سورۃ بروج کے بارے میں بنیادی معلومات

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

دنیا کے تمام ادیان و مذاہب میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو خیر و صلاح کا داعی، فلاح و بہبود کا ضامن ہے، اس مقدس مذہب کی تمام تر تعلیمات، احکامات و ہدایات کا مآخذ قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبوی ا ہیں، یہی وہ مہذب مذہب ہے جو ہر فرد، قوم و ملت، ملک و حکومت اور مردوزن کی جملہ ضروریات و حاجات کا کفیل اور ان کے شب و روز کو اسلامی منشور کے مابین خوشگوار و خوشحال بنانے، نیک سیرت و کردار اور عمدہ اخلاق و محاسن کا پیکرِ جمیل بنانے، سماج و معاشرہ میں لطیف فطرت و خصلت کا عادی کرنے کے لئے ایسے بے نظیر اصول و آئین متعین فرماتا ہے جو سنگِ میل اور درِ نایاب و کمیاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اصول و ضوابط سے انحراف کر کے اگر کوئی چین و سکون، اطمینان و راحت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہے تو ہرگز اس کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

کلام مجید منبع رشد و ہدایت اور علم کا خزانہ ہے ۔آئیے ہم بھی کلام مجید کی تعلیمات سے بہرہ مند ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔ہم سورۃ بروج کے متعلق جاننے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
سورۂ بُروج مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ البروج، ۴/۳۶۴)
اس سورت میں 1رکوع، 22آیتیں ہیں ۔
’’بروج ‘‘نام رکھنے کی وجہ تسمیہ :
ستاروں کی منزلوں کو بُروج کہتے ہیں اور اس سورت کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے بُرجوں والے آسمان کی قسم ارشاد فرمائی ہے اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ بروج‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے۔
سورۃ بروج میں ہم سے کس قسم کا خطاب کیا گیا ۔آئیے اس کی تفصیل جاننے کی کوشش کرتےہیں ۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں سابقہ امتوں کے احوال بیان کر کے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر تسلی دی گئی ہے اور اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ۔
(1)…اس سورت کی ابتدائی آیات میں آسمان،قیامت کے دن،جمعہ اور عرفہ کے دن کی قسمیں ذکر کر کے فرمایا گیا کہ کفارِ قریش بھی اسی طرح ملعون ہیں جس طرح بھڑکتی آ گ والی کھائی والوں پر لعنت کی گئی تھی۔
(2)…سابقہ امتوں جیسے اصحابُ الاُخْدود،فرعون اورثمود کے واقعات بیان کئے گئے اور انہی واقعات کے ضمن میں بتایا گیا کہ جنہوں نے مسلمان مَردوں اور عورتوں کوآزمائش میں مبتلا کیا اور وہ حالت ِکفر میں مر گئے تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
(3)…یہ بتایاگیا کہ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی ظالم کی پکڑ فرماتا ہے تو اس کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے اوروہ مُردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے،توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا اور نیک بندوں سے محبت فرمانے والا ہے،عزت والے عرش کا مالک اورہمیشہ جو چاہے کرنے والا ہے۔
(4)…اس سورت کے آخر میں بتایا گیا کہ کفارِ مکہ سابقہ امتوں کے انجام سے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اور قرآنِ مجید کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں ،قرآن کو شاعری اور کہانَت کی کتاب کہتے ہیں حالانکہ وہ تو بہت بزرگی والا قرآن ہے اور لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ضمناََ ایک بات بتاتے چلیں کہ ہم ایک جدید طرز کے ادارے(رکھ موڑمندرہ گجرخان) کے لیے خوشاں ہیں ۔اس کے لیے ہمیں اپکی خصوصی شفقت اور تعاون کی حاجت ہے ۔
اب اگر کوئی ان (اسلامی اصول) سے سر موڑ ے او ر مغربی تہذیب و تمدن پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو اطمینان و سکون سے گزارنے کا حسین خواب دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی اس کم عقلی، کج فہمی، پر جتنا ماتم کرے کم ہے کیوں کہ وہ اپنی دنیا کو برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔
طوفان نوح لانے سے اے چشم فائدہ
دواشک ہی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں

آج مسلم معاشرہ میں جس قدر بے راہ روی، بدکرداری، بد اخلاقی، راہ پا گئی ہے وہ کسی صاحب بصیرت اور اصحابِ فکر و تدبر کی دور بین و دور رس نگاہوں سے پوشیدہ نہیں، مغربی کلچر و تہذیب کا دلدادہ نوجوان فرائض سے غافل، جھوٹ، غیبت، چغلی اور آپسی اختلافات و تنازعات میں اس قدر محو ہے کہ اسے اپنی عقبیٰ کی فکر اور احساس سود و زیاں دامن گیر ہی نہیں ہے۔ مزید نہ جانے کتنے عیوب و نقائض رو پذیر ہیں جو قومِ مسلم کے عروج و ترقی میں باعثِ رکاوٹ بن رہے ہیں اور مسلمانان عالم ہر محاذ پر پستی و زبوں حالی کا شکار نظر آرہے ہیں۔

اے پیارے اللہ!!ہمیں علم نافع کی دولت سے بہرہ مند فرما اور ہمیںعمل کی توفیق عطافرما۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 348 Articles with 297992 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
25 Jan, 2021 Views: 132

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