90 دہائی کے تمام سابقہ کرکٹرز کو عہدوں سے فارغ کیا جائے

اب ہی حالیہ نیوزی لینڈ کے دورہ میں حسن نواز اپنے دونوں میچوں میں صفر سے باہر نہیں نکل سکے اس سے جب سوال ہوا کہ آپ ٹی 20 میں اوپننگ کریں گے بابر کی جگہ پر تو اسکا کہنا تھا کہ میں ایسی بلے بازی کروں گا کہ آپ کو بابر کی یاد نہیں آئی گی اس نےڈومیسٹک کرکٹ میں صرف 8 میچ کھیلے ہے 67 کے اسٹریک ریٹ ہے انکھیں بند کرکے اس کی شارٹ لگانے سے واضح ہوتا ہے اور اس کا کھڑے ہونے کا اور گیند پر اپنا بیٹ لیجانے کا انداز بالکل واضع کرتا ہے کہ یہ انٹرنیشنل معیار کا کھلاڑی نہیں ہے نظر یہی آتا ہے اس کے پاس بھی وہی جو پاکستان میں ہر ادارے میں چلا آرہا ہے کہ اس کے ہاس بھی کوئی تگڑی سفارش ہے.

دیکھا جائے تو ٹیلنٹ سب میں ہوتا ہے ۔ پنڈی اسلام آباد کی ایمچور لیگ کھیل کر انٹرنیشنل پلیئر اس طرح جلدی نہیں بنتے ۔ اس کو ابھی بہت وقت لگے گا ۔ جن میچوں اور لیگوں میں یہ پرفارم کرتا رہا ہے اس میں اور انٹرنیشنل میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ یہ سب میڈیا اوور سوشل میڈیا کے لوگوں کی وجہ سے بورڈ غلط سلیکٹروں کا چُناؤ کرتے ہیں اور یہ سفارشی سلیکٹر پھر سفارشی اور غلط لڑکے ہی سلیکٹ کرینگے کیونکہ یہ دنیا کا اصول ہے جو سفارش پر اوپر آیا ہے وہ چُناؤ بھی سفارشی لڑکے سلیکٹ کریگا. ان کو نہ میرٹ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا جبکہ انڈر 19 لیول پر شاندار پرفارمنس دینے والا شاہزیب خان جسکےبارے میں عامر سہیل اور سنتھ جے سوریا نےکمنٹری میں کہا تھا کہ اگر اس لڑکے کو آگے لایا جائے تو اس میں سعید انور کی جھلک نظرآرہی ہے بھارت کے خلاف 160 رنزبناۓ اور انڈر 19 اایشیا کپ میں لگتار دو سنچریاں بنائی تھی.

اس ہی طرح بولنگ میں علی رضا پاکستان کے پاس ایسا بہترین فاسٹ بولر موجود ہے جسکی سپیڈ بھی 140 سے اوپر کی ہے لمباقد بھی ہے گیند کو دونوں طرف سوئنگ کرتا ہے جس طرح سے شاہین آفریدی ، حارث رؤف کی کارگردگی عوام کے سامنے ہے اگر ان کو ایک دو میچ میں آرام کراکے اگر اس کو ٹیم میں لایا جائے تو وہ موجودہ فرسٹ بولرز میں سب سے کامیاب بولر ثابت ہوگا لیکن ہمارے پاکستان کے کرکٹ کے کرتا دہرتاؤں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ٹیلنٹ کو ضائع کرتے ہیں. اگر ایسا بولر بھارت یا کسی اور ملک کے پاس ہوتا تو ابھی تک وہ ان کے ٹیم میں ہوتامیں نے اس کو بہت قریب سے دیکھا ہے انڈر 19 لیول پر اس نے تباہ کن بولنگ کی تھی حارث رؤف اور شاہین آفریدی پر مزید اعتماد نہیں کیا جاسکتا.

لیکن اب انکے نام ونشان نہیں ہے عاقب جاوید نے قسم کھائی ہے کہ وہ کھبی بھی میرٹ پر سلیکشن والے بچوں کی طرف نہیں جائیگا کوئی مانے یا نہ مانے لیکن عاقب جاوید پاکستان کرکٹ کو ایک بند گلی میں لیجائیگا اور پھر وہاں سے واپسی کے لیے پھر پاکستانی کرکٹ کو کتنے سال اوپر آنے میں لگیں گے اس پر کرکٹ بورڈ کوئی واضع موقف اپنا سامنے نہیں لارہا کیونکہ پاکستان ہیڈ کوچ عاقب جاوید اس وقت پاکستان کرکٹ کی تباہی کا سبب بن رہا ہے. اس کی سوچ انداز سے واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ یہ پاکستان کرکٹ کو کہاں لیے کر جارہا ہے جہاں سوائے تباہی کے کچھ نہیں.

حالانکہ پوری دنیا پاکستان کے سلیکشن کے نظام پر ہنس رہی ہے آج تک انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ ٹی ٹوئنٹی میں کس کھلاڑی کی جگہ بنتی ہے اور کس کی نہیں افسوس ہوتا ہے کہ بورڈ میں اس طرح کے نااہل لوگ بیٹھے ہیں ۔ ان سے تو ایک عام آدمی کو زیادہ کرکٹ کی سمجھ ہے پاکستان کے سابق کپتان یونس خان بالکل سچ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں سبزی بیچنے والے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ ٹیم میں کن کھلاڑیوں کو ہونا چاہیے اور کپتان کون ہونا چاہیے، لیکن بورڈ کے ممبران کو یہ بھی نہیں پتا ہوتا.

اس وقت ٹیم میں داماد سسر والا کھیل دوبارہ شروع ہوگیا ہے دونوں سسر اپنے دامادوں کو کپتان بنانے کیلئے متحرک ہوگئے ہیں ثقلین مشتاق نے اپنے بھرپور تعلقات کا استمعال کرکے اپنے داماد شاداب جوکہ اپنی خراب پرفارمنس کی وجہ سے ٹیم سے باہر تھے اسکو نہ صرف ٹیم میں واپس لایا بلکہ اسکو نائب کپتان بنانے میں بھی کامیاب ہوگیا

دوسری جانب شاہد آفریدی نے اپنے داماد کو کپتان کیلئے بھی بھاگ دوڑ شروع کردی ہے شاہد آفریدی کی خواہیش ہے کہ شاہین شاہ دوبارہ ٹی 20 کے کپتان بن جاۓ اس وقت لگتا یہی ہے کہ شاید آفریدی اور ثقلین مشتاق کے درمیان اپنے دامادوں کو کپتان بنانے کیلیے مقابلہ شروع ہے

حالانکہ اگر بات میرٹ کی ہو دونوں کی جو حالیہ اور پیچھلی پرفارمنس رہی ہے گزشتہ چارسالوں سے کپتانی تو دور کی بات انکی ٹیم میں دور دور تک جگہ نہیں بنتی اور شاہین شاہ کی رویہ اور اسکےباولنگ کرانے کے انداز سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کسی کپتان کو کامیاب ہونے نہیں دے گا

ان کھلاڑیوں کی ذاتی لڑائی میں ملک کا وقار مجروح ہو رہا ہے، ان کھلاڑیوں کو تو ٹیم میں بس اب نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ان کی وجہ سے 3ایونٹ ہارے ہیں. یہ دونوں ٹیم پر اس وقت بوجھ ہیں ان کی بدولت ٹیم میں انتشار ہے دونوں کے سسروں کو عقل سے کام لینا چاہئے. پاکستان کی ٹیم میں جب تک سسر داماد والا سلسلہ جاری رہے گا پاکستانی کرکٹ زوال پذیر ہی رے گی.

ہونا تو اب یہ چاہیے اب پاکستان کرکٹ سے ان تمام سابقہ کرکٹرز سے پاک کیا جائے اور ان دو نمبر مولویوں کی جگہ غیر مُلکی کوچ لائے جائیں جو ٹیم بنائیں تاکہ پاکستان کرکٹ ٹیم ایک دفعہ پھر دنیائے کرکٹ میں اپنا کھویا ہوا دوبارہ مُقام حاصل کرسکے دنیا میں جس طرح سے پاکستان کرکٹ ٹیم پہچانی جاتی تھی.

 

انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ
About the Author: انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ Read More Articles by انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ: 460 Articles with 259221 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.