حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی

(اعجاز حسین سیالوی, میانوالی)


حضرت شیخ نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ کا دل انوار منزل ہمیشہ کتب معتبرہ تصوف کے مطالعہ کی طرف مائل رہتا تھا۔ آپ تفسیر و حدیث ، اصول و کلام اور فقہ امام ابوحنیفہ میں استخصار تمام رکھتے تھے ____ اس وقت دہلی میں ایک بہت بڑے عالم خواجہ شمس الدین خوارزی رحمتہ اللہ علیہ موجود تھے جنہیں بعد میں سلطان غیاث الدین بلبن نے شمس الملک کا خطاب دیکر منصبِ وزارت تفویض کیا۔ وزیر ہونے سے پہلے شمس الملک درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ ان سے مل کر ان کے شاگردوں کی سلک میں منسلک ہوگئے ۔ ان کے پاس ایک حجرہ خاص مطالعہ کے واسطے تھا جس میں صرف تین شاگرد ( جو انتہائی ذہین اور صاحبِ استعداد ہوتے) سبق پڑھتے تھے۔ باقی سب شاگرد حجرہ کے باہر سبق پڑھتے۔حضرت شیخ نظام الدین کے زمانہ تدریس مین ان تین خوش قسمت شاگردوں میں سے ایک ملا قطب الدین ناقلہ ، دوسرے ملا برہان الدین عبدالباقی ، اور تیسرے حضرت شیخ نظام الدین اولیا تھے ______
شمس الملک خواجہ شمس الدین خوارزی کو جب حضرت شیخ نظام الدین اولیا کی تیزی فہم اور ذہانتِ طبعی کا اندازہ ہوا تو وہ سب شاگردوں سے زیادہ ان کی تعظیم کرنے لگے۔ مولانا شمس الدین کی عادت تھی کہ کسی روز کوئی شاگرد مدرسے میں نہ آتا تو اگلے روز اس سے ازرہِ دل لگی فرماتے:میں نے کیا قصور کیا تھا کہ تو غیر حاضر ہوا ____ مجھے بتا، تاکہ میں پھر وہی قصور کروں، لیکن شیخ نظام الدین اولیا جب کسی وجہ سے مدرسے میں نہ آتے تو مولانا شمس الدین انہیں یاد کرکے یہ شعر پڑھتے۔

باری کم از آنکہ گاہ گاہے
آئی و بما کنی نگا ہے

حضرت نظام الدین اولیا زمانہ تدریس میں حضرت شیخ نجیب الدین متوکل (برادر حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر) کے ہمسایہ تھے۔جو بہت سے علماء دہلی پر فوقیت رکھتے تھے۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیا اکثر ان کی صحبت بابرکت مین بیٹھتے اور مستفیض ہوتے۔
شیخ نظام الدین اولیا تدریس سے فارغ ہوکر مراتبِ عالیہ پر فائز ہوئے تو انہیں معاش کی فکر ہوئی۔ ایک روز انہوں نے دورانِ گفتگو شیخ نجیب الدین متوکل سے کہا کہ میرے لیے دعائے خیر فرمائیں کہ میں کسی مقام کا قاضی مقرر ہو جاوں اور خلقِ خدا کو انصاف سے راضی کروں۔ حضرت شیخ نجیب الدین یہ سن کر خاموش ہوگئے اور کوئی جواب نہ دیا۔ شیخ نظام الدین اولیا کو گمان گزرا کہ شاید شیخ نجیب الدین متوکل نے ان کی بات نہیں سنی۔ اس لیے دوبارہ باآوازِ بلند کہا : حضرت ! دعا فرمائیے کہ میں کسی مقام کا قاضی بن جاوں۔ اس مرتبہ شیخ نجیب الدین متوکل نے فرمایا _______ نظام الدین ! قاضی نہ بنو ، کچھ اور بنو۔ پھر مشورہ دیا کہ میرے بھائی شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر سے ملاقات کرو۔
اس رات شیخ نظام الدین اولیا جامع مسجد دہلی میں مقیم تھے ۔ اتفاق سے صبح اذان سے قبل موذن نے مینارہ پر کھڑے ہوکر یہ آیت پڑھی :
الم یان للذین آمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ۔
یہ سنتے ہی حضرت کا حال متغیر ہوا اور نورِ الہی نے ان کو گھیر لیا۔اس وقت شیخ العالم فرید الدین مسعود گنج شکر کی بزرگی اور کرامات کا شہرہ عالمگیر تھا۔ یوں بھی شیخ نجیب الدین متوکل کی مجالس مین غائبانہ حضرت شیخ العالم کی سیرت کے اوصاف سن کر شیخ نظام الدین اولیا ان کی زیارت کے پہلے ہی مشتاق تھے۔ اب جو صبح ہوئی تو بغیر زادِ راہ کے پیادہ پا قصبہ اجودھن (پاک پتن شریف ) کی سمت روانہ ہوگئے اور پنجشنبہ کو ظہر کی نمازکے وقت حضرت شیخ العالم کی زیارت باسعادت سے مشرف ہوئے۔ حضرت شیخ العالم نے انہیں دیکھتے ہی یہ شعر پڑھا۔

