لاہور میں بسنت کی واپسی تاریخ، حفاظتی اقدامات اور تقریبات

لاہور ۱۸ سال بعد لاہور کی گلیوں میں ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں کا سیلاب اُمڈ آیا ہے پنجاب حکومت نے ۲۰۲۶ میں بسنت کی تقریبات کی اجازت دے دی ہے، جو صرف لاہور میں ۶ سے ۸ فروری تک محدود رہے گی یہ فیصلہ لاہور کی ثقافتی تاریخ اور عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے کیا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی سخت حفاظتی اقدامات بھی نافذ کیے گئے ہیں تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے
بسنت پنجاب کی قدیم تہواروں میں سے ایک ہے، جو موسم بہار کی آمد، خوشی اور فصلوں کی کٹائی کا جشن مناتا ہے تاریخی طور پر یہ تہوار لاہور میں مغلیہ دور سے منایا جاتا رہا ہے مغل بادشاہوں کے زمانے میں لاہور کے قلعوں اور باغوں میں پتنگ بازی، موسیقی اور رقص کا سماں ہوتا تھا برطانوی دور میں بھی یہ تہوار بہت شاندار طریقے سے منایا جاتا تھا، لیکن ۲۰۰۷ میں ایک افسوسناک حادثے کے بعد حکومت نے پابندی لگا دی تھی ۲۰۲۶ میں یہ پابندی ختم ہوئی ہے، اور لاہور کے لوگ اسے بہت خوشی سے منانے کی تیاری میں ہیں
۲۰۲۶ میں بسنت کی تقریبات کی اجازت اور حدود
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق
بسنت صرف لاہور میں منایا جا سکے گا
تاریخ ۶، ۷ اور ۸ فروری ۲۰۲۶
باقی پنجاب کے شہروں (فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، سیالکوٹ وغیرہ) میں ابھی تک اجازت نہیں دی گئی
صرف وہ علاقے جہاں ڈپٹی کمشنر لاہور سے اجازت لی جائے گی، وہاں ہی پتنگ بازی کی اجازت ہوگی
حکومت نے حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے کچھ اہم پابندیاں عائد کی ہیں
شیشے کی ڈور (شیشے کی پتنگ کی ڈور) پر مکمل پابندی ہے
صرف سادہ دھاگہ یا سفید دھاگہ استعمال کیا جا سکتا ہے
کٹائی کی ڈور (شیشے یا دھاتی دھاگہ) استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی
پتنگ بازی صرف مقررہ مقامات پر کی جا سکے گی، جہاں پولیس اور ایڈمنسٹریشن موجود ہوگی
شہر میں پتنگ بازی کے دوران ٹریفک کنٹرول اور ایمرجنسی سروسز کو الرٹ رکھا جائے گا
بچوں کی حفاظت کے لیے والدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بچوں کو اونچی عمارتوں یا تاروں کے قریب نہ جانے دیں
مین ایونٹس لاہور کے تاریخی مقامات جیسے بادشاہی مسجد کے قریب، لاری اڈا، موچی دروازہ، انارکلی، اور گلشن اقبال پارک میں تقریبات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے
ثقافتی پروگرام موسیقی، لوک رقص، روایتی کھانوں کے سٹالز، اور پتنگ بازی کے مقابلے منعقد ہوں گے
پتنگ مارکیٹ لاہور کے لاری اڈا اور دیگر مارکیٹوں میں پتنگوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے
لاہور کے شہریوں میں بسنت کی واپسی پر خوشی کی لہر ہے، لیکن کچھ لوگ حفاظتی اقدامات کی سختی پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں ایک مقامی شہری نے بتایا
بسنت ہماری ثقافت کا حصہ ہے، اس کی واپسی خوشی کی بات ہے، لیکن حفاظت سب سے اہم ہے حکومت نے اچھا فیصلہ کیا ہے
ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کو جدید دور میں محفوظ طریقے سے منانا ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن یہ تہوار لاہور کی شناخت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے
بسنت کی واپسی لاہور کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے یہ تہوار نہ صرف خوشی کا موقع ہے بلکہ ہماری ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اگر ہم سب مل کر اس تہوار کو محفوظ اور پرجوش بنائیں تو یہ ۲۰۲۶ کا سب سے یادگار ایونٹ بن سکتا ہے

 

Danish Rehman
About the Author: Danish Rehman Read More Articles by Danish Rehman: 148 Articles with 70557 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.