امامِ مسجد کی تنخواہ

(Muhammad Arfeen, Karachi)
ہمارے معاشرے میں امام، موذن، مدرس کی تنخواہیں غیر معیاری ہیں جنہیں معیاری بنانے سے معاشرے میں مثبت تبدیلی واقع ہوگی

امامِ مسجد کی تنخواہ کا مسئلہ
(مولانا ابو محمد عارفین القادری)

ائمہ مساجد اور دینی مدارس کے مدرسین کی تنخواہیں بقدرِ کفایت ہونی ضروری ہے مگر ائمہ مساجد کی رائج تنخواہیں کسی بھی اعتبار سے قدرِ کفایت کی تعریف پر پورا نہیں اترتی، مسجد کی زینت و آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کردئے جاتے ہیں کبھی مسجد کے مال سے اور کبھی چندہ کرکے مگر ہماری قوم کو اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ ائمہ کی تنخواہوں کے بارے میں بھی سوچ بچار کریں کہ کس طرح ایک امام انتہائی قلیل تنخواہ پر گزر اوقات کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

ہم نے اپنے شہر کراچی سمیت دیگر شہروں اور علاقوں کی مساجد کے بارے میں ایک معلوماتی جائزہ لیا اور اپنے احبابِ دینی سے انکے شہروں اور علاقوں کے ائمہ کی تنخواہوں اور مراعات کے بارے میں رائج عرف دریافت کیا تو جو کچھ نتیجہ سامنے آیاوہ اس طرح ہے کہ ہمارے ملک میں ائمہ مساجد کی اوسطا تنخواہ 8 ہزار سے 12 ہزار ہوتی ہے، گاؤں دیہات کی صورتحال اس سے بھی ابتر ہے کہ امامِ مسجد کو 4 ، 5 ہزار تنخواہ بمشکل مل جاتی ہے اور کچھ اچھے اور مستحکم علاقوں میں تنخواہ کی شرح 16 ہزار سے 20 ہزار تک بھی معلوم ہوئی مگر ایسے علاقے تعداد میں بہت کم ہیں ۔

ظاہر ہے اوسطا تنخواہ جو ہمارے ہاں رائج ہے وہ اس قدر نہیں ہے کہ جس کے بل بوتے پر امام اپنا گھر بار چلاسکے ، مثلا ایک امام اور اسکی فیملی ہے جس میں ایک زوجہ دو بچے اور تنگ دست ماں باپ ہیں ، گھر کے روز مرہ کے اخراجات ، کھانا پینا، بچوں کی اوسطا تعلیم اور علاج معالجہ کے اخراجات پھر شادی غمی کی تقاریب میں شرکت کے معاملات 8 ہزار سے 12 ہزار کے درمیان پورے نہیں ہوسکتے ، لامحالہ ائمہ مساجد مدرسہ پکڑتے ہیں ، گھروں میں جاکر قرآن پڑھاتے ہیں اور یوں نماز کے بعد اپنے فارغ اوقات کو معاشی ضروریات حل کرنے میں صرف کرتے ہیں۔

اس صورتحال میں ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ علاقائی سطح پر گلی محلوں میں ائمہ مساجد قوم کی ذہنی و فکری تربیت کا کام انجام دیں گے جبکہ وہ خود ذہنی و فکری طور پر معاشی مسائل میں گھرے ہوتے ہیں۔

حقائق کی اس مختصر داستان کے بعد ہم ائمہ مساجد کی تنخواہ پر فقہی پہلو میں کلام کرنا چاہتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ معاشرے میں رائج ائمہ مساجد کی غیر معیاری تنخواہ کسی صورت بھی عقل اور شریعت کے مطابق نہیں ہے بلکہ فقہِ اسلامی تقاضا کرتی ہے کہ ائمہ مساجد کی تنخؤاہ کا معیار انکی ضرورت و حاجت کے مطابق ہونا چاہئے جس کا فقہی پیمانہ آئندہ سطور میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ ہم نے اس مسئلہ میں تین استدلالات سے بحث کی ہے۔

پہلا استدلالِ: امامت کے شعبے میں تنخواہ کا جواز کیوں دیا گیا؟
دوسرا استدلال: بقدرِ کفایت کا حکم/نصوص۔
تیسرا استدلال: سات اسباب جس میں واقف کی شرط کا لحاظ نہیں ہوگا۔

بحث: پہلا استدلال
﴿امامت کےشعبہ میں تنخواہ کا جواز کیوں دیا گیا ؟﴾

فقہ حنفی میں عبادات و طاعات پر اجارہ کرنا باطل ہے، اسی لئے امامت کی تنخواہ کے بارے میں فقہائے احناف میں سے متقدمین کی رائے عدم جواز کی ہے ان کے نزدیک امامت ہو ، اذان ہو یا تعلمِ قرآن اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے،جبکہ متاخرین نے یہ موقف اختیار کیا کہ امامت ، اذان اور مدرس و معلم کے لئے اجرت لینا جائز ہے۔ اس حکمِ جواز کی وجہ کیا بنی، تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

• امام برہان الدین المرغینانی حنفی (م ۵۹۳ ھ)لکھتے ہیں:
وبعض مشايخنا استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم؛ لأنه ظهر التواني في الأمور الدينية. ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى. ہمارے بعض مشائخ نے اس زمانے میں تعلیمِ قرآن پر اجرت لینے کو مستحسن کہا ہے ،کیونکہ اب امورِدینیہ میں سستی ہوگئی ہےاور اسکو ناجائز کہنے میں قرآن مجیدکوحفظ کرناضائع ہوجائے گا ، اور فتوی اسی قول پر ہے۔
(الهداية في شرح البداية ،جـ03، صـ238، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

• علامہ محمد بن محمود بابرتی حنفی (م٧٨٦ ھ) لکھتے ہیں :
إنما كره المتقدمون ذلك لأنه كان للعلمين عطيات من بيت المال فكانوا مستغنين عما لا بدلهم من امر معاشهم و قد كان في الناس رغبة في التعليم بطريق الحسبة ولم يبق ذلك وقال أبو عبد الله الخيزاخزي يجوز في زماننا للإمام والمؤذن والمعلم اخذ الأجرة ذكره في الذخيرة. متقدمین فقہا نے تعلیم کی اجرت کو اسلئے مکروہ کہا تھا کہ معلمین کو بیت المال سے عطیات ملتے تھے، اور ان عطیات کی وجہ سے وہ اپنی معاشی ضروریات میں مستغنی تھے اور وہ لوگ محض ثواب کے لئے تعلیم دینے میں رغبت رکھتے تھے، اور اب یہ چیز باقی نہیں ہے، امام ابو عبد اللہ الخیزاخزی نے کہا کہ ہمارے زمانے میں امام، موذن اور معلم کے لئے اجرت لینا جائز ہے، اسی طرح ذخیرہ میں ہے۔
(عناية على هامش فتح القدير، جـ08، صـ40-41، مكتبة نورية رضوية، سكهر بحواله شرح صحیح مسلم، جـ07، صـ1054، فرید بک استال، لاهور)

• امام علاء الدین حصکفی حنفی (م ۱۰۸۸ ھ) لکھتے ہیں :
(ويفتى اليوم) أي يفتي المتاخرون (بالجواز) للإجارة (على ذلك) مثل (الإمامة و تعليم القرآن والفقه) تحرزا عن الندراس والاحكام تختلف بإختلاف الزمان. متاخرین نے عبادات مثلا امامت اور تعلیم قرآن و فقہ پر اجرت لینے کے جواز کا فتوی دیا ہےتاکہ احکامِ شریعہ محفوظ رہیں اور زمانہ کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔
(الدر المنتقی فی شرح الملتقی، جـ02، صـ384، دار إحياء التراث العربي، بيروت بحواله شرح صحیح مسلم، جـ07، صـ1059، فرید بک استال، لاهور)

• علامہ شیخ عبد الرحمن المعروف بداماد آفندی حنفی (م ۱۰۷۸ ھ)لکھتے ہیں:
(ويفتى اليوم بالجواز) أي بجواز أخذ الأجرة (على الإمامة وتعليم القرآن، والفقه) ، والأذان كما في عامة المعتبرات، وهذا على مذهب المتأخرين من مشايخ بلخي استحسنوا ذلك، وقالوا: بنى أصحابنا المتقدمون الجواب على ما شاهدوا من قلة الحفاظ ورغبة الناس فيهم، وكانت لهم عطيات من بيت المال وافتقاد من المتعلمين في مجازاة الإحسان بالإحسان من غير شرط مروءة يعينونهم على معاشهم ومعادهم، وكانوا يفتون بوجوب التعليم خوفا من ذهاب القرآن وتحريضا على التعليم حتى تنهضوا لإقامة الواجب فيكثر حفاظ القرآن، وأما اليوم فذهب ذلك كله وانقطعت العطيات من بيت المال بسبب استيلاء الظلمة واشتغل الحفاظ بمعاشهم وقلما يعلمون الحسبة ولا يتفرغون له أيضا، فإن حاجتهم يمنعهم من ذلك فلو لم يفتح باب التعليم بالأجر لذهب القرآن فأفتوا بجوازه لذلك ورأوه حسنا، وقالوا: الأحكام قد تختلف باختلاف الزمان ألا يرى أن «النساء كن تخرجن إلى الجماعات في زمانه عليه الصلاة والسلام وزمان أبي بكر الصديق رضي الله تعالى عنه حتى منعهن عمر رضي الله تعالى عنه واستقر الأمر عليه» وكان ذلك هو الصواب كما في التبيين. وفي النهاية يفتي بجواز الاستئجار على تعليم الفقه أيضا في زماننا.وفي الخانية خلافه تتبع، وفي المجمع يفتي بجواز الاستئجار على التعليم، والفقه، والإمامة كذا في الذخيرة، والروضة. یعنی اس زمانہ میں امامت، تعلیم قرآن، فقہ اور اذان پر اجرت لینے کے جواز کا فتوی دیا جاتا ہے ، جیسا کہ عام معتبر کتابوں میں لکھا ہوا ہے، یہ بلخ کے متاخرین مشائخ کا مذہب ہے ، انہوں نے اس کو مستحسن قرار دیا اور کہا ہمارے متقدمین فقہا نے جو اس اجرت کو ناجائز کہا تھا وہ اپنے زمانے کے حالات کی وجہ سے کہا تھا کیونکہ اس وقت حفاظ کم تھے اور لوگ ان کی خدمت میں دلچسپی لیتے تھے اور اس وقت ان لوگوں کو بیت المال سے عطیات ملتے تھے اور پڑھانے والے اپنے اساتذہ کی بغیر کسی شرط کے خدمت کے کیا کرتے تھےاور ان کو معاش سے مستغنی کردیتے تھےاور متقدمین یہ فتوی دیتے تھے کہ تعلیم دینا واجب ہے تاکہ قرآن مجید ضائع نہ ہو اور حفاظ بکثرت ہوں، لیکن اس زمانے میں یہ سب کچھ ختم ہوچکا ہے ، ظالم اور فاسق حکام کے غلبہ کی وجہ سے بیت المال سے علماء اور معلمین کے عطیات منقطع ہوچکے ہیں اور حفاظ اپنی معاشی ضروریات کی وجہ سے کاروبار میں مصروف ہوگئے اور محض فی سبیل اللہ پڑھانے والے بہت کم رہ گئے ہیں اور ان کو بھی اپنی معاشی ضروریات کی وجہ سے فرصت نہیں ہے، اسلئے اگر اجرت پر تعلیم کے جواز کی اجرت نہ دی جاتی تو مسلمانوں کے سینوں سے قرآن مجید نکل جاتا، اسلئے متاخرین نے اس کے جواز کا فتوی دیا اور اس کو مستحسن قرار دیا۔ انہوں نے کہا زمانہ کے اختلاف سے احکام مختلف ہوجاتے ہیں جس طرح حضور نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عورتیں پانچوں وقت کی نماز پڑھنے کے لئے مسجدوں میں جاتی تھیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کردیا اور اب تک اسی پر عمل ہےاور یہی صحیح ہے جیسا کہ تبیین میں ہے اور نہایہ میں لکھا ہے کہ ہمارے زمانے میں فقہ کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے ، خانیہ میں اس کے خلاف ہے۔اور مجمع میں لکھا ہے کہ تعلیمِ فقہ اور امامت پر اجرت لینا جائز ہے ، اسی طرح ذخیرہ اور روضہ میں لکھا ہے۔
(مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر ،جـ02، صـ384،385،دار إحياء التراث العربي، بيروت)

• صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی حنفی (م ۱۳۶۷ ھ) لکھتے ہیں :
طاعت و عبادت کے کاموں پراجارہ کرنا جائز نہیں مثلاً اذان کہنے کے ليے امامت کے ليے قرآن وفقہ کی تعلیم کے ليے حج کے ليے یعنی اس ليے اجیر کیاکہ کسی کی طرف سے حج کرے۔ متقد مین فقہاکایہی مسلک تھا مگر متأخرین نے دیکھا کہ دِین کے کاموں میں سستی پیداہوگئی ہے اگر اِس اجارہ کی سب صورتوں کوناجائز کہا جائے تو دِین کے بہت سے کاموں میں خلل واقع ہوگا اُنھوں نے اس کلیہ سے بعض امور کا استثنا فرمادیا اور یہ فتویٰ دیاکہ تعلیم قرآن وفقہ اور اذان وامامت پر اجارہ جائز ہے کیونکہ ایسا نہ کیاجائے تو قرآن و فقہ کے پڑھانے والے طلبِ معیشت میں مشغول ہو کراس کام کوچھوڑ دیں گے اور لوگ دِین کی باتوں سے ناواقف ہوتے جائیں گے۔ اسی طرح اگرمؤذن وامام کو نوکر نہ رکھا جائے تو بہت سی مساجد میں اذان وجماعت کاسلسلہ بند ہوجائے گااور اس شعار اسلامی میں زبردست کمی واقع ہو جائے گی۔
( بہارِ شریعت،ج03 ، ص145،146 ،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فقہائے کرام کی مذکورہ تصریحات سے معلوم ہوا کہ امامت و اذان کے شعبہ میں تنخواہ کی اجازت درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر دی گئی:
1- حکامِ مملکت کی جانب سے علما و مشائخ اور امورِ طاعات کے حاملین کے لئے وظائف کا بند ہوجانا۔
2- ائمہ و مؤذنین کی معاشی ضرورت۔
3- امامت و اذان کا شعبہ ویران ہوجانے کا خوف۔
4- شعارِ اسلامی کا تحفظ۔

غور طلب مقام ہے کہ ائمہ کی معاشی ضرورت کے پیشِ نظر متاخرین فقہا نے امامت کی تنخواہ کا جواز فراہم کردیا اور سبب بیان کیا کہ ایسا نہ کیا جائے تو اسلامی شعبے ویران ہوجائیں گے اور شعارِ اسلامی غیر محفوظ، تو ہمارے شہروں میں ائمہ کی ناقص تنخواہیں کس بنیاد پر جائز رکھی جائیں گی؟ کیا یہ بات ہم سب پر روزِ روشن کی طرح واضح نہیں ہے کہ۔۔۔
(1) کم تنخواہ کی وجہ سے "دینی و دنیوی تعلیم سے آراستہ مذہبی افراد" اس اہم شعبہ کی طرف مائل نہیں ہوتے، جس کے مضر اثرات براہِ راست مسلم قوم پر پڑتے ہیں۔
(2) جو پڑھے لکھے مخلص و محنتی ائمہ اس شعبہ کو اختیار کرتے ہیں وہ خونِ جگر پی کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں گوکہ اپنی زندگی صبر و تحمل سے گزارنے پر راضی رہیں مگر گھر بار کی معاشی ضروریات انہیں سخت قسم کے اعصابی دباؤ سے دوچار رکھتی ہے۔
(3) جو ائمہ اس شعبہ سے وابستہ ہیں ان میں سے اکثر امامت کے ساتھ معاشی ضروریات کے لئے کوشاں رہتے ہیں نہ مضبوط و وسیع مطالعہ ہوپاتا ہے، نہ اپنی تعلیم کے لئے وقت نکال پاتے ہیں نہ قوم کی اصلاح کے لئے کچھ کرپاتے ہیں، ایسے حالات میں ائمہ و خطبا کس طرح علمی و صحت مند مواد قوم کو فراہم کرسکتے ہیں؟ ظاہر ہے 12 ماہ کی تقریروں سے ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔
لہذا فقہائے کرام نے جس بنیاد پر امامت کو تنخواہ دار کرنے کا جوازی فتوی صادر کیا وہی بنیاد آج اس بات کی متقاضی ہے کہ امامت کی تنخواہ معیاری رکھی جائے جو کم سے کم قدرِ کفایت ہونی چاہئے اس سے کم کی کسی طرح بھی گنجائش نہیں ہے۔
بحث: دوسرا استدلال
﴿بقدرِ کفایت کا حکم/نصوص﴾

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ کتبِ فقہ میں ائمہ مساجد کی تنخواہوں کے حوالے سے "بقدرِ کفایت"کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے ، قبل اس کے کہ ہم بقدرِ کفایت کی تعریف پر کلام کریں ، پہلے وہ نصوص ذکرکردیتے ہیں جہاں اس کا حکم موجود ہے۔

