بھیک مانگنا: مجبوری یا پیشہ

(Maaz Jilani, Karachi)

صاحب صبح سے بھوکا ہوں کچھ کھانے کو دے دوں! باجی میری ماں بیمار ہے علاج کے لیے پیسے دے دیں! بیٹا مدد کرو معذور ہوں میں۔

یہ اور اس طرح کے کئی جملے میں روزانہ کی بنیادوں پر ہسپتالوں کے باہر،مرکزی شاہراہوں،ریسٹورنٹس اور اور کراچی کے ہر سگنل پر دن میں سینکڑوں بار کال سننے کو ملتے ہیں۔آج کے دور میں گداگری تیری سے پروان چڑھ رہی ہے۔ویسے تو یہ ایک لعنت تصور کی جاتی ہے لیکن اگر حالات حاضرہ کی بات کی جائے تو یہ ایک منظم پیشے کی صورت اختیار کر چکا ہے اس میں ہر عمر کے مرد اور عورت اور بچے شامل ہیں۔ان پیشہ ور بھکاریوں کی وجہ سے اصل حقدار محروم ہوجاتے ہیں ۔اکثر پیشہ ور بھکاریوں کی قسموں میں نقلی معذور ،معصوم بچے، مرد اور عورتیں شامل ہیں جو اپنی نام نہاد مجبوری کو جواز بنا کر عوام کو پاگل بنا رہے ہوتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں گداگروں کی تعداد 25 ملین ہے۔بڑھتی ہوئ مہنگائی اور قوت خرید کم ہونے کے باعث غریب ترین خاندانوں کے افراد مانگنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کی 24 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جس کی وجہ سے گداگروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔گداگری اب ہمارے ملک میں ایک پیشے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کے پیچھے بڑے مافیا گروپ سر گرم عمل ہیں جو بہت تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔یہ مختلف علاقوں سے بچوں کو اغواء کر کے معذور بناتے ہیں اور دوسرے شہر لے جا کر مخصوص مقامات جیسے درگاہوں، سگنلوں اور بازاروں میں بھیک منگواتے ہیں اور اسکے ذریعے وسیع منافع کماتے ہیں۔

کراچی،پاکستان کس سب سے بڑا شہر اور معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔جہاں ہر 100 میں سے ایک افراد گداگری سے منسلک ہے ۔عیدوں اور دیگر اور دیگر تہواروں پر ملک بھر سے گداگر کراچی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اچھی کمائ کرسکیں اور سیزن ختم ہو نے کے بعد اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔ سگنل ہو یا مسجد، ہوٹل ہو یا بازار غرض شہر میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں یہ پیشہ ور بھکاری مانگ مانگ لوگوں کو تنگ نہ کریں ۔ ان پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے شہر میں جرائم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی بد ترین ہوتی جا رہی ہے۔ہمارا مذہب اسلام بھی حلال طریقے سے روزی کمانے کا حکم دیتا ہے اور گداگری جیسے فعل کو انتہائی برا عمل گردانتا ہے۔ کیونکہ بھیک مانگنا ایک ایسا عمل ہے جو کہ نہ صرف معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر تا ہے بلکہ توازن میں بھی بگاڑ پیدا کرتا ہے۔

مغربی پاکستان خانہ بدوش آرڈیننس 158 کے تحت گداگری ممنوع ہے لیکن اس قانون پر کوئی عمل درآمد نہیں کروایا جاتا ہے ۔ بلکہ محکمہ پولیس میں بھی ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو ان مافیا گروپوں کو یہ دھندہ چلانے میں معاون کردار ادا کر رہی ہیں۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ اس گداگری جیسے ناسور کو معاشرے سے ختم کر نے کے لئے فی الفور ایکشن لے۔ یہ صرف حکومت نہیں بلکہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کو بھیک نہ دے کر انکی حوصلہ شکنی کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے پر وگرام متعارف کروایں جس کے تحت انہیں کوئی ہنر سکھایا جائے تاکہ وہ اپنے لیئے اور اپنے گھر والوں کے لیے عزت سے روزی کما سکیں اور اس ملک کے کارآمد شہر ی بن سکیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 622 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maaz Jilani
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: