وزیراعلیٰ کے حلقے کا اسٹیڈیم: ایرینا تیار، رنگ غائب، اور سوالات فل فارم میں

ڈی آئی خان۔ یہ وہ ضلع ہے جسے موجودہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا سیاسی گڑھ کہا جاتا ہے۔ یہاں سڑک بنے تو خبر بنتی ہے، جلسہ ہو تو ہیڈ لائن بنتی ہے، اور اگر اسٹیڈیم میں باکسنگ رنگ غائب ہو جائے تو وہ بھی خبر بن جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس خبر میں مکے رنگ میں نہیں، سوالات ایک دوسرے پر برس رہے ہیں۔رتہ کلاجی اسٹیڈیم میں اس وقت ایک نیا ایرینا تعمیر ہو رہا ہے۔ نقشے خوبصورت ہیں، دیواریں سیدھی کھڑی ہیں، اور بجٹ کے ہندسے بھی سیدھے سیدھے فائلوں میں درج ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب عمارت تیار ہو رہی ہے تو اندر کھیلنے کا سامان آہستہ آہستہ “غائب” کیٹیگری میں داخل ہو رہا ہے۔

سب سے نمایاں کردار اس کہانی میں باکسنگ رنگ ہے۔ وہی رنگ جس پر نوجوان کھلاڑی اپنے خوابوں کو دستانوں میں لپیٹ کر مکے مارتے ہیں۔ وہی رنگ جسے سابق ڈی جی کے دور میں خریدنے کا دعویٰ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ رنگ باقاعدہ خریدا گیا، اس کی تصاویر بھی موجود ہیں، ویڈیوز بھی گردش میں ہیں۔ لیکن جب آج اسٹیڈیم کے عملے سے پوچھا جاتا ہے کہ رنگ کہاں ہے، تو جواب ملتا ہے: “ہمیں تو ملا ہی نہیں۔”یہ جواب سن کر ایسا لگتا ہے جیسے رنگ نے خود ہی فیصلہ کیا ہو کہ وہ سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر کہیں اور چلا جائے۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک سال قبل یہ رنگ مبینہ طور پر ایک سرکاری افسر کے گھر بھیج دیا گیا تھا۔ اگر یہ بات درست ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہ کیا باکسنگ کی تربیت اب سرکاری رہائش گاہوں میں ہو رہی ہے؟ کیا کھلاڑی اب اسٹیڈیم کے بجائے ڈرائنگ روم میں سپارنگ کریں گے؟ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ “نادر” نامی ایک شخص پچھلے سال یہ رنگ لے گیا تھا۔ کیوں لے گیا؟ کہاں لے گیا؟ واپس آیا یا نہیں؟ اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی واضح جواب نہیں۔ جب سوال اٹھتا ہے تو جواب کی جگہ خاموشی آ جاتی ہے۔ اور ہمارے ہاں خاموشی اکثر سب سے زیادہ بولتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹیڈیم میں صرف رنگ ہی نہیں، جمناسٹک کا سامان بھی دستیاب نہیں۔ باڈی بلڈنگ کے آلات ایسے پڑے ہیں جیسے انہوں نے بھی احتجاجاً کام بند کر دیا ہو۔ زنگ ان پر ایسے چمک رہا ہے جیسے کوئی نیا کلر کوڈ ہو۔ سٹور روم، جہاں یہ سامان رکھا جاتا تھا، اب مبینہ طور پر موجود ہی نہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے اسٹیڈیم میں تعمیرات تو ہو رہی ہیں، لیکن یادداشت کمزور ہو رہی ہے۔یہ سب کچھ ا±س ضلع میں ہو رہا ہے جو وزیراعلیٰ کا اپنا علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کو امید تھی کہ کم از کم کھیلوں کے میدان تو محفوظ ہوں گے۔ لیکن فی الحال میدان سے زیادہ فائلیں کھیل رہی ہیں۔

ذرا تصور کیجیے۔ نیا ایرینا مکمل ہو جاتا ہے۔ افتتاح کی تقریب ہوتی ہے۔ ربن کٹتا ہے۔ تصاویر بنتی ہیں۔ تقریریں ہوتی ہیں۔ اور پھر کوئی نوجوان باکسر پوچھ لیتا ہے: “سر، رنگ کہاں ہے؟”اگر جواب میں پھر وہی جملہ آئے کہ “ہمیں تو ملا ہی نہیں”، تو شاید افتتاحی تقریب کو بھی مکے لگنے لگیں۔یہ معاملہ صرف ایک باکسنگ رنگ کا نہیں۔ یہ اس نظام کا آئینہ ہے جہاں خریداری کا ریکارڈ ایک جگہ ہوتا ہے، سامان دوسری جگہ، اور ذمہ داری تیسری جگہ۔ جب تک تینوں ایک ہی صفحے پر نہ آئیں، کھیل کیسے چلے گا؟

حامی کہیں گے کہ یہ سب انتظامی مسئلہ ہے، اسے سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ ناقدین کہیں گے کہ جب حلقہ وزیراعلیٰ کا ہو تو معیار بھی ویسا ہی ہونا چاہیے۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں کھڑی ہو، ہاتھ باندھے، انتظار میں کہ کوئی اس سے سوال کرے۔اسٹیڈیم کے اندر کھلاڑی کم اور کہانیاں زیادہ گھوم رہی ہیں۔ نوجوان باکسر جو کبھی ضلعی سطح پر میڈل جیتنے کا خواب دیکھتے تھے، اب پوچھ رہے ہیں کہ کیا انہیں پہلے سامان تلاش کرنا ہوگا یا پہلے ٹریننگ شروع کرنی ہوگی؟ جمناسٹکس کے خواہشمند بچے شاید یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ کر مشق کر لیں، لیکن اصل سامان کے بغیر وہ کہاں تک جائیں گے؟

سرکاری مو¿قف اگر سامنے آ جائے تو شاید تصویر واضح ہو۔ ممکن ہے رنگ کہیں محفوظ رکھا گیا ہو، ممکن ہے کسی مرمت کے عمل سے گزر رہا ہو، ممکن ہے کاغذی کارروائی میں تاخیر ہو۔ لیکن جب تک واضح جواب نہیں آتا، طنز خود بخود جنم لیتا ہے۔ڈی آئی خان کے شہری سادہ سوال پوچھ رہے ہیں، اگر رنگ خریدا گیا تھا تو وہ کہاں ہے؟ اگر نہیں خریدا گیا تھا تو بجٹ کہاں گیا؟اگر خریدا گیا اور منتقل کیا گیا تو ریکارڈ کیا کہتا ہے؟ یہ سوال کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، بلکہ پورے سسٹم کے سامنے ہیں۔ کیونکہ کھیل کا میدان سیاست کا میدان نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں سکور بورڈ صاف نظر آنا چاہیے۔

علی امین گنڈاپور کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے۔ اپنے حلقے کے اسٹیڈیم میں شفاف انکوائری کا حکم دیں۔ خریداری اور ترسیل کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے رکھیں۔ اگر سب کچھ درست ہے تو شبہات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ اور اگر کہیں گڑبڑ ہے تو ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔ یہی وہ پیغام ہوگا جو کھیلوں کے میدان سے پورے صوبے میں جائے گا۔ ورنہ خدشہ یہ ہے کہ کل کو کوئی اور سامان بھی “ہمیں ملا ہی نہیں” کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ اور پھر ایرینا تو ہوگا، مگر اس کے اندر صرف گونج ہوگی۔

کھیل صرف میڈل جیتنے کا نام نہیں، یہ نظم و ضبط، شفافیت اور اعتماد کا نام بھی ہے۔ اگر ایک ضلع، جو وزیراعلیٰ کا اپنا علاقہ ہو، وہاں کے اسٹیڈیم میں یہ صورت حال ہے تو پھر باقی اضلاع کے کھلاڑی کیا امید رکھیں؟رتہ کلاجی اسٹیڈیم اس وقت ایک علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف تعمیر، دوسری طرف گمشدگی۔ ایک طرف دعوے، دوسری طرف سوالات۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہاں مکے رنگ میں چلیں گے یا سوالات فائلوں میں۔فی الحال اسٹیڈیم کے باہر بورڈ تو لگا ہے، مگر اندر کہانی کچھ اور ہے۔ اور یہ کہانی تب تک مکمل نہیں ہوگی جب تک باکسنگ رنگ اپنی اصل جگہ پر واپس نہ آ جائے، یا کم از کم اس کی سرکاری منزل کا پتہ نہ چل جائے۔

#RattaKulachiStadium
#DIKhan
#AliAmeenGandapur
#SportsGovernance
#MissingBoxingRing
#Accountability
#KPSports

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1002 Articles with 777495 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More