• امام ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم مصری حنفی (م ۹۷۰ ھ) الحاوی القدسی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم. جیسے امامِ مسجد اور مدرسِ مدرسہ (آمدنی کو عمارت کے اخراجات کے بعد) ان کی طرف بقدرِ کفایت لوٹایا جائے گا۔
( البحر الرائق شرح كنز الدقائق شرح کنز الدقائق، جـ05، صـ230، دار الکتب الاسلامی)

اسی طرح الاشباہ والنظائر میں ہے ۔
(الأشباه والنظائر، صـ168، دارالكتب العلمية، بيروت)

• علامہ علاء الدین حصکفی حنفی (م ۱۰۸۸ ھ) لکھتے ہیں :
ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم. پھر (مسجد کی آمدنی اس پر خرچ ہوگی) جو عمارت سے قریب تر ہو جیسے مسجد کا امام اور مدرسہ کا مدرس ، ان اشخاص کو بقدرِ کفایت دیا جائے گا ۔
(رد المحتار على الدر المختار، جـ04، صـ367، دار الفكر، بيروت)

• امام ابن عابدین شامی حنفی (م ۱۲۵۲ ھ) البحر الرائق کی عبارت نقل فرماکر اسے مقرر رکھتے ہیں پھر اسکی توضیح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
لا يكفيه فيعطي قدر الكفاية لئلا يلزم تعطيل المسجد. (اگرواقف کی طرف سے مشروط تنخواہ) امام کو کافی نہ ہو تی ہو تو اسے بقدرِ کفایت دی جائے گی تاکہ مسجد کا تعطل (غیر آباد ہونا) لا زم نہ آئے ۔
(رد المحتار على الدر المختار، جـ04، صـ368، دار الفكر، بيروت)

• صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی حنفی (م ۱۳۶۷ ھ) لکھتے ہیں :
وقف سے امام کی جو کچھ تنخواہ مقرر ہے اگر وہ ناکافی ہے تو قاضی اُس میں اضافہ کرسکتا ہے ۔
( بہارِ شریعت ، ج02 ، ص 549 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

﴿بقدرِ کفایت کی تعریف﴾

ہم نے ماقبل میں فقہائے کرام کی عبارات پیش کیں جن سے یہ حکم بخوبی واضح ہوچکا ہے کہ ائمہ مساجد کو ان کی تنخواہیں بقدرِ کفایت دی جائیں گی ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ بقدرِ کفایت کی حد کیا ہے اور اس سے کیا مراد ہوتا ہے ۔
کتبِ فقہ کا مطالعہ رکھنے والے حضرات جانتے ہیں یہ اصطلاح محض ایک باب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام اصطلاح ہے جو مختلف ابواب میں استعمال ہوتی ہے مثلا باب الکسب ، باب النفقہ ، باب الوقف، باب الفی والغنیمۃ وغیرہم اور ان سب سے مراد ایک ہی معنی ہے جو درج ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔

"بقدرِ کفایت اس مقدار کو کہتے ہیں جس کے ذریعے انسان عادتاً یعنی
عام طور پر اپنی ضرورت و حاجت کو بغیر کسی حرج و تنگی کے پورا کرتا ہو۔"

یہ تعریف صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیثِ مبارکہ سے مستفاد ہے ۔

• صحیح بخاری میں حدیثِ مبارکہ ان الفاظ سے ہے ،
أن هند بنت عتبة، قالت: يا رسول الله إن أبا سفيان رجل شحيح وليس يعطيني ما يكفيني وولدي، إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم، فقال: «خذي ما يكفيك وولدك، بالمعروف» یعنی حضرت ہندہ بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے حضور رحمتِ عالم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ابو سفیان ایک بخیل آدمی ہیں اور وہ مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میرے لڑکے کو کفایت کرسکے ، سوائے اس (مال)کے جو میں ان سے لیتی ہوں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا ۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جتنا تمہیں اور تمہارے لڑکے کو معروف طریقے سے (یعنی عام طور پر) کفایت کرتا ہے اتنا لے لو ۔
(الجامع الصحیح للبخاری، جـ07، صـ65،66، حدیث: 5364، دار طوق النجاۃ)

