اخلاق حسنہ

(MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, Jhelum)
“آپ ﷺکی بلندپایہ تعلیمات اور اخلاق حسنہ ہی کا نتیجہ اور ثمرہ تھا کہ بڑے بڑے ظالم و جابر اور سنگدل انسان مذہب اسلام کو قبو ل کرنے پر مجبوراوردیکھتے ہی دیکھتے اسلام کی صاف شفاف تعلیمات کے ذریعے سے اپنے قلو ب و اذہان کو منور کر لیا ،اور مشرف بہ اسلام ہو گئے ، اس لیے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے حبیب کو شیریں کلام، فصاحت وبلاغت اور جوامع الکلم سے نوازاتھااور ایسے بلند و بالا اخلاق پر فائزکیاتھا کہ دوست تو کیا دوشمن بھی آپ کی تعریف و توصیف بیان کرنے پر مجبور ہوجایاکرتے تھے

’’اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو اس کثرت سے خصائل، فضائل،صلاحیتیں، خصلتیں اور سعادتیں عطا کی ہیں کہ جن کو کوئی بھی شمار نہیں کرسکتا۔ فضائل میں آپ ﷺ کی شان کو اللہ نے لامحدود بنایا اور ان کا ذکر بھی قرآن میں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو اپنے دست قدرت سے سنوارا ہے اوربنایاہے، لہذا آپ ﷺ کے سارے اوصاف ہی عظیم ہیںمگر اخلاق ایسا وصف جس کے بارے میں فرمایا کہ یہ خوبی عظیم ہےاﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضور نبی کریم ﷺ کے خلق عظیم کی عظمت یوں بیان فرمائی ہے”بے شک آپ کو خلق عظیم عطا کیا گیا“حضرت عائشہ صدیقہؓ سے حضور اکرم کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا توآپؓ نے فرمایا کہ رسول اﷲ ﷺ کا خلق قرآن مجیدہے حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ”میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں“آپ ﷺکی بلندپایہ تعلیمات اور اخلاق حسنہ ہی کا نتیجہ اور ثمرہ تھا کہ بڑے بڑے ظالم و جابر اور سنگدل انسان مذہب اسلام کو قبو ل کرنے پر مجبوراوردیکھتے ہی دیکھتے اسلام کی صاف شفاف تعلیمات کے ذریعے سے اپنے قلو ب و اذہان کو منور کر لیا ،اور مشرف بہ اسلام ہو گئے ، اس لیے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے حبیب کو شیریں کلام، فصاحت وبلاغت اور جوامع الکلم سے نوازاتھااور ایسے بلند و بالا اخلاق پر فائزکیاتھا کہ دوست تو کیا دوشمن بھی آپ کی تعریف و توصیف بیان کرنے پر مجبور ہوجایاکرتے تھے
موطا امام مالک میں حضرت معاذ بن جبلؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺنے مجھے یمن بھیجتے وقت جو آخری وصیت رکاب پر پاؤں رکھتے وقت فرمائی وہ یہ تھی ”لوگوں کے ساتھ بہتر اخلاق سے پیش آنا“ حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”مومن اپنی خوش اخلاقی کے ذریعہ رات کو عبادت کرنے والے اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھنے والے شخص کا درجہ پا لیتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کان خلقہ القرآن کہہ کر آپﷺکو قرآن پاک کی عملی تفسیر قرار دیا ہے۔آنحضرتﷺنے مکارم اخلاق کو جن رفعتوں سے نوازا ان کی مثال پیش کرنے سے تاریخ آج تک قاصر ہے۔ آپﷺنے اپنے پیروکاروں کو بھی اچھی عادات اور بہتر معاملات کی تلقین فرمائی ہے۔ اور اخلاق کریمانہ انہی دو امور سے عبارت ہے۔
• ایک حدیث میں ارشاد نبویﷺہے مجھے تم سب میں سب سے زیادہ اچھا وہ شخص لگتا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور سب سے برا میرے نزدیک وہ ہے جو برے اخلاق کا حامل ہے۔اوکماقال علیہ الصلوۃ والسلام
• ایک اور حدیث کے مطابق آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صاحب ایمان شخص اچھے اخلاق کی بدولت ان لوگوں جیسا مقام حاصل کر لیتا ہے جو رات بھر نفل پڑھنے اور دن کو روزہ رکھنے کے عادی ہیں۔
• ایک حدیث میں یوں ارشاد فرمایا کہ زیادہ کامل ایمان ان لوگوں کا ہے جو اچھے اخلاق والے ہیں۔
• ایک صحابیؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! انسان کو سب سے بہتر چیز کون سی عطا ہوئی ہے؟ فرمایا، اچھے اخلاق۔
• حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی اکرمﷺنے آخری ملاقات میں جو وصیت کی اس میں فرمایا کہ تم لوگوں کے ساتھ اپنے اخلاق بہتر بناؤ۔
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمﷺنے فرمایا کہ جس نے جھوٹ ترک کر دیا اس کا ٹھکانہ جنت کے آغاز میں ہوگا، جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا ترک کیا اس کا ٹھکانہ جنت کے درمیان ہوگا، اور جس نے اپنی ساری عادات و اخلاق کو بہتر بنا لیا اسے جنت کے سب سے اوپر والے حصہ میں جگہ ملے گی۔
حضور اکرم ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی اختیار فرماتے تھے۔ آپ کاایک کے ساتھ برتاؤ نرمی و اخلاق سے ہوتا۔ آپ کی خندہ پیشانی ،تحمل و بردباری اور خوش خلقی ہرخاص وعام کےلئےتھی۔ آپﷺ کے اخلاق کریمانہ میں یہ بات شامل تھی کہ اگر کوئی نیک کام کرتا تو اس کی تعریف فرماتے اور خوش ہوتے اگر کوئی برا کام کرتا تو اسے روکتے‘ آپ خود بھی نیکی میں جلدی کرتے۔ آپ جب نصیحت فرماتے تو تمام لوگوں کو مخاطب فرماتے۔جو کوئی آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا مایوس نہ لوٹتا۔ آپ کی شفقت و رحمت مخلوق باری تعالیٰ کیلئے عام تھی۔ آپﷺ ہر ایک سے گفتگو کرتے وقت سلام سے ابتداءفرماتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں کوئی چیز تقسیم فرماتے توہر ایک کومساوی حصہ عطا فرماتے اور کسی کو محروم نہ فرماتے۔ ہر ایک کو یہ گمان ہوتا کہ وہی پسندیدہ ہے۔ ہمیں اپنے پیارے نبی اکرم کے اخلاق حسنہ کے مطابق زندگی گزارنی چاہئےتاکہ پیار و محبت کے پھول کھلیں اور ماحول میں آلودگی ختم ہو معاشرہ کے اندر زندہ رہتے ہوئے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انسان کو کسی راستے پر رہنمائی کر کے لے جانا آسان ہے مگر اس کا راستے پر بزور دھکیل کر لے جانا بہت مشکل ہے۔ تلوار کی نسبت تبسم سے مجبور کرنا اچھا ہے۔ اکثر افراد لیاقت سے نہیں بلکہ محض اخلاق کے زور پر قوت اور اثر پیدا کر لیتے ہیں۔ دوسروں کی جائز خواہشات کو جہاں تک عقل مندی اور راست بازی اجازت دے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ دنیا کے معاملات میں جذبات کو بہت بڑا دخل ہے۔ ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ مہربانی ‘ اخلاق اورمحبت و مروت سے پیش آیا جائے۔خالق کی خوشنودی اور مخلوق میں ہردلعزیزی حاصل کرنے کے لئے اخلاق سب سے بڑا سب سے بہتر اور سب سے آسان ذریعہ ہے۔ انسان ہزار عالم و فاضل اور عابد و زاہد ہو اگر وہ اوصاف اخلاق سے محروم ہے تو اس کے علم و فضیلت اور عبادت و زہد سب ہیچ ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کے اخلاق کریمانہ میں یہ بات بھی شامل تھی کہ آپ مدینہ منورہ کی گلیوں میں انصاری بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے تو ان کے سروں پر محبت و شفقت سے دست مبارک رکھتے اور انہیں سلام کہتے۔ ان کے لئے دعا فرمایاکرتے۔ اگر کوئی صحابیؓ آدھی رات کے وقت بھی مہمان بناتا تو آپ تشریف لے جاتے اور آرام کا عذر نہ فرماتے۔
آپ ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤکرتے ۔ ہم عظیم ترین رہبر اسلام کے امتی ہیں اوران کے ساتھ محبت کے دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کے لئےآپ ﷺکی اوصاف کو زندگی کا حصہ بنانا انتہائی ضروری ہے بلکہ اسی میں نجات ہےموجودہ حالات میں اخلاقی کمزوریوں سےمعاشرہ بھرا پڑا ہے جہاں مسلمان مسلمان کا خیر خواہ ہونا چاہئے تھا وہاں اس نے اپنے بھائی کو مالی اور اخلاقی طور سے پریشان کرنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ علم حاصل کرنے والا شخص اخلاقیات کا نمونہ ہو اور اس کے علم کی خوبصورت جھلک اس کی گفتاراور کردار سے نظر آئے لیکن یہاں اخلاقی پستی نے امت مسلمہ کو اپنی پہچان سے دور کر دیا ہے۔ محبت رسول ﷺکے دعویٰ اپنے آپ کو صادق ثابت کرنے کے لئےآپ ﷺکی اوصاف وصفات اخلاق کریمانہ کو زندگی کا حصہ بنانا ہو گا
اﷲ تعالی سب کی خیر فرمائےعالم اسلام کی خیر فرمائے سب کو آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 314 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI

Read More Articles by MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI: 111 Articles with 83810 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