" />

پی ایس بی کی ڈنگ ٹپائو پالیسی اور پشاور سنٹر کا حال

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
یہ فنڈز کہاں جارہا ہے اس کی آسان سی مثال پاکستان سپورٹس بورڈ کے زیر انتظام پشاور میں چلنے والے کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹرکا حال ہے ' جسے کوچ کے ذریعے چلایا جارہا ہے وفاق کی ڈنگ ٹپائو پالیسی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہے کہ جن لوگوں کا مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ' نہ ہی کسی نے انتظامی امور کی ڈگری لی ' نہ ہی کوئی تجربہ ہے انہیں بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کیا جارہا ہے ' سال 2010 کے بعد شروع کی جانیوالی اس پالیسی نے پاکستان سپورٹس بورڈ کا یہ حال کردیا ہے کہ "صفائی کرنے والے" والے اٹینڈنٹ بابو بن گئے ہیں ٹیکنیکل کیڈر کے بندے چوکیدار بنا دئیے گئے اور چوکیداروں کو گھر پر بٹھا یا جارہا ہے کہ " صاحب آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں"جس کی اپنی کارکردگی کچھ نہ ہووہ دوسروں کی کارکردگی کیسے چیک کرسکتا ہے .یہ سوالیہ نشان ہے.

ڈنگ ٹپائو کی پالیسی نے مملکت پاکستان کے بیشتر اداروں کا بیڑہ غرق کردیا ہے ' ڈنگ ٹپائو وہ پالیسی ہے جوہر آنیوالے حکمران ڈھائی سال حکمرانی کرنے کے بعد یہ کہنے کے بعد اختیار کرتے ہیں کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں ' اور پھر ڈنگ ٹپائو پالیسی کے تحت پالیسیاں بنائی جاتی ہیں ' اسی ڈنگ ٹپائو پالیسی کا نتیجہ ہے کہ تقریبا کہ پاکستان کے ہر ادارے میں پالیسی بنتی ہے ' مختصر المدتی بنیاد پر چلنے والی یہ پالیسیاں حکومت بدلنے کے بعدیہ کہہ کر ختم کردی جاتی ہے کہ اس سے پہلے والے حکمرانوں نے غلط پالیسی تھی اور پھر نئی ڈنگ ٹپائو پالیسی بنائی جاتی ہے جو آنیوالی نئی حکومت تک چلتی رہتی ہے اور مخصوص لوگوں کو نوازا جاتا ہے. اور یوں ملک کے غریب عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اڑایا جاتا ہے جس کا پرسان حال کوئی نہیں.تقریبا یہی صورتحا ل اب کھیلوں کی وزارت کے ساتھ بھی ہے.اٹھارھویں ترمیم کے بعد کھیلوں کی وزارتیں صوبوں کو مل گئی لیکن چونکہ اس میں فنڈز بہت ہیں اس لئے اٹھارھویں ترمیم کے باوجود ابھی تک یہ وزارت صوبوں کے حوالے ہی نہیں کی گئی اور یہا ں پر بھی ڈنگ ٹپائو پالیسی چل رہی ہے.

ڈنگ ٹپائو کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے کہ وفاق کے پاس کھیلو ں کیلئے فنڈز نہیں لیکن پیپلز پارٹی سے پی ٹی آئی میںآنیوالی "نومولود" وزیر کیلئے سب کچھ ہے ' کھیلوں کے مختلف فیڈریشن سے سالانہ کھیلوں کے کیلینڈر مانگے جاتے ہیں ' اخراجات کا تخمینہ مانگا جاتا ہے اور یہ رقم فیڈریشن کے مقابلوں کے نام پر وفاقی حکومت متعلقہ وزارت کو دے دیتی ہے لیکن فیڈریشنز کو کچھ نہیں ملتا ' جب فیڈریشن اس حوالے سے مطالبہ کرتی ہیں تو پھر انہیں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس فنڈز نہیں ' اگر فنڈز نہیں تو پھر یہ وزارت کیوں ہے. اس کا جواب کسی کے پاس نہیں اس پر اخراجات کیوں کئے جاتے ہیں بجٹ کیوں مختص ہوتا ہے ' اس کے زیر انتظام پورے ملک میں کھیلوں کے کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹرز کیوں چلائے جارہے ہیں. اگر صوبوں کو اختیارات مل گئے ہیں تو پھر یہ سنٹرز صوبوں کے حوالے کیوں نہیں کئے جاتے. یہ اور اس جیسے کئی سوال ہیں جس کے بارے میں پوچھنا صرف صحافیوں کی نہیں بلکہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے جو ٹیکس ادا کرتا ہوں ' اپنے بچوں کے پیٹ کاٹ کر حکمرانوں ' وزیروں اور وزارتوں کی عیاشیوں کیلئے فنڈز جمع کرتا ہے .

