چین کا "اسپورٹس پلس" ماڈل
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین کا "اسپورٹس پلس" ماڈل تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں کھیلوں کے مقابلے اب محض تفریح یا میدان تک محدود سرگرمی نہیں رہے بلکہ یہ مقامی معیشت کے فروغ، سیاحت کے استحکام اور عوامی طرزِ زندگی میں بہتری کا ایک مؤثر ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والا "اسپورٹس پلس" ترقیاتی ماڈل کھیلوں کو سیاحت، ثقافت اور صارفین کے تجربات کے ساتھ جوڑ کر شہروں اور علاقوں میں نئی معاشی سرگرمیوں کو جنم دے رہا ہے، جس کے نمایاں اثرات مختلف صوبوں میں دیکھے جا رہے ہیں۔
یکم جنوری کی شام ، بیجنگ کے شوگانگ پارک میں واقع شوگانگ آئس ہاکی ایرینا میں چینی باسکٹ بال ایسوسی ایشن (سی بی اے) کے 2025-2026 سیزن کے تحت بیجنگ اور گوانگ ڈونگ ٹیموں کے درمیان میچ منعقد ہوا۔ اس مقابلے نے نہ صرف شائقین کی بڑی تعداد کو متوجہ کیا بلکہ مقامی کھپت کو بھی نمایاں فروغ دیا۔
نئے سال کی تعطیلات کے دوران "کھیل پلس کھپت" اقدام کے تحت بیجنگ شوگانگ باسکٹ بال کلب نے پارک میں موجود 70 سے زائد کاروباری اداروں کے ساتھ اشتراک کیا، جس کے نتیجے میں ٹکٹ رکھنے والے شائقین کو کھانے، رہائش، ثقافتی مصنوعات اور دیگر خدمات پر خصوصی رعایتیں فراہم کی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق تعطیلات کے دوران ایرینا کے اندر تجارتی سرگرمیوں سے 1 لاکھ 40 ہزار یوان کی آمدن ہوئی، جس میں سے ایک بڑی رقم ٹیم کے ملبوسات اور یادگاری اشیاء کی فروخت سے حاصل ہوئی۔ اسی پارک میں واقع بگ ایئر شوگانگ، جو بیجنگ 2022 سرمائی اولمپکس کا اہم مقام رہا، اب برفانی کھیلوں کے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں سیزن کے آغاز سے اب تک پانچ ہزار سے زائد ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔
اسی طرح بیجنگ سے ملحقہ صوبہ ہیبی کے شہر چانگ جیاکو کے ضلع چونگ لی میں بھی سرمائی کھیلوں کی سرگرمیوں نے سیاحتی جوش پیدا کیا ہے۔ 2025-2026 کے اسکی سیزن کے دوران یہاں 11 بین الاقوامی اور 20 سے زائد قومی سطح کے مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ سیزن کے آغاز سے اب تک آٹھ لاکھ سے زیادہ سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مقابلوں کے دنوں میں سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کے باعث ہوٹلوں کی بکنگ کی شرح تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ رہائش، کھانے پینے اور تفریحی سرگرمیوں پر اخراجات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی اسکی ریزورٹس نے ثقافتی اور تعلیمی نوعیت کی سرگرمیوں کو بھی فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔
چین میں عوامی فٹنس کے فروغ کے لیے منعقد ہونے والی قومی نئے سال کی کوہ پیمائی اور فٹنس کانفرنس 2026 بھی کھیل اور کھپت کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ تقریب صوبہ زے چیانگ کے شہر جیانگ شان اور شانڈونگ کے شہر تائی آن میں مرکزی طور پر منعقد ہوئی، جبکہ ملک بھر میں 400 سے زائد ذیلی مقامات پر سرگرمیاں ہوئیں۔
جیانگ شان میں، جہاں یہ تقریب گیارہویں مرتبہ منعقد ہوئی، کھیلوں کا کارنیول سجایا گیا، جس میں کھیلوں کے سازوسامان کی نمائش، ڈرون فٹبال، روبوٹ رقص اور مقامی مصنوعات کے اسٹالز شامل تھے۔ اس موقع پر کھیل اور سیاحت کی کھپت ہفتہ بھی منایا گیا، جس سے مقامی معیشت کو تقویت ملی۔
صوبہ یون نان کے نو جیانگ لیسو خوداختیار پریفیکچر کے شہر لو شُوئی میں دسمبر 2025 کے دوران منعقد ہونے والی چائنا نو جیانگ وائلڈ واٹر کینوئنگ ایشیائی چیمپئن شپ نے کھیل، ثقافت اور سیاحت کے امتزاج کی ایک اور کامیاب مثال پیش کی۔ اس مقابلے میں 43 غیر ملکی اور 75 ملکی کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
یہ ایونٹ مقامی لیسو نئے سال (کوشی فیسٹیول) کے ساتھ منعقد کیا گیا، جس سے کھیلوں کے مقابلے ایک ثقافتی میلے کی شکل اختیار کر گئے۔ اس دوران تیر اندازی، پیراگلائیڈنگ اور زپ لائن جیسے منفرد پروگرامز کا انعقاد بھی کیا گیا۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ خصوصی صارف واؤچرز کے باعث سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدن 200 ملین یوان سے تجاوز کر گئی، جبکہ سیاحوں کی تعداد دو لاکھ دس ہزار سے زیادہ رہی۔
کہا جا سکتا ہے کہ چین میں کھیلوں کے مقابلے اب ایک ہمہ جہت ترقیاتی ذریعہ بنتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف تفریح فراہم کرتے ہیں بلکہ مقامی معیشت، سیاحت، ثقافت اور عوامی فلاح کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ "اسپورٹس پلس" ماڈل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کھیل، اگر جامع منصوبہ بندی کے تحت سیاحت اور کھپت سے جوڑ دیے جائیں، تو وہ اعلیٰ معیار کی ترقی، معاشی سرگرمیوں کے تنوع اور عوامی زندگی میں بہتری کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ رجحان چین کی سماجی و معاشی حکمتِ عملی میں کھیلوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ |
|