"باقی ہے تمہارے رب کی ذات"

(Quratulain Ashraf, Faisalabad)

کائنات کی مشت خاک وہ مٹی ہے جو ہر کسی کو اسکی بساط کے مطابق ملتی ہے. کوئی خاک میں مل جاتا ہے اور کوئی اسی سے کائنات کا راز دریافت کر لیتا ہے. کوزے سے کسی نے پوچھا تو بھر کیوں جاتا ہے، کہنے لگا جب بساط سے زیادہ چیز ڈالی جائے تو اندر نہیں سماتی باہر ابل جاتی ہے، خالی مٹی بڑی زرخیز ہوتی ہے، اس میں نم جذب کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے، وہ اپنا حصہ لے کر جذب کرتی ہے، اور خود بھرنے سے پہلے دوسرے خالی کوزوں کو بھر دیتی ہے. انسان بھی رب سے محبت لیتا ہے لے کر انسانوں میں بانٹ دیتا ہے، اور خود اسکے احساس میں شامل حال رہ کر ماضی و مستقبل کے فاصلوں سے آزاد ہو جاتا ہے.

وہ آتا ہے، ہر جا سے سامنے آتا ہے، وہ جب تمہارے لئے معیار تقویٰ رکھ دیتا ہے تو پھر یہ جانکاری بھی تمہارے دل میں ڈالتا ہے کہ تم کہاں ہو، تم اسکے سامنے روئے، اپنے لئے، اپنی مشکلات کے لئے، تو خواہ کچھ بھی ہوا روئے تو انسان کے لئے ہی ہو، اسی زندگی کے لئے آنسو بہائے ، یہیں کے ہو رہے، تم اسکے سامنے بیٹھ کر اسکی محبت میں روتے رہے، اس لئے کہ وہ تمہارا رب ہے، کائنات کا وارث ہے، تمہاری کیا مجال کہ اسکے سامنے اسکی اجازت کے بنا بیٹھ بھی سکو اور اپنے آنسوؤں کو اسکی جانب منسوب کر سکو، لیکن اسے ہر پل ساتھ محسوس کرنے کے بعد، اسکے لئے جینے، اسکے لئے آنکھ بند کرنے اور کھول لینے کے بعد بھی لگا کہ تم نے اسے پا لیا ہے...تم راہ دیکھتے رہے، اپنی جذب و مستی کے منظر میں گھومتے رہے، گھنگھور گھٹاؤں اور فضاؤں کے راز تک جاننے کے درپے رہے، تو کیا تمہیں لگا کہ تم نے اس ہستی کا راز پا لیا جو ستار العیوب ہے. جو سب کچھ جان کر خاموش رہتا ہے، تو گھٹن میں نہ رہو، جان لو کہ جو راتوں کو اٹھ کر سجدوں میں روتے رہے، اس سے بخشش مانگتے رہے، وہ بازی لے گئے.

غور کرو کہ تمہاری محبت کا معیار کیا رہا، وہ خود ہی تو کہتا ہے " الله کی قدر نہ جانی جیسے چاہیے تھی" کیا تم نے ایسی الله کی قدر کی، کیا تم نے اپنی سب محبتوں سے بڑھ کر اس سے محبت کی، یہ سوال تمہارے اندر کو جھنجھوڑتا ہے، تو سوچو یہ جو خلش تمہارے اندر پلتی ہے، یہ بے قراری جو تمہیں اندر سے کھائے جاتی ہے، کہ تو نے اسکی محبت کا حق ادا نہ کیا، تمہاری آنکھوں کو نم نہیں کرتی؟ تمہیں تلاش پر مجبور نہیں کرتی؟ پس یہ احساس کہ تم محبت کا حق ادا نہ کر سکے " محبت ہے". خالق کائنات سے محبت ہے، محبت میں انسان محبوب کا ہی تو ہو کر رہنا چاہتا ہے، ایسی محبت جسے الله اپنے لئے پسند کرتا ہے، وہ جانتا ہے تم اسی کے ہو، وہ چاہتا ہے تمہیں اپنی محبت میں مزید مظبوط کر دے، اسے تمہاری چاہت، تمہارا احساس، تمہارا رونا، تمہاری محبت کے اشک ہی تو پسند ہیں. تو کیا کسی کو آج تک معلوم ہوا کہ اسے ان اشکوں کا جواب ملا ہے، ہاں اسے جواب ملتا ہے، جو الله کو چاہے، پھر الله کو چاہے، اور اسکی ہر بات الله ہی سے منسوب ہو جائے. جو ذکر کرتا ہے وہ اسی ذکر میں تو رنگا جاتا ہے، اس پر وہ رنگ چڑھتا ہے جو دنیا نہیں دیکھتی، یہ تو بہت ہی کم واقف ہوتی ہے، بلکہ اسے وہ ہستی دیکھتی ہے جس نے وہ رنگ عطا کیا ہو.

