سسٹم میں تبدیلی درکار ہے

(Areeb ali, Karachi)
میرا اس آرٹیکل میں اس بات کی وضاحت کی جارہی ہے اگر ملک کے لوگ ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیں گے تو ملک میں ترقی نہیں آسکتی

کسی بھی ملک کی ترقی اور تنزلی کا دارومدار اس کے اس ملک میں رہنے والے افراد کے درمیان تعلقات پر مبنی ہوتا ہے یعنی اگر ان افراد کے درمیان تعلقات بہتر ہونگے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور اگر یہی تعلقات بہتر نہیں ہونگے تو یہ ملک کی بربادی کا سبب بنیں گے ہمارے ملک پاکستان کی تنزلی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ یہاں کاسٹ سسٹم یا ذات کا فرق پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے بہت سے افراد کو کسی نہ کسی شعبے میں پریشانی کا سامنا رہتا ہے جہاں اس کی شخصیت کا اندازہ اس کی کاسٹ یا اس کی ذات سے لگایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک کسی شعبے میں ترقی نہیں کر پاتا جبکہ اگر دوسرے ممالک پر نظر ڈالی جائے تو ان لوگوں میں اس چیز کا رجحان انتہائی کم پایا جاتا ہے اور وہاں کے لوگ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک کو ترقی حاصل ہوتی ہیں کہنے کو تو ہمارا ملک اسلامی ریاست پاکستان ہے جہاں تمام افراد کوئی افزا حقوق ملنے چاہیے لیکن یہاں ایسا نہیں پایا جاتا اگر ہم پاکستانی اپنے اس رویہ کو بدل لیں اور اس کا سسٹم سے باہر نکل کر کچھ ملک کی بہتری کے لئے سوچیں اور آگے بڑھ کر صرف اور صرف انسانیت کے لیے کام کریں تو ہمارے ملک کا شمار بھی دنیا کے دوسرے ترقی پذیر ممالک میں ہو سکتا ہے اور ہم لوگ بھی دنیا میں ترقی کی ایک مثال قائم کر سکتے ہیں ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اپنے خیالات اور تصورات کو بدلیں اور اپنے ملک کی ڈیولپمنٹ کے خاطر قربانی نے اور تمام حقوق سب نے یکساں طریقے سے بانٹیں تاکہ ہر فرد کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بھرپور موقع ملے امید ہے کہ میری اس تحریر کو پڑھ کر قارئین متاثر ہونگے اور اس پہلو پر ضرور نظر ڈالیں گے اور خود سے اپنی مثال آپ قائم کریں گے تاکہ دوسرے فرد بھی آپ کی اس صلاحیت سے متاثر ہوں اور بڑھ چڑھ کر اس مشن میں حصہ لیں تاکہ ہمارے ملک میں تبدیلی آئے اور ہمارا ملک دوبارہ سے ترقی کی راہ پر چل پڑے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 138 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Areeb ali

Read More Articles by Areeb ali: 4 Articles with 543 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: