لال تحریک اور پس پردہ عزائم

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ملک صداقت فرحان
لال ٹماٹر، لال گاجر، لال جاپانی پھل، لال اسٹرابری، لال چیری، لال انار، لال سیب اور لال طوطے کے بعد حاضر خدمت ہے لال تحریک۔۔۔ جی ہاں لال تحریک۔دنیا بھر میں خاص طور پر پاکستان میں ویسے تو بہت سی تحریکیں موجود ہیں اور اپنے نظریات کے مطابق سرگرم عمل ہیں ان میں سے کچھ تحریکیں اسلامی، کچھ فلاحی، کچھ اینٹی پاکستان، آرمی اور اینٹی اسلام ہیں۔ لال تحریک کا شمار بھی انہیں چند اینٹی پاکستان، اسلام اور اینٹی آرمی تحریکوں میں ہوتا ہے۔

کچھ دن قبل چھوٹی بڑی طلبہ تنظیموں نے مل کر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے ان مظاہروں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر مسلسل گردش کرتی رہیں جب ویڈیوز اور تصاویر مجھ تک پہنچیں تو میں نے دیکھا کہ ان احتجاجی مظاہروں میں طلبہ و طالبات دونوں موجود تھے۔ طلبہ و طالبات میں سے کچھ نے سر پر سرخ ٹوپیاں پہن رکھی تھیں تو کچھ نے سرخ رومال باندھ رکھے تھے۔ تمام طلبہ و طالبات نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ان میں سے کچھ پلے کارڈز پر اسلام مخالف جملے اور نعرے درج تھے۔ تصاویر دیکھنے کے بعد میری نظر ویڈیوز پر پڑی تو میں ویڈیوز دیکھ کر حیران رہ گیا۔
ان ویڈیوز میں، میں نے جو کچھ دیکھا وہ میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا چلو۔ درمیان میں چھوٹی سی راہداری چھوڑ کر دائیں بائیں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد فرش پر بیٹھی تھی۔ اس راہداری پر چند طلبہ و طالبات مرغا بنے چلے جارہے تھے۔ باقی دائیں بائیں بیٹھے طلبہ وطالبات تصاویر بناتے، سیٹیاں اور تالیاں بجاتے نظر آرہے تھے۔

اسکول میں اگر ٹیچر حضرات مرغا بنائیں تو طلبہ حضرات اگلے دن اسکول سے چھٹی کرلیتے ہیں یا وہ غلطی نہیں کرتے جس کی وجہ سے مرغا بنائے گئے تھے۔

کالج میں اگر پروفیسر حضرات مرغا بنائیں تو عزت نفس مجروح ہوتی ہے اگلے دن پروفیسر صاحب کو پکڑ کر مارتے ہیں۔ یونیورسٹی میں مرغا بننا تو دور کی بات طلبہ ٹیچر کی ڈانٹ بھی برداشت نہیں کرتے۔
رہی طالبات کی بات تو انہیں نہ تو اسکولوں میں مرغا بنایا جاتا ہے نہ کالجز میں اور نہ ہی یونیورسٹیز میں۔ اپنی عزت نفس کی خاطر اساتزہ سے لڑجانے والے طلبہ مجھے لال تحریک کے احتجاجی مظاہرے میں ذلیل ہوتے نظر آئے۔ ’’قوموں کی عزت ہم سے ہے‘‘ کے نعرے لگانے والی طالبات بغیر حجاب کے، بغیر چادر کے، بغیر دوپٹے کے چست لباس پہنے مرغا بن کر چلتی نظر آئیں۔

آگے بڑھ کر میں نے ایک اور ویڈیو دیکھی اس میں ایک طالب علم کے منہ پر لال رنگ کا کپڑا لپٹا ہوا تھا اور وہ کتا بنا ہوا تھا اس لڑکے کے گلے اور بازووں میں لال پٹیاں ڈالی ہوئی تھیں اور ان پٹیوں کو تین طالبات پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچ رہی تھیں جس طرح عام طور پر کتے کو کھینچا جاتا ہے۔ ویسے تو طلبہ حضرات لڑکیوں کے سامنے بڑی ڈینگیں مارتے نظر آتے ہیں۔ لڑکیوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ لیکن طلبہ تنظیم کے اس احتجاج میں لڑکوں کی اوقات لڑکیوں کے سامنے ایک کتے سے زیادہ نہیں تھی۔
میں آگے بڑھا تحقیق کی تو پتا چلا کہ اس لال تحریک کے پیچھے پی ٹی ایم کا ہاتھ ہے۔ لال تحریک کا تصور طلبہ تنظیموں اور پی ٹی ایم نے روس سے لیا ہے۔جی ہاں رسوس سے، روس سن 1979ء میں ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں پر لال جھنڈے لہراتے ہوئے دندناتا ہوا افغانستان میں آ گھسا پھر روس کا کیا حال ہوا یہ منظر پوری دنیا نے دیکھا۔

پاکستان نے کو اینٹی پاکستان، اینٹی اسلام اور اینٹی پاک فوج تحریکوں کو شکست دینا ہوگا اور ان کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ان شاء اﷲ ہمارا پیارا ملک وطن عزیز پاکستان قیامت تک قائم رہے گا۔اسلام زندہ آباد۔پاکستان اور پاک آرمی ہمیشہ پائندہ آباد۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 116 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1148 Articles with 389170 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: