یکم محرم - خلیفہ دوم حضرت عمر کی 100 منفرد خصوصیات

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

(1)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کو محبوب خداﷺ نے غلبہ دین اور سطوت اسلام کے لیےدربار ربوبیت سے خود طلب کیا.

(2)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کو پروردگار عالم نے دینی ترقی کے لئے چن کر بھیجا.

(3)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جنکے ایمان لانے سے پہلے جبرائیل امینؑ نے ان کی تشریف آوری کا مژدہ پیغمبر اسلامﷺ کو دیا.

(4)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی تشریف آوری پر حضورﷺ نے "مرحبا" کی آواز بلند فرمائی.

(5)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے ایمان سے جملہ صحابہ کرامﷺ کو تقویت پہنچی.

(6)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی آمد سے مسلمانوں کو خدا کے گھر میں خدا کی عبادت کرنا نصیب ہوئی.

(7)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے ایمان کی خوشی میں زمین نے اظہار مسرت کیا.

(8)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی ایمان کی خوشی میں فلک نیلی فام رقص میں آیا.

(9)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کو کعبہ میں جاتے وقت سب صحابہ کرامؓ سے آگے جانے کا شرف حاصل ہوا.

(10)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی تشریف آوری کی خوشی میں دیوار حرم نے بوجہ افتخار اپنا سر تا بعرش کردگار پہنچایا.

(11)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے قدوم میمنت لزوم سے زمزم کے آب شیریں نے سلسبیل کو ذائقہ حل اور بخشا.

(12)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے کعبہ میں داخل ہونے کے بعد جناب محمدﷺ کے تکبیر کہنے سے بت منہ کے بل گر گئے.

(13)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کو "فاروق" کا لقب دربار رسالتﷺ سے عطا ہوا.

(14) سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے کہ "منھا خلقنکم" کے پیش نظر جنکی مٹی کا خمیر بہشت بریں کی مٹی سے بنایا گیا.

(15)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جنہوں نے کفر کو چیلنج کر کے بیت اللہ کے اندر مشرکین کے روبرو نماز ادا کی.

(16)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جنہوں نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں قتل کا مشورہ دیا.

(17)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جنہوں نے غزوه تبوک کے موقع پر اپنے مال کا نصف حصہ پیش کر کے صاحب نبوتﷺ کی خوشنودی حاصل کی.

(18)سیدنا عمر فاروق وہ تھے جن کے حق میں خاتم النبینﷺ نے ''لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب" فرمایا.

(19)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی تقریر دل پذیر اور جرات نے سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرینؓ وانصارؓ کا اختلاف مٹا دیا.

(20)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی حکومت عدالت سیاست کو دیکھ کر سیدنا علیؓ نے آپ کو مسلمانوں کا ملجاء و ماوی قرار دیا.

(21)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی ذات بابرکات کو سیدنا علیؓ نے "فرحاں و شاداں قیم بالامر" فرمایا.

(22)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے لشکر کو دیکھ کر سیدنا علیؓ نے جنداللہ کا لقب عطاء کیا.

(23)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے مذہب کو شیر جلی سیدنا علیؓ نے ''دین اللہ'' سے تعبیر کیا.

(24)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی ''یا ساریة الجبل'' والی آواز نے نہاوند میں غافل فوج کو جگا دیا. اور مسلمانوں کی فتح کا باعث بنی۔

(25)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جنکے مکتوب کی برکت سے دریائے نیل جاری اور مشرکانہ رسم کا خاتمہ ہو گیا.

(26)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جنکی مبارک رائے کے مطابق آیت "واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی "نازل ہوئی.

(27)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جنکی غیرت کی حمایت میں عورتوں کیلیے پردہ کا حکم ملا۔ اور پردے کی آیات نازل ہوئیں۔

(28)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے لفظ "مولا" کو حضور ﷺ کیلیے استعمال کرنے سے آیت "ان اللہ ھو مولاہ وجبریل وصالح المؤمنین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" نازل ہوئی.

(29)سیدناعمر فاروقؓ وہ تھے جن کی دعا پر "حرمت شراب" کا تصریحی حکم نازل ہوا.

(30)سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی رائے کی تائید میں منافق کا جنازہ نہ پڑھنے کے سلسلے میں وحی نازل ہوئی.