یہ فنڈز کہاں جارہا ہے اس کی آسان سی مثال پاکستان سپورٹس بورڈ کے زیر انتظام پشاور میں چلنے والے کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹرکا حال ہے ' جسے کوچ کے ذریعے چلایا جارہا ہے وفاق کی ڈنگ ٹپائو پالیسی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہے کہ جن لوگوں کا مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ' نہ ہی کسی نے انتظامی امور کی ڈگری لی ' نہ ہی کوئی تجربہ ہے انہیں بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کیا جارہا ہے ' سال 2010 کے بعد شروع کی جانیوالی اس پالیسی نے پاکستان سپورٹس بورڈ کا یہ حال کردیا ہے کہ "صفائی کرنے والے" والے اٹینڈنٹ بابو بن گئے ہیں ٹیکنیکل کیڈر کے بندے چوکیدار بنا دئیے گئے اور چوکیداروں کو گھر پر بٹھا یا جارہا ہے کہ " صاحب آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں"جس کی اپنی کارکردگی کچھ نہ ہووہ دوسروں کی کارکردگی کیسے چیک کرسکتا ہے .یہ سوالیہ نشان ہے.

پاکستان سپورٹس بورڈکے زیر انتظام پورے ملک کے کوچنگ سنٹربشمول پشاور کا حال یہ ہے کہ یہاں پر سفارشی اور خوشامدی تعینات ہیں ' اگر کسی کو یقین نہیں آتا تو سنٹر میں جا کر پتہ کروائیں اور یہاں پر تعینات ہونیوالے افسران سے ان کی کارکردگی پوچھ لیں کہ گذشتہ ماہ آپ نے کتنے آفیشل کام کئے ہیں جواب میں سننے کو یہی ملے گا کہ ہمیں اوپر سے کچھ کرنے کی اجازت بھی نہیں اور دوسرے یہ کہ جب تک نئی تعیناتی نہیں کی جاتی اس وقت ہم کچھ کربھی نہیں سکتے. جبکہ حال یہ ہے کہ ان سنٹرز میں کمرے کرائے پر دئیے جاتے ہیں ' افسران کے دوستوں کو جو امریکہ سے آئے ہوتے ہیں ' جن کا ریکارڈ نہیں ہوتا ' ریکارڈ میں کمرے خالی ہوتے ہیں لیکن بیشتر کمرے کرائے پر دئیے جاتے ہیںاور کرایوں کے ان کمروں سے رقمیں کیش میں وصول کی جاتی ہیں- اور پھر یہ رقم "دھوپ میں بیٹھ کر سموسوں کیساتھ چائے" پی کر ڈکار لی جاتی ہیں.اس سے حاصل ہونیوالی رقم کا بڑا حصہ بڑے افسر کو ملتا ہے ' کچھ حصہ گریڈ سولہ کے اہلکاروں کو ملتا ہے اور چھوٹے بابووں اور چوکیدار چائے کی پیالی پر خوش ہوتے ہیںکہ چلو"ہم بھی بھی بہتی گنگا میں ہاتھ"دھولئے ہیں. کھلاڑیوں کی ممبرشپ کے نام پر حاصل ہونیوالی رقم بھی انہی سموسوں کیساتھ ساتھ " انتخابات کیلئے " فیس جمع کرانے کے کام بھی آتی ہیں.

تقریبا یہی حال کھیلوں کی مختلف سہولیات کیلئے بننے والی بلڈنگ کا بھی ہے جسے کرائے پر " رقم " کے حصول کیلئے دیا جاتا ہے ' سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ رقم آفیشل اکائونٹ میں جمع نہیں ہوتی بلکہ شہریوں اور اداروں سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ فیس زیادہ ہے لیکن آپ کیلئے رعایت ہے اس لئے آپ کیش دیدیں . ڈیپارٹمنٹ حتی کہ مختلف ادارے جنہوں نے پی ایس بی کے ان سنٹرز میں پروگرام کرنا ہوتا ہے وہ بھی رقم میں رعایت کا سن کر رقم دے دیتے ہیں اور رقم آفیشل اکائونٹس میں جمع ہونے کے بجائے صاحب لوگوں کے " موٹے پیٹوں" میں جمع ہوجاتی ہیں اور ان " فربہ" اور مال حرام کو ہضم کرنے کیلئے صاحبان " ورزش " اور واک کرتے نظر آتے ہیں.

