جنرل ضیاء الحق کا سہنری دور

(Syed Maqsood ali Hashmi, )

وہ دور جب پاکستان میں تمام بھارتی میڈیا پہ پابندی تھی ۔ ٹی وی پہ ایک چینل ہوتا تھا اور نیوز کاسٹر سرپہ دوپٹہ رکھ کہ آتی تھیں ۔
ٹی وی نشریات شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتی ۔
نشریات کا آغاز اور اختتام تلاوت کلام پاک ، حمد اور نعت سے ہوتا ۔ اور نیوز کاسٹر تک پردہ میں ہوتی تھی
چوری ، زنا کی بہت سخت سزائیں تھیں اور ملک میں مکمل امن و امان تھا ۔
ایک روپے کا بن کباب ملتا تھا اور پانچ روپے کا تو بس ایسا بہترین برگر ملتا تھا کہ کھاتے رہ جاؤ ۔
تندور پر روٹی آٹھ آنے کی ملتی تھی اور دس روپے میں ایک مزدور آرام سے دو وقت کا کھانا کھا لیتا تھا ۔
دوکانوں پر سوئی سے لیکر ہاتھی تک کے نرخ نامے لگے ہوتے اور مجال کہ کوئی ایک دھیلا پیسہ بھی زیادہ لے لے ۔
تمام سیاسی پارٹیوں پہ پابندی تھی اور عوام کو گمراہ کرنے والے سیاستدان جیل میں تھے ۔
سرکاری سکول فیس 10 روپے ماہانہ تھی اور پرائیوٹ سکول فیس 30 روپے ماہانہ۔
سکول میں پڑھایا جانے والا نصاب سخت جانچ پڑتال سے گزرتا اور اسلام مخالف اور پاکستان مخالف کوئی چیز بچوں کو نہ پڑھائی جاتی ۔
کالج میں ایک مہینہ فوجی ٹریننگ ہوتی جس میں حصہ لینے والوں کو بیس اضافی نمبر ملتے ۔
پاکستانی برانڈ کمپنیوں کو تحفظ حاصل تھا۔
ملک کی اپنی پولکا آئس کریم ، آر سی کولا ، بنایا ٹوتھ پیسٹ ، فوجی کارن فلیکس ۔ ناصر صدیق گلاس ، رہبر واٹر کولر ، پرافیشنٹ موٹر کار ، ٹرک ، پاکستان میں عام نظر آتے ۔
دور دراز گاؤں میں مسجد فجر اور ظہر کے درمیان سکول کے طور پہ استعمال ہوتی ۔
تعلیم بالغاں کیلئے نئی روشنی سکول شام کو کھلتے ۔
انہی کے دور حکومت میں شریعت عدالت بنی جس میں ایک مقدمے میں سود کو حرام اور قابل سزا جرم قرار دیا گیا !
پھر 1988 میں جنرل ضیاء الحق ایک پراسرار حادثے میں شہید ہو گئے
اور بینظیر بھٹو کا دور شروع ہوا ۔
سب سے پہلے بینظیر نے ضیاء الحق کی تمام اسکیمیں بند کیں ، جن میں مسجد سکول اور نئی روشنی سکول شامل تھے ۔
پھر زنا کی سزا حدود آرڈیننس پاس کرا کہ ختم کر دی ۔
اور تعلیم مہنگی ہوتی گئی اور وہ سب کچھ ہوتا گیا کہ اللہ کی پناہ ۔
اس کے بعد نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں حکومت نے آرڈیننس پاس کر کے شرعی عدالت کو ختم کر دیا اور سود کے حرام اور قابل سزا جرم کے شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ لیجایا گیا جو کہ آج تک اسٹے پر ہے بلکل اسی طرح جس طرح کچھ حکومتیں اور وزارتیں پہلے اسٹے پر چلتی رہیں اور اسی اسٹے کی آڑ میں سود کا کام کھلے عام یعنی اللہ زولجلال اور اور اس کے نبی صلی اللہ والہ وسلم ؐ سے جنگ کھلے عام
جنرل ضیاء ایک ملٹری ڈکٹیٹر تھا مگر ساری دنیا کا کفر اس سے کانپتا تھا اپنے ملک کےسارے شیاطین اس کے دور حکومت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔
ہمیں فخر ہے آپ پہ جنرل ضیاء الحق شہید
اللہ آپکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
آمین
 

Total Views: 651 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood ali Hashmi: 102 Articles with 33646 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
ماشاء اللہ بہت اچھی تحریر لکھی ہے آپنے۔
By: عاصم حسن, کراچی on Aug, 20 2020
Reply Reply
0 Like
nice there were some major political mistakes done by him but over all it was a golden period people respect and have care for each other. the Democratics made us selfish and careless.
By: Sheeraz Khan (f.U.U.A.S.T), Karachi on Aug, 11 2020
Reply Reply
0 Like
Language: