"کھیلوں کے ایک ہزار منصوبے: کروڑوں روپے ہوا میں اڑا دیے گئے اور کلائمبنگ وال صرف دکھاوے کی بنی"
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
: صوبائی کھیلوں کے ایک ہزار منصوبے ایسے ہیں جیسے کسی نے کھیلوں کی جگہ فضول خرچی کا فیسٹیول لگایا ہو۔ ستر کروڑ روپے خرچ کیے گئے، اور حاصل کیا؟ بس ایک خالی کمپلیکس، ٹوٹے پھوٹے سامان اور ایک کلائمبنگ وال جو چار سال سے کھڑی ہے لیکن ایک بھی کھلاڑی پیدا نہیں ہوا۔
یہ کلائمبنگ وال، جو پشاور، مردان اور نظام پور میں بنائی گئی، اصل میں کروڑوں روپے کی چھلانگ کی وجہ بن گئی۔ مردان اور نظام پور میں تو یہ تین کروڑ روپے میں بنی، جبکہ پشاور میں ایک کروڑ۔ لیکن پاکستان اسپورٹس بورڈ کے مطابق، یہ چالیس لاکھ میں بھی بنی تھی۔ مطلب، کروڑوں روپے کہیں غائب ہو گئے، اور ہمیں بس ایک ناقص چڑھائی والی دیوار ملی۔اب یہ کلائمبنگ وال دیکھنے میں تو شاندار لگتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی شیٹس غیر معیاری ہونے کی وجہ سے خراب ہو رہی ہیں، اوپر کی چھت کی چادر ختم ہو گئی ہے، اور شاید یہ دیوار بھی کسی دن خود ہی اڑ جائے۔ اور سب سے مزے کی بات؟ کسی کو اس کی فکر نہیں۔ لگتا ہے کہ "کھلاڑی پیدا کرنے" کا کام ختم ہو چکا، اب صرف دیواریں ٹوٹنے کا انتظار ہے۔
پھر میرٹ کی بات کریں تو جیسے کسی نے اس کو بھی چھین لیا ہو۔ ایسے PD مقرر کیے گئے جنہیں کھیلوں کا نام سنتے ہی دماغ کی بجلی چمک جاتی ہو، یعنی تجربہ صفر۔ اور چترال کے پولو گراو¿نڈز؟ وہ تو صرف کاغذوں میں ہیں، حقیقت میں نہیں۔ شاید یہ بھی کسی کھیلوں کے مجازی میوزیم میں موجود ہوں۔ان منصوبوں کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کروڑوں روپے کی خرابی کے باوجود، صوبائی افسران ہر پراجیکٹ کی جانچ پڑتال کے بجائے سیاسی مسائل میں الجھے رہے۔ یعنی اگر آپ نے سوچا کہ کلائمبنگ وال پر سرمایہ کاری کا مقصد کھلاڑی تیار کرنا تھا، تو آپ غلط تھے۔ مقصد صرف خزانے کی رقم کا جادوئی اڑانا تھا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ منصوبے صرف زمین پر نہیں بلکہ کاغذ پر بھی عجیب و غریب ہیں۔ کچھ کمپلیکس اور گراو¿نڈز ایسے ہیں کہ جب آپ وہاں جائیں، تو سوچیں کہ کہیں آپ کسی کھیل کے ہالی ووڈ سیٹ پر تو نہیں پہنچ گئے۔ اور اگر یہ سب ناکامیاں سن کر آپ ہنسنا شروع کر دیں، تو جان لیں کہ یہی منصوبے بنانے والے بھی شاید اپنے ہی کام پر ہنس رہے ہوں۔یہ منصوبے ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ کھیلوں میں تجربہ اور قابلیت کی کیا قیمت ہے۔ جب PD وہ مقرر کیے جائیں جو کھیلوں کے بارے میں صرف نام سنتے ہیں، تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ پیسہ ہوا میں ا±ڑ جائے اور دیواریں کھلاڑی پیدا کرنے کے بجائے خود ہی ٹوٹ جائیں۔
اور سب سے بہترین حصہ؟ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ شاید جب تحقیقات مکمل ہوں، تو ہمیں پتہ چلے کہ کلائمبنگ وال دراصل کھلاڑی پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ خزانے میں چھپے سیکڑوں لاکھوں کے لیے بنی تھی۔ اور اس سارے مذاق میں، عوام صرف دیکھتے رہ جائیں کہ کروڑوں روپے کیسے اڑائے گئے اور کون کس کی ذمہ داری لے گا؟یہ کھیلوں کے منصوبے صرف کھیلوں کے لیے نہیں، بلکہ ہنسی مذاق، کرپشن اور فنڈز کے گم ہونے کا بہترین نمونہ ہیں۔ ایک دن ہم یہ سب کتاب میں پڑھیں گے، اور شاید اس وقت بھی ہم ہنسیں گے کہ کیسے پشاور، مردان اور نظام پور کی دیواریں کروڑوں روپے کی قیمت میں کھڑی کی گئیں، لیکن ایک بھی کھلاڑی نہیں پیدا ہوا۔
اس سارے کھیلوں کے مزاح میں، ایک سبق بھی چھپا ہے: پیسہ اگر میرٹ اور معیار کے بجائے سیاسی اور ذاتی مفاد میں لگایا جائے، تو نتیجہ ہمیشہ یہی نکلتا ہے — خالی دیواریں، ٹوٹے ہوئے کمپلیکس اور بے کار تحقیقات۔
#SportsComedy #KPFundsGoneWild #ClimbingWallFail #PublicFundsWaste #FunnyInvestigations #SportsScandalPakistan #MeritVsMadness
|