پاکستان سپورٹس بورڈ اینڈ کوچنگ سنٹر کے زیر انتظام پشاور سنٹرمیں تقریبا ایک ماہ سے سیکورٹی کیلئے بنائی گئی دیوار گر گئی ہیں جس کی بنانے کی ذمہ داری پی اینڈ ڈی کی ہے لیکن یہاں پر تعینات کوچ کی اتنی اوقات نہیں کہ اس دیوار کی تعمیر کیلئے وفاق کو لکھ سکے اور یہ بتائے کہ یہاں پر لوگوں کے معصوم بچے کھیل رہے ہیں اگر خدانخواستہ آرمی پبلک سکول پشاور کی طرح کوئی اندر گیا تو پھر یہاں سے 142 کی بجائے " ہزارں کی تعداد میں "شہید" نکلیں گے.جن میں مال حرام بشمول بچوں سے کوچنگ کے نام پرسرکاری کوچ کے آگے پرائیویٹ کوچ بھی شامل ہونگے.لیکن چونکہ اس ملک کے بیشتر لوگوں کو شہید ہونیکا بڑا شوق ہے اس لئے پی ایس بی پشاور کے افسران و اہلکاروں کی آنکھیں مکمل طور پر اس معاملے پر بند ہیں.اب اس گرے دیوار کو تعمیر کرنے کے نام پر ہاسٹل کے نگران اور بابو باہر سے لوگوں کو لاکر دیوار تعمیرکی باتیں کررہے ہیں کیونکہ اس طرح براہ راست ادائیگیاں ہونگی اور کچھ نہ کچھ " خرچہ پانی " بھی انہیں ملے گا.ان حالات میں کھیل کیسے فروغ پائیں گے ' جب مقصد ہی اپنے " بڑے پیٹ"کیساتھ پٹرول کا خرچہ بھی پورا کرنا ہو '
پی ایس بی پشاور سنٹر کا حال یہ ہے کہ تقریبا چار سال سے ہاسٹل کے مین گیٹ پر لگی وال کلاک / گھڑ ی خراب ہے لیکن اسے ٹھیک نہیں کیا جارہا 'یہاں پر صرف سکواش کے کھلاڑی ہیں جن کی اصل میں تعداد کچھ اور ہے لیکن ظاہر کچھ اور کئے جاتے ہیں ' انہیں کاغذات میں کوچنگ سرکاری کوچ کرتا ہے لیکن اصل میں ایک پرائیوٹ کوچ کوچنگ کے نام پر سکواش کھیلنے والے بچوں سے دو سے تین ہزار روپے کی وصولی کرتا ہے ' ہاسٹل میں گذشتہ ایک سال سے ضم اضلاع کے کھیلوں کا سامان پڑا ہوا ہے یہ سامان کس کو ملنا ہے ' اس کا کرایہ کتنا ہے اور کاغذات میں کتنا ظاہر کیا جارہا ہے.. ویٹ لفٹنگ کیلئے بلڈنگ کرائے پر دی گئی ہیں اس سے کتنی رقم حاصل ہورہی ہیں . یہ کسی کو پتہ نہیں.. اور تو اور.. سپورٹس بورڈ پشاور سنٹر میں ایک دکان بھی غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہیں جس سے آنکھیں " نام نہاد افسران "نے بند کر رکھی ہیں کیونکہ انہیں کرائے کی مد میں رقم مل رہی ہیں-

کیا پی ایس بی پشاور سنٹرجیسے ادارے اور ان پر مسلط موٹے پیٹوں والے افسران اداروں کیلئے سفید ہاتھی نہیں جو عوامی ٹیکسوں کا پیسہ اپنے عیاشی کیلئے استعمال کرتے ہیں نہ ہی انہیں اپنے ادارے کی اہمیت کا پتہ ہے نہ ہی انہیں کھیلوں کے فروغ سے کوئی واسطہ نہیں ' صرف سکواش کیلئے کوچنگ وہ بھی ماہانہ فیسوں کی بنیاد پر جس میں بیشتر حصہ پرائیویٹ کوچ کو ملتا ہے پی ایس بی پشاور سنٹر کو بحال رکھنے کا متقاضی ہے کیونکہ دیگر کھیل تو یہاں پر ہونہیں رہے ' اور کھیل اگر ہوبھی
رہے تو وہ بڑی کرسی حاصل سمیت' سیاست کے کھیل سمیت مال بنائو کے کھیل ہیں جس میں بیشتر اہلکار ملوث ہیں جن کی انکوائری کرنیکی ضرورت ہے.

یہ انکوائری بھی ادارے کی جانب سے انٹرنل انکوائری نہیں کہ جس میں شامل افراد کو نمک منڈی کا رخ کرکے اور پشاوری چپل ' پٹرول کا خرچہ او ر کپڑے لیکر خوش کیا جاتا ہے بلکہ ایسی انکوائری کی ضرورت ہے جس میں غیر جانبدار افراد بشمول صوبائی و وفاقی افسران ' میڈیا کے نمائندے اور عام افراد شامل ہوں جو کسی کے دبائو میں آنیوالے نہ ہوںاور بلا امتیاز سب کا احتساب کرکے حرام خوروں سے فنڈز نکالے ساتھ میں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کیساتھ ساتھ ان کے خلاف کرپشن ثابت ہونے پر ایف آئی آر بھی درج کئے جائیں تبھی بہت سارے سدھریں گے اور پی ایس بی جیسا ادارہ بھی بحال بھی ہوگا.
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 349 Articles with 184386 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
07 Mar, 2021 Views: 254

Comments

آپ کی رائے