ہم اس ہی طرح انٹرنیشنل ایونٹ میں شرمندہ ہوتے رہینگے

جس نے پاکستان کو چیمپینز ٹرافی جیتوائی وہ گزشتہ 5 سالوں سے بینچ بر بیٹھ کر کھلاڑیوں کو پانی پلاتا رہا پاکستان کی کرکٹ اسی دن تباہ ہوگئی تھی جب ایک کامیاب کرکٹر و کپتان جب پاکستان کرکٹ بورڈ اور کرکٹ انتظامیہ کے لوگوں نے اس کے ساتھ اس کپتان کو بغیر کسی وجہ کے نہ صرف کپتانی سے ہی نہیں بلکہ اسکا کیریر کو بھی ایک سازش کے تحت تباہ کیا وہ الگ بات ہے اس نے اپنے مہنہ سے ایک الفاظ بھی نہیں نکالا اور اسکے کیریر تباہ کرنے میں جن لوگوں کا ہاتھ تھا وہ قوم کے سامنے بری طرح ننگے ہوگئے اور جو باقی رہے تھے وہ ہر میچ میں زلیل و رسوا ہورہے ہیں. یہ کب تک رسوائی آپکی مقدر میں رہے گی یہ اللہ جانے

دیکھا جائے تو پاکستان کرکٹ کو تباہ کرنے والا وہ گروپنگ ماسٹر مائنڈ تھا. اچھا بھلا سسٹم چل رھا تھا سب کا ستیاناس کر دیا سرفراز کے ساتھ ہی نہیں کئی پلیئر کا کیریئر کو ختم کیا جب کہ کچھ لوگ بولتے نہیں مگر انکے دل کی آہ سب کچھ تباہ و برباد کر دیتی ہے ایسے ہی سرفراز کی خاموشی پاکستان کرکٹ ٹیم کو مُسلسل تباہ کررہی ہے.

سرفراز کبھی جب میچ پھنستا تو وہ خود بیٹنگ کرنے اپنے آپ کو اوپر نہیں لاتا تھا . سرفراز اپنا نہیں سوچتا تھا وہ ملک کا سوچتا تھا کہ ملک کو فائدہ ہو اور وہ بالکل ٹھیک تھا اس نے ثابت کیا اگر وہ اپنا سوچتا تو وہ اوپن بھی آسکتا تھا اس کے پاس اختیار تھا لیکن اس نے اپنی جگہ شاداب کو بھیجا شاداب کو اوپر کے نمبر آنے ہر اعتماد ملا ور اس نے اسکور کیا بااولنگ سے بھی بیٹنگ سے بھی پھر اس نے اس ہی پر اکتفا نہیں کیا اس نے حسن کو بھیجا اس نے آل راؤنڈر کارکردگی دکھائی پھر وہی حسن اس کے خلاف گروپنگ کیمپ میں شامل ہوگیا.

ہاں یوں کہہ لو کہ اس ملک میں رہتے ہوۓ وہ ملک کا سوچتا تھا اس کی یہ ہی سوچ غلط اس حساب سے تھی کہ یہاں میرٹ اور انصاف نہیں ہے تو ایسے میں اپنا کیا سوچنا.
اس نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو سب کچھ اپنے رب پر چھوڑ دیا کیونکہ یہ سب اللہ تعالی بھی تو دیکھ رہا ہوتا ہے

جبکہ بابر اور اب محمد رضوان کو پتا ہی نہیں کون سا پلیئر کس نمبر پے کھلانا ہے اس وقت جو نظر آرہا ہے کہ جو پالیسی اور معیار ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ایسے میں یہ 20 سال بھی انڈیا سے ODI میں نہیں جیت سکتے. انڈیا کے ہر پلیئر کو انگلیوں پہ گن کر ایک ایک پلیئر کا رول اور ذمہ داری کو گنا جا سکتا ہے اور ابھی اس انڈین ٹیم میں بمراہ اور رشب پینٹ نہیں شامل تھے. مگر پاکستانی ٹیم میں ایک ہی ہوہ بنا ہوا ہے نمبر ون کا اور کنگ کا. دبی کی بیٹنگ وکٹ پر فرینڈلی وکٹ پر بھی چائینیز کنگ نہیں چلا. جس ٹیم میں کرپٹ سسٹم کی وجہ سے چار سے پانچ پرچیاں اور سفارشات کی بنا پہ چار سے پانچ پلیئرز ہوں. وہاں پر اللہ کی رحمت نہیں آیا کرتی. ان جیسے سفارشیوں سے بہتری کی امید ہرگز نہیں رکھی جا سکتی.

