سورہ الطارق

(Mehboob Buttar, Faisalabad)
حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص سورۃ طارق پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے آسمان کے ستاروں کے مطابق دس دس نیکیاں عطا کرے گا۔(کتاب العمل)
طارق کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والی روشنی ہے،اس سورت کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ سورت آسیب زدہ اثرات کو زائل کرنے میں بہت ہی موثر ہے۔لہذا اگر کسی پر آسیب کا اثر ہو تو اس سورت کو ۱۱ روز تک روزانہ۱۱۱ مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے آسیب زدہ کو پلائیں انشاء اللہ آسیب کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔

یہ سورت مکی ہے اور اس میں سترہ آیتیں اور ایک رکوع ہے۔
حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص سورۃ طارق پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے آسمان کے ستاروں کے مطابق دس دس نیکیاں عطا کرے گا۔(کتاب العمل)

طارق کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والی روشنی ہے،اس سورت کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ سورت آسیب زدہ اثرات کو زائل کرنے میں بہت ہی موثر ہے۔لہذا اگر کسی پر آسیب کا اثر ہو تو اس سورت کو ۱۱ روز تک روزانہ۱۱۱ مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے آسیب زدہ کو پلائیں انشاء اللہ آسیب کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔
ترجمہ:
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
آسمان کی قسم اور رات کو (نظر)آنے والے کی قسم۔(۱)اور آپ کو کیا معلوم کہ رات کو (نظر)آنے والا کیا ہے؟(۲)(اس سے مراد) ہر وہ آسمانی کرہ ہے(خواہ وہ ستارہ ہو یا سیارہ یا اجرام سماوی کا کوئی اور کرہ)جو چمک کر(فضا کو)روشن کر دیتا ہے۔(النجم الثاقب سے مراد ذات ِمحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہے،جس نے سراجاً منیراً کی شان کے ساتھ آسمان ِرسالت پر چمک کر ظلمت بھری کائنات کو نور ِایمان سے روشن کر دیا ہے۔)(۳)کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی محافظ(مقرر)نہ ہو۔(۴)پس انسان کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیداکیا گیا ہے؟(۵)وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔(۶)جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔(اس سے مراد وہ مادہ منویہ ہے جس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے،اور اس کے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دھڑ کا یہ درمیانی حصہ ہی اس مادے کا اصل مرکز ہے۔)(۷)بیشک وہ اس(زندگی)کو پھر واپس لانے پر بھی قادر ہے۔(۸)جس دن سب راز ظاہر کر دئیے جائیں گے۔(۹)پھر انسان کے پاس نہ(خود)کوئی قوت ہو گی اور نہ کوئی(اس کا)مددگار ہو گا۔(۰۱)قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی۔(۱۱)قسم ہے پھٹنے والی زمین کی۔(۲۱)بیشک یہ قرآن(حق وباطل میں)ایک فیصلہ کر دینے والا کلام ہے۔(۳۱)اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔(۴۱)بیشک وہ(کافر حق کے نہ ماننے کیلئے)اپنا سا داؤچلتے ہیں۔(۵۱)اور میں (ان کی ناکامی کیلئے)اپنی خفیہ تدبیر کرتا ہوں۔(۶۱)پس آپ کافروں کو(ذرا)مہلت دے دیجئے،(زیادہ نہیں بس)انہیں تھوڑی سے ڈھیل(اور)دے دیجئے(عنقریب وہ ہلاک کئے جائیں گے)۔(۷۱)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Buttar

Read More Articles by Mehboob Buttar: 6 Articles with 1343 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jul, 2020 Views: 111

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