الله سے محبت کا تقاضہ فنا ہو جانا ہے، ایسی فنا کہ انسان کا جسم تو باقی رہ جائے لیکن اسکی روح اسی کی ہو کر رہے جو اسکا وارث ہے، یہ فنا ذاتی فنا نہیں ، جذبی فنا نہیں، اصلاحی فنا نہیں ، محبت کی فنا ہے، کہ ہاتھ تو اٹھے ہوں ، دل درد سے بھاری ہو، لذت انجام کا پہرا دل پر موجود ہو ، وہ غنی پاس ہو، روح ایک مخصوص طواف میں ہو ، ذکر جاری ہو، سماعتوں اور بصیرتوں یر اسکا پہرا ہو ، وجود ریزہ ریزہ ہو، مٹی کا محل منہدم ہونے کو ہو، ندا یہ ہو کہ میں، نہیں بس "تو" ہے، تو ہی ہے جو چار سو ہے، میری ہستی فنا، جسے کل فنا ہونا ہو اسکا وجود آج بھی کہاں ہو گا، وہ دنیا کی نظر میں موجود تو ہے، لیکن اُس ہستی کے سامنے ذرے کی کیا حیثیت ہے، وہ مالک کل عالم ہے، وہ چاہے تو آرزؤں کے مینار کو بلند رکھے اور اسکی منشا ہو تو دل کو خالی کر کے اسے اپنی ہستی کا کعبہ بنا دے. کعبہ بھی بتوں سے خالی ہے، اوروہ دل کعبہ ہے جس میں خواہشوں کے مجسمے موجود نہ ہوں. اس میں تو ایک تصور ہو ،ایک پاکیزگی ہو ، ایک نگاہ ہو، ایک جلال ہو ، ایک خیال ہو، ایک رت ایک ہی ٹھہراؤ ہو، جہاں مکان تو لامکاں ہو لیکن موجودگی ہر جا ہو، جہاں الله موجود ہو. ہتھیلی اشکوں سے معمور ہو. اور صدا آتی ہو کہ " تو میرا ہے".

جان لو کہ سجدوں سے جبینیں مہکتی ہیں، اشکوں سے آنکھوں کے چراغ جلتے ہیں اور اسکی محبت دل کو منور کرتی ہے، اسکے احساس کے بغیر نہ دن ہے نہ رات ، سب خالی ہے، کہ یہ جہان اسکے "کن" کی تعمیل ہے. وہ جو "کن فیکون" کا مالک ہے وہی سب کا حاکم اور پروردگار ہے. تو اسکے ہو جاؤ، مان لو کہ اسکی محبت کے بنا سب محبتیں ادھوری ہیں ، خام ہیں، وہ جو تم سے بے پناہ محبت کرتا ہے ، وہ جو صرف دعوی نہیں کرتا، تم پر مہربانی کا ہاتھ رکھتا ہے،تمہیں تھامتا ہے، اسکے سوا کون ہے جو موت کے بعد بھی تم سے مہربانی ، رحمت اور شفقت کا وعدہ کرتا ہے، صرف اسی کا ساتھ سچا ہے جسکی محبت لازوال ہے. پس وہ کرو جو الله کہتا ہے ، وہ چاہو جو الله چاہتا ہے ، اس سے محبت رکھو جس سے الله محبت رکھتا ہے، پھر کوئی شے نا پسند نہیں رہتی. اور جو الله کے لئے خود کو بدلے الله بھی اسکا جہاں بدل دیتا ہے. وہ کسی کو مایوسی کی دلدل میں پھنسنے نہیں دیتا. وہ ایسا محبوب ہے جو اپنے بندے کی محبت سنبھال کر رکھتا ہے. وہی اچھا بدلہ دینے والا ہے. اور باقی رہنے والی صرف رب کی ذات ہے.

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 785 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Quratulain Ashraf

Read More Articles by Quratulain Ashraf: 7 Articles with 4250 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