اس وقت جہاں انڈیا چار سے پانچ مُسلسل اپنے اسپنر کو کھلا رہا ہے. وہاں پاکستانی ٹیم نے ایک اسپیشل اسپنر کھلایا حالانکہ دبئی گراؤنڈ پاکستان کا ایک قسم کا ہوم گراؤنڈ سمجھا جاتا ہے جیسے کئی دہائی قبل شارجہ کہلاتا تھا جہاں پر پاکستان نے کئی سال ہوم سیریز کھیلی اور فتح یاب ہوا ہے.

آج کل کی ماڈرن کرکٹ کے مطابق کیا حیدر علی ساجد خان نعمان علی افتخار احمد محمد حارث وغیرہ کیا کسی اور ملک کی نیشنلٹی رکھتے ہیں جو ODI میں نہیں کھلائے جا سکتے.
یہ تو اندھا بھی سُن کر بتادیگا کہ 50 اوور کے میچ میں 25 آدھے اوورز سے زیادہ آپ ڈاٹ بال کھیل کر کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں...

جبکہ انڈین کھلاڑی ویرات کوہلی جو واقعی ( اصلی کنگ)ہے. اس نے پھر اس اہم بڑے میچ میں کھڑا ہو گیا. کرکٹ کا اصلی بادشاہ اس طرح کے دلیر کہلاتے ہیں. جب جب انڈیا کو ضرورت ہوئی بڑے میچ میں ہمیشہ اپنی ٹیم کو سپورٹ کر کے جتوایا. گزشتہ سالوں میں جو کرکٹ دنیا بھر کے گراونڈ میں کھیلی گئی اُسمیں یہی نظر میں آیا کہ کوہلی سے زیادہ بہادر اور ٹیکنیکل ساؤنڈ بیٹسمین نظر نہیں آیا جبکہ ایک ہمارے کاغذی شیر و اعظم جو اب کاغذ بھی ان کو اپنی سپورٹ دینے شاید کتراتا ہوگا. واقعی انڈین بیسٹمین کوہلی ایک لیجنڈ اور زبردست انسان بھی ہے.

جبکہ ہمارے ہاں چائنیز کنگ والوں کی بونگیاں سن لو ایسی بونگیاں مارینگے کہ منڈیر پر بیٹھا کوا بھی اپنی ہنسی نہ روک سکے .

کچھ عرصہ پہلے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارگردگی اس طرح کی تھی کہ ٹیسٹ رینکنگ پانچ پر پہنچی اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ نمبر چار اور تین کے درمیان رہی تھی۔

لیکن اب کچھ مہینوں میں تین آئی (اے) سی سی ٹورنامنٹس میں پہلے راؤنڈ سے ہی ٹیم باہر نہ نکلنے کے لیے ہاتھ پیر بھی نہیں مار سکی جبکہ مگر اب یہ لگتا ہے کہ چوتھے میں سے آج نکل جائیں گے۔ اب ٹیسٹ رینکنگ آٹھ ہے، ون ڈے رینکنگ چار نمبر اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ سات ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ جب میرٹ کو اپنے پاؤں تلے روند کر نااہلوں کو لیکر آؤگے تو پھر ایسے نتیجہ آنے میں کوئی مزائقہ نہیں کیونکہ عوام بھی اب آہستہ آہستہ اس کی عادی ہوتی جارہے ہیں.
 

انجئنیر! شاہد صدیق خانزادہ
About the Author: انجئنیر! شاہد صدیق خانزادہ Read More Articles by انجئنیر! شاہد صدیق خانزادہ: 431 Articles with 243432 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.