بد نگاہی کئی برائیوں کو فروغ دیتی ہے!

(Asif Jaleel, All Cities)

بیشک تمام انسانوں کی خلقت مٹی سے ہے لیکن تمام انسان برابر نہیں ہیں، بعض گورے ہیں تو بعض کالے، بعض عربی ہیں تو بعض عجمی، بعض امیر ہیں تو بعض غریب، بعض مومن ہیں تو بعض کافر، بعض نافرمان ہیں تو بعض فرماں بردار معلوم ہے کئی قسم کے لوگ اس دنیا میں رہتے ہیں، لیکن ان میں سب سے افضل اور سب سے بہتر ایمان والا ہے، اور سب اعلی فرماں بردار ہے، ایک انسان کلمہ پڑھنے کے بعد مسلمان ہو جاتا ہے اللہ رب العزت کے نازل کردہ احکامات کا پابند ہو جاتا ہے اسی نازل کردہ احکامات میں سے ایک حکم نگاہوں کی حفاظت کا بھی ہے، جس کے لئے قرآن پاک میں کئی مقامات پر نگاہوں کے جھکانے اور اس کی حفاظت کی بہت ہی زوروں سے تاکید آئی ہے اور اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی بے شمار جگہ نگاہوں کو بچانے کی تاکید کی گئی ہے!
بد نگاہی ایک ایسا غلیظ و قبیح گناہ ہے جس کی وجہ سے بندے کے بعض اوقات بڑے بڑے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں بد نظری کرنے سے انسان کے دل میں ایک قسم کی تاریکی چھا جاتی ہے، بد نظری کرنے سے انسان کے اندر ایک قسم کی بے چینی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان کو گناہ کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے، بد نگاہی سے چہرے کا نور ختم ہو جاتا ہے جو بعض اوقات عارفین کو معلوم بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ان کی مجلس میں ایک شخص بد نگاہی کرکے آیا سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ نے پہچان لیا کہ یہ بندہ کیا کرکے آیا ہے پھر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ آج کل لوگوں کی آنکھوں سے زنا ٹپکتا ہے ۔
جس طرح بد نگاہی کے نقصانات بے شمار ہیں اور سزا بھی سخت ہے اسی طرح بد نظری سے بچنے کے بے شمار فائدے اور انعامات بھی ہیں، اگر کسی بندے کو بد نظری کا موقع میسر ہو اور وہ اس سے بچ جائے تو اس پر اللہ رب العزت کا وعدہ ہے کہ اللّٰہ پاک اسکی عبادت میں وہ رَس وہ مزا گھول دیں گے جسے وہ خود محسوس کر لے گا، اسی طرح اگر کسی پر اچانک سے نگاہ پڑ جائے اور وہ فوراً اپنی نگاہ کو جھکا لے تو بھی اس کو ایمان کی چاشنی نصیب ہوگی اور یہ بد نظری ایسا قبیح گناہ ہے کہ اس کے کرنے کے بعد دوسرے گناہوں کے راستے کھلنے لگتے ہیں مثلا کسی نے بد نظری کی اب اس کے دل میں اس کی چاہت بیٹھ گئی اب وہ اس کو پانے کے لئے سارے راستے تلاش کرنا شروع کر دے گا خواہ وہ طریقے حلال ہوں یا حرام، وہ کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کرے گا اسی لیے ہم سب اپنی نگاہوں کو بچا کر رکھیں، محفوظ رکھیں کیونکہ نگاہ محفوظ تو دل محفوظ اور دل محفوظ تو ایمان محفوظ۔

اللہ پاک ہم سب کو اس قبیح و غلیظ گناہ سے بچائے ،آمین!
------------------------------
🖊️فضل الرحمن انصاری بلگرامی
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 187 Articles with 135349 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
13 Jun, 2021 Views: 205

Comments

آپ کی رائے