صحیح مسلم میں ان الفاظ سے ہے ،
دخلت هند بنت عتبة امرأة أبي سفيان على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إن أبا سفيان رجل شحيح، لا يعطيني من النفقة ما يكفيني ويكفي بني إلا ما أخذت من ماله بغير علمه، فهل علي في ذلك من جناح؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خذي من ماله بالمعروف ما يكفيك ويكفي بنيك» یعنی حضرت ہندہ بنت عتبہ رضی اللہ عنہا زوجہ محترمہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض گزار ہوئی ، یارسول اللہ ! بے شک ابوسفیان ایک بخیل آدمی ہیں جو مجھے نفقہ میں سے اتنا بھی نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کفایت کرسکے مگر یہ ہوتا ہے کہ بغیر ان کے علم کے میں نےان کے مال سے کچھ لیا ہو، تو کیا اس معاملے میں مجھ پر کوئی گناہ ہے ؟ تو حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان کے مال میں سے معروف طریقے سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کفایت کرسکے۔
(المسند الصحیح للمسلم، جـ03، صـ1338، حدیث: 1714، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مذکورہ روایات سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا کو اجازت مرحمت فرمائی تھی کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو اطلاع دیئے بغیر ان کے مال میں سےاتنی مقدار لے لی جائے جو معروف یعنی عام طور پرانہیں اور انکی اولاد کو کفایت کرے تاکہ تنگی سے بچا جا سکے اور یہی بقدرِ کفایت کا معنی ہے۔
واضح رہے کہ ابو سفیان پر ان کی بیوی بچوں کا نفقہ واجب تھا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لئے ان کے مال سے بقدرِ کفایت حصہ لینے کی رخصت دی گئی، اور یہی حکم کتبِ فقہ میں مذکور ہے کہ جو خاوند باوجود قدرت کے اپنے بیوی بچوں کا نفقہ پورا نہیں کرتا تو اس کی جیب سے بغیر اطلاع دئے بقدرِ کفایت مال لے لینا جائز ہے، یہ چوری کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ اپنا حق وصول کرنا ہے۔

بقدرِ کفایت کی تعریف جان لینے کے بعد انتظامیہ کو دعوتِ انصاف ہے کہ ائمہ مساجد کی رائج اوسطا تنخواہ بقدرِ کفایت کی تعریف میں داخل ہوتی ہے یا نہیں ؟ سچ پوچھا جائے تو ہرگز داخل نہیں ہوتی تو پھر کیوں ائمہ کی تنخواہ قدرِ کفایت سے کم دی جاتی ہے اور زینت و آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں ؟ چاہئے تو یہ کہ ان مخدومین کی تنخواہیں معقول اور معیاری ہوں مگر معاملہ اسکے برعکس نظر آتا ہے۔
مزید یہ کہ اخبارات کے وہ کالم مطالعہ کیجئے جس میں ملازمت کے مواقع درج ہوتے ہیں، چوکیدار اور باورچی کی تنخواہیں ملاحظہ کیجئے گا اور مسجد انتظامیہ سے سوال کیجئے گا کہ ائمہ مساجد مخلوقاتِ خداوندی کے کس طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔
بحث: تیسرا استدلال
﴿سات اسباب جس میں واقف کی شرط کا لحاظ نہیں ہوگا﴾

ہم نے پہلی فصل میں ایک باب باندھا ہے "بانی کےحقوق و اختیارات"، اس باب میں ہم نے تفصیلی کلام کیا ہے کہ واقف کی شرائط نصِ شارع ﷺ کی طرح ہے جس کا لحاظ بہر صورت رکھا جائے گا۔

• امام ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم مصری حنفی (م ۹۷۰ ھ) لکھتے ہیں:
شرط الواقف يجب اتباعه لقولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في وجوب العمل به. واقف کی شرط کا اتباع واجب ہےفقہاء کے ارشاد کے سبب کہ واقف کی شرط شارع ﷺ کی نص کی طرح ہے یعنی نص پر عمل کی طرح واجب العمل ہے۔
(الاشباه والنظائر، صـ163، دارالكتب العلمية، بيروت)

• امام ابن عابدین شامی حنفی (م ۱۲۵۲ ھ) لکھتے ہیں :
شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه.
واقف کی شرط شارع ﷺ کی نص کی طرح ہے تو اس کی پیروی واجب ہے ۔
(رد المحتار على الدر المختار،جـ04، صـ495، دارالفكر، بيروت)