(31)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے ''افک سیدہ عائشہ صدیقہؓ'' کے سلسلے میں "سبحانک ھذا بھتان عظیم" کہنے پر موافقت قرآن نے انہی الفاظ کے ساتھ فرمائی.

(32)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے مقبوضات اسلام کا رقبہ (225103) مربع میل تک پہنچ گیا.

(33)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے ''حسبنا کتاب اللہ'' کہ کر مراد نبوتﷺ پوری فرمائی.

(34)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے جواب نے "من یھدہ اللہ فلا مضل له" کی ترجمانی کی.

(35)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی ہم نوائی اور تصدیق صاحب نبوتﷺ نے سکوت فرما کر کی، تو اہل بیتؓ نے عملی طور پر فرمائی.

(36)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی غیرت چہار دانگ عالم میں مشہور ہوئی.

(37)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کا صدیق اکبرؓ کے بعد بلا اختلاف خلافت کے لیے انتخاب ہوا بلکہ "افضل الخلق بعدالرسلؑ" نے جن کا انتخاب فرمایا.

(38)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو اپنے دور خلافت میں اگر ایک طرف ایران پر فوجیں بھیج رہے ہیں قیصر و کسری کے سفیروں سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ایران مصر کے فاتحین کے نام فرامین جاری کر رہے ہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اور امیر معاویہؓ سے باز پرس کر رہے ہیں. یعنی اتنے عالی شان اور دبدبے والے حکمران، تو دوسری طرف سادگی کا یہ عالم ہے کہ بدن پر پیوند لگا کر تہبند پہن رہے ہیں۔ سر پر پھٹا ہوا عمامہ اور پاؤں میں بوسیدہ چپل ھے.

(39) سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو کسی وقت ممبر پر چڑھ کر خدائی احکام سنا رہے ہیں۔ تو کسی وقت مشکیزہ کندھوں پر رکھ کر محتاجوں بیکسوں اور بیواؤں کو پانی پلا رہے ہیں.

(40)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو دن کو خلافت کے امور سر انجام دیتے ہیں تو رات کو مدینہ کی گلیوں میں پہرہ دیتے نظر آتے ہیں.

(41)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو غنی اتنے ہیں کہ شاہوں کے تاج آپ کے قدموں پر نثار ہیں۔ لیکن سادہ اس قدر ہیں کہ بادشاہوں کے سفیر آپ کی سادگی کی وجہ سے پہچانتے بھی نہیں اور بھول جاتے تھے کہ کیا یہ شخص مسلمانوں کا خلیفہ ہے۔

(42)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو باطنی اقتدار کے مقابلہ میں ظاہری وجاہت کو ہیچ سمجھتے تھے.

(43)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے کہ دینی معاملات میں جس قدر سخت تھے ذاتی معاملات میں اسی قدر زیادہ نرم تھے.

(44)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے پہلی بار حکومت سطح پر تحفظ مال کے لیے "بیت المال کا ادارہ" قائم کیا.

(45)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جس کے حسن تدبیر کی برکت سے پہلی بار باقاعدہ عدالتیں قائم ہوئی٫ قاضی مقرر ہوئے.

(46)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی سیاسی قابلیت کے نتیجے میں پہلی بار فوجی دفتر قائم ہوئے اور والنٹیروں کی تنخواہیں مقرر ہوئی.

(47)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے حکم و مشورے سے "دفتر مال" قائم ہوا. پیمائش کا طریقہ جاری ہوا.

(48)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے رموز سلطنت سے تجربہ کاری کی برکت سے پہلی بار "مردم شماری" کی ترویج ہوئی.

(49)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے اپنی حکومت میں مفلوک الحال عیسائیوں اور یہودیوں کے بھی وظیفے مقرر کیے.

(50)سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے مکہ معظّمہ سے لیکر مدینہ منورہ تک مسافروں کے آرام کے لئے چوکیاں اور سرائیں بنائیں.

(51) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے شوکتِ اسلام اور رعبِ حکومت کے پیشِ نظر "فوجی چھاؤنیاں" مقرر فرمائیں۔

(52) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے تحفظِ قرآن کی غرض سے "نمازِ تراویح کی جماعت کا" باجماعِ صحابہ کرامؓ فیصلہ فرما کر قیامت تک کیلئے امتِ مسلمہ پر احسانِ عظیم کیا۔

(53) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے تراویح کو بہئیتِ کذائیہ جاری فرما کر امتِ رسولِ مقبولﷺ کو حفاظتِ قرآن کا ذریعہ فراہم کیا۔

(54) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جن کی برکت سے محلے کا محلہ آگ کی زد سے بچ گیا تھا۔

(55) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جن کے قدم کی ٹھوکر کی برکت سے مدینہ پاک زلزلے سے قیامت تک کیلئے محفوظ ہوگیا۔

(56) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے خوفِ خدا کے پیشِ نظر بیت المال سے راشن کندھوں پر اٹھا کر یتیموں تک پہنچایا۔

(57) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے انسدادِ رشوت کیلئے عمال (حکومتی گورنرز)کی تنخواہیں زیادہ سے زیادہ مقرر فرمائیں۔

(58) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جو امیر المؤمنین ہونے کے باوجود یزید بن ثابت کے سامنے مدعا علیہ بن کر پیش ہوئے۔

(59) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے "قضاۃ" کا سلسلہ جاری فرما کر مسافروں کیلئے ایک آسانی پیدا فرمائی۔

(60) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے تجویدِ قرآن کے سلسلے میں عرب جو عربیت کی تاکید فرمائی۔

(61) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے اشاعتِ قرآن کی غرض سے شام/حمص/فلسطین کے علاوہ کئی مقامات پر قرآنی مدرسے قائم کیے۔

(62) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے احکاماتِ خداوندی کے حفظ کیلئے سورۂ بقرہ / سورۂ نساء / سورۂ مائدہ / سورۂ حج / سورۂ نور کا یاد کرنا ضروری قرار دیا۔

(63) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے ملک کی سیاست کے پیشِ نظر فوج کا سٹاف، افسر خانہ / مترجم / طبیب و جراح پر مشتمل قائم فرمایا۔

(64) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جن کے وجودِ مسعود کی برکت سے یزدگرد مقدمۃ الجیش کا افسر کئی سو بہادروں سمیت مسلمان ہوگیا تھا۔

(65) فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جن کے اسلامی دبدبے کی وجہ سے قادسیہ ، جلولہ ، حلوان ، تکریت ، خوزستان، ایران ، عراق، شام، اصفہان، طبرستان، آذربائجان، آرمینا، فارس، سیستان، مکران، خراسان، اردن، حمص، یرموک، بیت المقدس، اسکندریہ، طرابلس اور الغرب وغیرہ فتح ہوئے۔

(66)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنھوں نے سیدنا امام حسینؓ کو شہزادی سیّدہ شہر بانو نکاح میں عطا فرمائیں۔

(67)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے دروازے پر سیدنا علیؓ سیدنا حسینؓ کو لیکر شادی کیلئے تشریف لائے.

(68)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے عترتِ رسولﷺ کی قدر کر کے اپنے بیٹے کے ارادے کو شہر بانو کی شادی کے لیے ترک کیا اور شہر بانو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے شہزادے کو عطا فرمائیں .

(69)فاروق اعظم وہ تھے جنہوں نے علی المرتضیؓ کے بیٹے کو اپنے بیٹے پر ترجیح دے کر حق اخوت ادا کیا.

(70)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی فتح کامرانی ولادت امام کا سبب بنی.

(71) فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے کیے ہوئے عقد کو سیدنا علیؓ اور سیدنا حسینؓ نے برقرار رکھا.

(72)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے حواریین اور گوشہ نوشینوں کی گواہی سے سیدنا امام حسینؓ کا عقد نکاح منعقد ہوا.

(73)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے دور خلافت میں فقہ کو تکمیل و ترقی نصیب ہوئی.

(74)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی عدالت کا چرچا دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گیا.اور "عدل فاروقی" ضرب المثل بنا۔

(75)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی مجلس شوری کے رکن اکابر صحابہؓ ہی ہوا کرتے تھے.

(76)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی مساعی جمیلہ کی برکت سے صرف دور فاروقی میں چار ہزار مسجدیں تعمیر ہوئیں.

(77)فاروق اعظمؓ وہ تھے جو سادگی کے پیش نظر کسی درخت کے نیچے بغیر کچھ بچائے کچی زمین پر سو جانے سے بھی نہیں گھبراتے تھے.