اے آتشِ فراقت جانہا خراب کردہ
سیلاب اشتیاقت دلہا کباب کردہ

شیخ نظام الدین نے چاہا کہ شیخ العالم سے اپنے دلی اشتیاق و اخلاص کا حال بیان کریں ۔ لیکن ان پر اس قدر سہشت غالب ہوئی کہ کچھ عرض نہ کرسکے۔ حضرت شیخ العالم نے ان کی یہ حالت مشاہدہ کرکے فرمایا:
لکل دخیل دھشۃ۔پھر بڑی محبت سے فرمایا : مرحبا ، خوش آمدید۔ ان شاءاللہ العزیز دینی و دنیوی نعمتوں سے سرفراز ہوگے پھر شیخ نظام الدین اولیا نے حضرت شیخ العالم سے خرقہ درویشی پایا اور مریدانِ خاص کی سلک میں منتظم ہوئے _______
ان دنوں حضرت شیخ العالم گنج شکر نہایت تنگ دستی میں مبتلا تھے آپ کے متعلقین اور فرزند اکثر فاقہ سے وقت گزارتے اس کے باوجود خانقاہ فلک پائی گاہ کا کوئی فرد آرزردہ و دلگیر نہ تھا۔ ہر ایک کے چہرے پر صبر و شکر کی رونق تھی ۔ مولانا بدر الدین اسحاق بخاری کہ جامع منقول و معقول تھے ، لنگر خانہ کے لیے جنگل سے روٹیاں لاتے اور مولانا شیخ جمال الدین ہانسوی صحرا سے ڈیلے (جس کا لوگ عموما اچار بناتے ہیں) لاتے اور مولانا حسام الدین کابلی پانی لاتے اور لنگر خانہ کی دیگیں دھوتے۔اور شیخ نظام الدین اولیاء ازروئے صدق و صفا کھانا تیار کرتے اور افطار کے وقت شیخ العالم کی مجلس میں درویشوں کے سامنے پیش کرتے ____
ایک دن جب تمام حاضرین مجلس اپنے اپنے موام پر بیٹھ گئے اور کھانا سامنے رکھا گیا تو حضرت شیخ العالم نے لقمہ اٹھا کر فرمایا ۔ یہ لقمہ میرے ہاتھ میں گراں معلوم ہوتا ہے ۔ یہ کہہ کر لقمہ کاسی میں رکھ دیا۔
شیخ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ شیخ العالم کا یہ کلام سنتے ہی میرا بدن کانپنے لگا ۔ فوراً ایستادہ ہوکر نہایت ادب سے عرض کیا: غریب نواز : لکڑیاں اور ڈیلے اور پانی مولانا بدر الدین ، مولانا حسام الدین اور شیخ جمال الدین لائے ہیں ، شبہ کا سبب معلوم نہیں غریب نواز پر سب حال روشن ہے _____
شیخ العالم نے فرمایا _____ سالن میں جو نمک ڈالا گیا ہے وہ کہاں سے آیا ہے؟ شیخ نظام الدین نے یہ سنتے ہی سر زمین پر رکھ کر عرض کی: آج خانقاہ میں کچھ موجود نہ تھا ، اس لیے دیگ میں نمک قرض لیکر ڈالا ہے۔شیخ العالم نے ارشاد فرمایا : فقراء فاقہ سے مر جائیں تو بہتر ہے ، لیکن لذتِ نفس کی خاطر انہیں کسی سے قرض نہیں لینا چاہیے۔ کیوں کہ قرض اور توکل کے درمیان بعد المشرقین ہے کہ اگر ادا نہ ہو تو اس کا وبال قیامت تک مقروض کی گردن پر رہے گا۔ پھر فرمایا کہ یہ کھانا درویشوں کے آگے سے اٹھا کر محتاجوں میں تقسیم کردیا جائے_____"
شیخ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں کبھی کبھار دوسرے لوگوں کی طرح ضرورت کے وقت قرض لے لیا کرتا تھا ، لیکن میں نے اس روز پکا ارادہ کیا کہ آئندہ کبھی سخت ضرورت میں بھی قرض نہ لوں گا۔ حضرت شیخ العالم نے وہ کمبل جس پر وہ تشریف فرما تھے ، مجھے عنایت فرمایا اور دعا فرمائی : الہ العالمین ! آئندہ نظام الدین کو کبھی قرض کا محتاج نہ کرنا۔ایک مدت کے بعد شیخ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ خدمت گزاری اور اطاعت شعاری سے مرتبہ کمال کو پہنچے تو شیخ العالم نے انہیں خلقِ خدا کی ہدایت و تکمیل کی اجازت دے کر۶۵۹ ہجری کو دہلی میں روانہ فرمایا_____
دہلی میں شیخ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے غیاث پور میں سکونت اختیار فرمائی ۔ یہاں دو شخص آپ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔ ایک شیخ برہان الدین غریب (جو دولت آباد دکن میں مدفون ہیں) اور دوسرے شیخ کمال الدین یعقوب (جن کا مزار پٹن گجرات میں واقع ہے) یہ دونوں بزرگ دوسرے خلفاء سے پہلے خرقہ خلافت پاکر تحصیل کمال اور ریاضت نفس میں مشغول ہوئے۔ غیاث پور میں شروع شروع میں نہایت تنگی سے گزر اوقات ہوتی تھی ۔ اکثر ایسا ہوتا کہ چار چار روز تک کھانے کو نہ ہوتا۔ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء اور دیگر درویش پانی سے روزہ افطار کرتے۔ انہی دنوں ایک صالحہ عورت نے جو حضرت سے توسل رکھتی تھی اور ہمسایہ میں رہتی تھی۔ سوت کات کر گندم خریدی اور کچھ آٹا حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں بطور نذرانہ بھیجا _____
حضرت سلطان المشائخ نے شیخ کمال الدین یعقوب سے فرمایا کہ اس آٹے کو دیگ میں ڈال کر پکاو شاید کسی آنے والے کا حصہ ہے۔ شیخ کمال الدین اس کو پکانے میں مشغول تھے کہ اچانک ایک درویش گڈری پوش کسی مقام سے وارد ہوے اور آتے ہی حضرت سلطان المشائخ سے کہا : جو ماحضر ہے ، اس سے دریغ نہ کر۔حضرت نے فرمایا: آپ چند لمحے استراحت فرمائیں ۔ ابھی کھانا تیار ہوتا ہے تو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔درویش نےکہا ______ جیسا بھی ہے ، فورا لے آو۔یہ سن کر حضرت اٹھے اور دونوں ہاتھوں سے پکتی ہوئی دیگ کے کنارے پکڑ کر ان کے سامنے لائے ______ درویش نے دیگ اٹھا کر زمین پر دے ماری اور فرمایا ______ شیخ فرید الدین گنج شکر نے نعمت باطنی شیخ نظام الدین اولیاء کو ارزانی فرمائی اور میں نے ان کی ظاہری محتاجی کی دیگ کو توڑ ڈالا۔ یہ کہا اور سب کی نظروں سے اوجھل ہوگئے______
اس کے بعد تو یہ ہوا کہ ہزاروں لاکھوں آدمی حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوکر مرید ہوئے اور خرقہ خلافت پا کر درجہ عالی اور مقام متعالی پر فائز ہوئے۔
خیر المجالس میں‌ ہے کہ ایک دن مولانا حسام الدین نصرت خانی اور مولانا جمال الدین نصرت خانی اور مولانا شرف الدین کاشانی حضرت شیخ المشائخ کے روبرو بیٹھے تھے۔ شیخ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اگر کوئی شخص دن کو صائم اور رات کو قائم رہے تو یہ کام نہایت سہل ہے کہ بیوہ عورتیں بھی یہ کام کرسکتی ہیں۔ لیکن مشغولی حق کہ مردانِ طلب گار اس کی بدولت بارگاہ پروردگار میں راہ پاتے ہیں اور مشاہدہ ذات کی دولت سے فیض یاب ہوتے ہیں ، وہ ان عبادتوں سے ماوراء ہے۔ حاضرین مجلس نے جب یہ کلام سنا تو خیال کیا کہ شیخ کسی خصوصی عبادت کا ذکر فرمائیں گے لیکن حضرت شیخ المشائخ نے فرمایا: انشاء اللہ تعالی میں کسی مناسب وقت پر اس کا تذکرہ کروں گا۔ عزیزوں نے کئی ماہ اس انتظار میں گزار دئیے۔
