vپی ایس ایل پشاور آ رہا ہے، خوشخبری کس کی ہے اور کریڈٹ کون لے گا؟


صوبائی حکومت پ±رجوش ہے۔ ترجمان مسکرا رہے ہیں۔ بیانات میں لفظ “تاریخی” بار بار آ رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پی ایس ایل کے میچز پشاور میں ہوں گے اور یہ خیبر پختونخوا کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ خوشی ہونا بنتی بھی ہے۔ کرکٹ ہے، اسٹیڈیم ہے، تماشائی ہیں۔ مگر سوال سادہ سا ہے۔ اس خوشخبری میں صوبائی حکومت کا اصل کردار کیا ہے؟

بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ پی ایس ایل کوئی ضلعی ٹورنامنٹ نہیں۔ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایونٹ ہے۔ فیصلے وہاں ہوتے ہیں۔ کیلنڈر، سیکیورٹی، براڈکاسٹ، اسپانسرشپ، سب پی سی بی کے دائرے میں آتا ہے۔ جب پی سی بی چیئرمین محسن نقوی اوکے کہتے ہیں، تبھی میچ ممکن ہوتا ہے۔ اس سے پہلے سب خواہش، بعد میں سب دعویٰ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پی سی بی نے پشاور کے بارے میں سنجیدگی دکھائی۔ سیکیورٹی کلیئرنس، لاجسٹکس، ٹیموں کی آمد و رفت، سب پر غور ہوا۔ چیئرمین کی اوکے کے بعد ہی بات آگے بڑھی۔ اب سوال یہ نہیں کہ میچ ہوں گے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کس بنیاد پر کریڈٹ لے رہی ہے؟ اگر کردار سہولت کاری کا ہے تو ٹھیک، وہ بھی ایک کردار ہے۔ مگر سہولت کاری کو “فیصلہ کن قیادت” کہنا تھوڑا سا زیادہ ہو جاتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ ارباب نیاز اسٹیڈیم اور عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کو پاکستان اسپورٹس بورڈ کے حوالے کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ یہاں واقعی تالیاں بنتی ہیں۔ اس لیے نہیں کہ نام بڑے ہیں، بلکہ اس لیے کہ نظام بہتر ہو سکتا ہے۔ پی ایس بی کے پاس طریقہ کار ہے، رولز ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیاسی بھرتیوں کا دروازہ نسبتاً کم کھلتا ہے۔ کم از کم نظریاتی طور پر۔کیونکہ سچ یہ ہے کہ اسٹیڈیم کا سب سے بڑا مسئلہ پچ نہیں ہوتی، مسئلہ کلچر ہوتا ہے۔ وہ کلچر جس میں کلاس فور کی نوکری ہو، مگر انداز گریڈ اکیس کا۔ ڈیوٹی ایسی کہ کوئی پوچھ نہ سکے، نخرے ایسے کہ وی آئی پی بھی سوچے۔ یہ وہ مخلوق ہے جو فائل کو فٹبال سمجھتی ہے، گیٹ کو ذاتی جاگیر، اور شائق کو غیر ضروری شے۔

آپ میچ کے دن اسٹیڈیم جائیں۔ گیٹ پر کھڑا اہلکار آپ کو ایسے دیکھے گا جیسے آپ نے اس کی زمین مانگ لی ہو۔ ٹکٹ آپ کے ہاتھ میں ہو، مگر اجازت اس کے موڈ پر۔ اندر جائیں تو ایک اور صاحب ملیں گے جو صرف اس لیے طاقتور ہیں کہ ان کے ہاتھ میں سیٹی ہے۔ یہ سب کرکٹ کے دشمن نہیں، مگر کھیل کے دوست بھی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب کہا جاتا ہے کہ اسٹیڈیم پی ایس بی کے حوالے ہوں، تو امید پیدا ہوتی ہے۔ شاید اب ڈیوٹی واقعی ڈیوٹی ہو۔ شاید اب اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی آئے۔ شاید اب “میں تو بس یہاں ہوں” والا فلسفہ ختم ہو۔

اب واپس آتے ہیں صوبائی حکومت کے کردار پر۔ اگر صوبائی حکومت نے سیکیورٹی پلان بنایا، اداروں کو ایک صفحے پر لایا، اور پی سی بی کو اعتماد دیا، تو یہ قابلِ تعریف ہے۔ مگر اگر ساری بات پریس ریلیز تک محدود ہے، تو پھر سوال اٹھیں گے۔ کرکٹ شائق اب جذباتی کم، سوالی زیادہ ہیں۔ایک اور دلچسپ پہلو روڈ شوز کا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پی ایس ایل کے روڈ شوز مختلف شہروں میں ہوں گے۔ یہ اچھی بات ہے۔ مگر روڈ شو سے پہلے روڈ درست ہونا چاہیے۔ اسٹیڈیم کے باہر پارکنگ، اندر واش روم، نشستیں، روشنی، یہ سب بھی کھیل کا حصہ ہیں۔ ورنہ روڈ شو تو ہو جاتا ہے، شو باقی رہ جاتا ہے۔

اور ہاں، کریڈٹ کی سیاست بھی اپنی جگہ۔ اگر کل کو میچ کامیاب ہوتے ہیں تو سب تصویروں میں ہوں گے۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو “اداروں کی مشترکہ ذمہ داری” آ جائے گی۔ یہ فارمولا پرانا ہے، مگر آج بھی چلتا ہے۔پی سی بی کے چیئرمین کی اوکے کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا۔ یہ بات تسلیم کرنا کوئی جرم نہیں۔ اس سے صوبائی حکومت چھوٹی نہیں ہو جاتی۔ الٹا سچ بولنے سے اعتماد بنتا ہے۔ عوام کو معلوم ہے کہ فیصلے کہاں ہوتے ہیں۔ انہیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ جو ذمہ داری لی گئی، وہ پوری ہوئی یا نہیں۔

آخر میں بات پھر وہی۔ پی ایس ایل پشاور آ رہا ہے، یہ واقعی خوشی کی بات ہے۔ مگر اصل جشن اس دن ہوگا جب شائق اسٹیڈیم سے مسکراتے ہوئے نکلیں گے۔ بغیر لڑائی، بغیر تذلیل، بغیر “او بھائی ادھر نہیں” کے۔ اگر پی ایس بی کا نظم، پی سی بی کی پلاننگ، اور صوبائی حکومت کی سہولت کاری مل گئی، تو یہ ممکن ہے۔ورنہ ہم پھر اسی مقام پر ہوں گے۔ میچ ختم، کریڈٹ تقسیم، اور اگلے سال پھر وہی بحث۔ اس بار امید ہے کہ بات صرف بیانات تک محدود نہیں رہے گی۔

#PSL #PSLInPeshawar #PakistanSuperLeague #PCB #Peshawar #ImranKhanCricketStadium #ArbabNiazStadium #CricketInKP
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1002 Articles with 777650 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More