(78)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے بیت اللہ کے غلاف کو اعلی قسم کے غلاف سے بدلا۔ اور مستقل اسکو رواج مل گیا.

(79)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے حرم محترم کی عمارت کو وسیع کر کے اردگرد دیوار بنا کر عام آبادی سے ممتاز کر دیا.

(80)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے قحط سالی کے علاج میں 99 میل نہر پہاڑوں میں سے کھدوا کر دریائے نیل کو بحیره قلزم سے ملا دیا.

(81)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے بڑے بڑے شہروں میں مسافر خانے تعمیر کروائے.

(82)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے نہر ابو موسی کھدوا کر پیاسوں کی پیاس بجھا دی.

(83)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے مکہ اور مدینہ کے راستے میں چوکیاں،حوض اور سرائیں تعمیر کروائیں.

(84)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے اپنے گورنروں کو عدل و انصاف اور سادگی و خوف خدا کی تلقین فرما کر اور اس پر عمل کو یقینی بنا کر رعایا پر احسان عظیم فرمایا.

(85)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے متعلق تفسیر فہمی میں "غلب المسلمون فارس فی امارات عمر" تسلیم کیا گیا۔

(86)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کو داماد علیؓ ہونے کا شرف حاصل ہوا.

(87)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے قضاة کو یہ آرڈر دیدیا کہ فیصلوں کے لیے پہلے قرآن بعدہ حدیث، بعدہ اجماع، بعدہ قیاس کو قبول کیا جائے.

(88)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی جلال بھری نگاہ کو دیکھ کر والیان تاج و تخت بھی مرعوب ہو جاتے تھے.

(89)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے فتح بیت المقدس کے موقع پر باری باری چلنا تو منظور فرمایا مگر نہ اونٹنی کو تکلیف دی اور نہ ہی اپنے خادم کا حق تلف کیا۔

(90) سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو بیت المال سے راشن لےکر خود یتیموں کے دروازے پر پہنچے.

(91)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے مال غنیمت سے کبھی اپنے حصے سے زیادہ نہ لیا.

(92)فاروق اعظمؓ وہ تھے جو اس قدر محتاط تھے کہ بیت المال کے تیل سے جلتا ہوا چراغ بھی اپنے ذاتی کام کے لیے بجھا دیتے تھے.

(93)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے متعلق عیسائی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ "اگر دنیا میں دوسرا عمر ہوتا تو پوری دنیا میں کہیں کفار کا نام و نشان باقی نہ رہتا."

(94)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے "فیصلہ رسول اللہﷺ" کو نہ ماننے اور اس پر اپیل کرنے پر منافق کو قتل کر دیا.

(95)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے وقت میں ازواجؓ رسول ﷺ اور عترتؓ رسول ﷺ کو ماہانہ وظیفہ باقاعدہ طور پر ملتا رہا.

(96)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے ایک زمانہ جاہلیت کا اقرار نامہ کہ آپ سے محصول نہ لیا جائے گا پڑھ کر "لا لعمر ولا لابیه" فرمایا. اور اس ناجائز اصول کا خاتمہ کردیا۔

(97)فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے "رسول کا عمل ہی اصل دین ہے" عقیدہ کو یوں ثابت کیا کہ حجرا اسود کو چومنے سے پہلے یہ کہہ دیا "تجھے ہم نافع و ضار نہیں مانتے، ہاں تجھے ہم بوسہ صرف حضورﷺ کے بوسہ دینے کی وجہ سے دیتے ہیں."

(98)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی شکل کو دیکھ کر عیسائی عالم پہچان جاتے تھے.

(99)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے بہشتی محل کو خواب میں حضور ﷺ نے مشاہدہ کیا.

(100)فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کو حضور ﷺ نے زندگی میں کئی بار جنتی ہونے کی بشارت اپنی زبان مبارک سے سنائی.

(اللہ کی عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر کروڑہا رحمتیں ہو اور انکے طفیل سے ہماری مغفرت ہو)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 331 Articles with 175479 views »
Professional columnist/ Political & Defence analyst / Researcher/ Script writer/ Economy expert/ Pak Army & ISI defender/ Electronic, Print, Social me.. View More
01 Sep, 2019 Views: 309

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