ایک روز یہ سب حضرات مجلس میں حاضر تھے کہ محمد کاشف (جو سلطان علاو الدین خلجی کے دیوان کا داروغہ تھا) وارد ہوا اور حضرت کے سامنے مودب بیٹھ گیا۔ حضرت نے پوچھا : محمد کاشف! کہاں تھے؟عرض کی: غریب نواز ! دیوان عام میں تھا۔ آج تو سلطان علاوالدین خلجی نے پچاس ہزار روپے بندگانِ خدا کے واسطے انعام فرمائے ہیں۔یہ سن کر حضرت شیخ نے مولانا حسام الدین نصرت خانی اور دوسرے حاضرین کو متوجہ ہوکر فرمایا:بھلا بتاو ، بادشاہ کا یہ انعام بہتر ہے یا عہد کا وفا کرنا بہتر ہے جو ایک دفعہ میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا؟یہ سن کر سب حاضرین آداب بجا لائے اور عرض کی ____ وفائے عہد ہش بہشت سے بہتر ہے۔ پچاس ہزار نقرہ کی کیا حیثیت ہے!
سلطان المشائخ نے تینوں بزرگوں کو قریب بلایا اور باقی حاضرین کو رخصت کرکے ارشاد فرمایا: مقصود تک پہنچنے کا راستہ خلوت میں مشغولی حق ہے ۔ طالب کو چاہیے کہ بے ضرورت باہر نہ آئے اور ہمیشہ باوضو رہے ، سوائے وقتِ قیلولہ کے کہ اس وقت غلبہ خواب ہوتا ہے۔ ہمیشہ صائم الدہر رہے ، یہ ممکن نہ ہو تو کم سے کم غذا پر قناعت کرے اور سوائے ذکر حق اور شدید ضرورت کے کبھی زبان نہ کھولے۔ اہل دنیا سے مختصر کلام کرے۔ منقول ہے کہ یہ تینوں مشائخ حضرت شیخ نظام الدین اولیا کے انفاس کی برکت سے ان صفاتِ عالیہ سے متصف ہوئے اور کامل ہو کر جملہ واصلین سے ہوئے_____"
مولانا شہاب الدین امام سے منقول ہے کہ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء ایک روز حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے۔ میں اور مولانا برہان الدین غریب ہمراہ تھے۔ حضرت سلطان المشائخ حضرت خواجہ قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت کرکے حوض شمسی کے کنارے رونق افروز ہوئے۔ وہاں اس وقت خواجہ حسن علاء سنجری (کہ سن اس کا پچاس برس سے زیادہ تھا ) یاروں کے ساتھ مے نوشی میں مشغول تھا۔ جب اس نے شیخ کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ کے سامنے آکر یہ دو شعر پڑھے ____
سالہا باشد کہ باہم صحبتیم
گر ز صحبتہا اثر بودی کجاست
زہد تاں فسق از دل ما کم نہ کرد
فسق ما یاں بہتر از زہد شماست

حضرت شیخ نے یہ اشعار سنے تو فرمایا _____" صحبت میں تاثیر ہوتی ہے۔ انشاء اللہ تمہیں نصیب ہوگی۔یہ سننا تھا کہ خواجہ حسن سر بر ہنہ حضرت کے قدموں میں گر پڑے اور تمام مناہی سے تائب ہو کر رفقاء سمیت مرید ہوئے۔ بعد میں خواجہ حسن نے حضرت کے ملفوظات پر مشتمل کتاب "فوائد الفواد" تصنیف کی۔ جس کے بارے میں حضرت امیر خسرو نے کہا کہ کاش میری تمام تصانیف خواجہ حسن کے نام منسوب ہوتیں اور ان کی کتاب فوائد الفواد میرے نام منسوب ہوتی ________!!!!!!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 150 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: اعجاز حسین سیالوی

Read More Articles by اعجاز حسین سیالوی: 2 Articles with 272 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