لیکن سات اسباب ایسے ہیں جس میں واقف کی شرائط کا لحاظ کرنا واجب نہیں ہے، ان میں سے ایک ائمہ مساجد کی تنخواہ کا مسئلہ ہے۔اگر واقف شرط لگادے کہ امام کی تنخواہ صرف اتنی ہی ہوگی اور وہ اسے کفایت نہ کرتی ہو تو واقف کی اس شرط کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا بلکہ امامِ مسجد کی تنخواہ بڑھا کر بقدرِ کفایت کردی جائے گی۔

• امام ابن عابدین شامی حنفی (م ۱۲۵۲ ھ) لکھتے ہیں:
السابعة: تجوز الزيادة من القاضي على معلوم الإمام، إذا كان لا يكفيه وكان عالما تقيا. ساتواں سبب: قاضی کی جانب سے امام کی تنخواہ میں اضافہ جائز ہے جبکہ وہ اُسے کفایت نہ کرتی ہو اور وہ عالم متقی بھی ہو۔
(رد المحتار على الدر المختار،جـ04، صـ387، دارالفكر، بيروت)

اس کے بعد علامہ شامی نے آگے چل کر اس موضوع پر باقاعدہ عنوان دیکر گفتگو کی ہے۔مطلب في زيادة القاضي في معلوم الإمامیعنی امام کی تنخواہ پر قاضی کی طرف سے اضافہ۔
( رد المحتار على الدر المختار،جـ04، صـ436، دارالفكر، بيروت)

• علامہ شامی کی عبارت کا مفہوم صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی حنفی (م ۱۳۶۷ ھ) نے اس طرح بیان کیا ہے:
وقف سے امام کی جو کچھ تنخواہ مقرر ہے اگر وہ ناکافی ہے تو قاضی اُس میں اضافہ کرسکتا ہے اور اگر اتنی تنخواہ پر دوسرا امام مل رہا ہے مگر یہ امام عالم پر ہیز گار ہے اُس سے بہتر ہے جب بھی اضافہ جائز ہے اور اگر ایک امام کی تنخواہ میں اضافہ ہوااسکے بعد دوسراا مام مقرر ہوا تو اگر امام اول کی تنخواہ کا اضافہ اُسکی ذاتی بزرگی کی وجہ سے تھا جو دوسرے میں نہیں تو دوسرے کے ليے اضافہ جائز نہیں اور اگر وہ اضافہ کسی بزرگی و فضیلت کی وجہ سے نہ تھابلکہ ضرورت وحاجت کی وجہ سے تھا تو دوسرے کے ليے بھی تنخواہ میں وہی اضافہ ہوگا یہی حکم دوسرے وظیفہ پانے والوں کا بھی ہے کہ ضرورت کی وجہ سے اُنکی تنخواہوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
(بہارِ شریعت،ج03 ، ص549 ،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ائمہ مساجد کی تنخواہیں دینا واجب کے درجہ میں ہے

آخر میں یہ یاددہانی بھی ضروری ہے کہ مسجد کی آمدنی کا سب سے پہلا مَصرف مسجد کی عمارت کی مرمت ہے جو فرض کے درجہ میں ہے اس کے بعد ائمہ مساجد کی تنخواہیں ہیں جو واجب کے درجہ میں ہے اس کے بعد منفعت و زینت و آرائش و سہولیات کا درجہ آتا ہے۔ اس پر مفصل کلام تیسری فصل میں گزرچکا ہے۔
ہم لاکھوں روپے مسجد کے مینار و محراب بنانے اور سجانے میں خرچ کردیتے ہیں مگر ائمہ کرام کی تنخواہیں بڑھانے پر توجہ نہیں کرتے، سچ پوچھئے تو ہم نے نیکیوں میں بھی اپنی پسند ، ناپسند کو جگہ دی ہوئی ہے ، حال یہ ہے کہ اپنی من پسند نیکیوں سے اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ شریعت ہم سے اِس وقت کس نیکی کا تقاضا کررہی ہے۔
اہلِ ثروت، مخیر حضرات اور مسجد کمیٹیوں سے درخواست ہے کہ مساجد سجانا اچھا عمل ہے مگر ائمہ مساجد کی خدمت کرنا اور انہیں دینی کاموں کے لئے معاشی فکروں سے آزادکردینا عظیم نیکی ہے۔
والله تعالى الموفق.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arfeen

Read More Articles by Muhammad Arfeen: 4 Articles with 2881 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2020 Views: 114

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