خان تھے جنہوں نے کامیاب کھلاڑیوں کو میڈلز پہنائے ، آفیشلز کو شیلڈز اور ونر اور رنراَپ ٹیموں کو ٹرافیاں دیں۔ انہوں نے صوبائی ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کیا کہ اتنے بڑے اور اہم ایونٹ کے انعقاد کی ذمہ دار ضلع بنوں کو سونپی ۔ مہمان خصوصی نے کک باکسنگ ایسوسی ایشن بنوں کو اس ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی اور کہا کہ موجودہ حکومت کھیلوں پر زیادہ توجہ دے رہی ، کھیلوں کی ترقی اور ترویج کے لئے گراس روٹ لیول پر کام ہو رہا ہے اور یہ سب وزیر اعظم عمران خان کے وژن کا حصہ ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس پورے خطے نے بین الاقوامی سطح پر نامور کھلاڑی پیدا کیے جنہوں نے ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کیا لیکن گزشتہ برسوں میں جہاں دہشت گردی کے واقعات سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا تو وہاں کھیلوں کے مقابلوں پر بھی ایک کاری ضرب لگی۔ آج اس کامیاب ٹرنامنٹ نے یہ ثابت کیا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت چکے ہیں۔ انہوں نے اولمپیئن بریگٖیڈئیر حمیدی کی وفات کو بڑا قومی سانحہ قرار دیا جن کی کھیلوں کے حوالے سے خدمات زندہ جاوید رہیں گی۔ یاد رہے کہ بریگیڈئیر حمیدی 1960 ء کے اولمپیک کھیلوں میں پاکستان ہاکی ٹیم کا حصہ تھے اور جنہوں نے فائنل میں روایتی حریف بھارت کے خلاف واحد وننگ گول اسکور کیا تھا اور پاکستان ہاکی ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔خیبر پختون خوا کک باکسنگ ٹورنامنٹ کے پوائنٹس ٹیبل پر نظر دوڑائی جائے تو ضلع بنوں کی ٹیم مجموعی 185 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہی ۔جن میں 9 سونے ، 3 چاندی اور 2کانسی کے تمغے شامل تھے۔ جب کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی ٹیم 8 تمغوں اور 75 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جن میں 3 سونے ، ایک چاندی اور 4 کانسی کے تمغے شامل تھے۔ تیسری پوزیشن ہری پور کی ٹیم نے حاصل کی جنہوں نے 70 پوائنٹس حاصل کیے۔ جن میں سونے ، چاندی اور کانسی کے تین ، ایک اور پانچ تمغے بالترتیبشامل تھے۔ چوتھی اور پانچویں پوزیشن بالترتیب ٹانک ادر دیر نے حاصل کی۔ جن کے پوائنٹس کی تعداد 65 ، 65 تھی۔جب کہ آخری ، یعنی چھٹی پوزیشن سوات نے پندرہ پوائنٹس کے ساتھ حاصل کی۔ اختتام پر خیبر پختون خوا کک باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر آصف خان اور سیکرٹری جنرل اسداﷲ خان نے مہمان خصوصی، کھلاڑیوں اور تماشائیوں کا شکریہ ادا کیا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 129392 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2019 Views: 449

Comments

آپ کی رائے