انڈر 21 کا کمال: ایک کھیل میں اوور ایج، دوسرے میں میڈلسٹ


خیبر پختونخوا کے انڈر 21 مقابلے جاری ہیں۔ میدان سجے ہوئے ہیں، بینرز لگے ہیں، تصاویر کھنچ رہی ہیں، اور سب کچھ بظاہر قانون کے مطابق ہے۔ بظاہر۔ کیونکہ اندر کی کہانی کچھ اور ہے۔ اور یہ کہانی ایسی ہے جس پر آپ سنجیدہ بھی ہوں گے اور مسکرائیں گے بھی۔قصہ ایک خاتون کھلاڑی کا ہے۔ پہلے کھیل میں اعتراض اٹھا کہ عمر کچھ زیادہ لگ رہی ہے۔ کاغذات دیکھے گئے۔ بحث ہوئی۔ ریجنل اسپورٹس آفیسر نے فیصلہ سنایا۔ “آپ اوور ایج ہیں، معذرت کے ساتھ آپ اس ایونٹ میں نہیں کھیل سکتیں۔” اصول کی جیت ہوئی۔ نظام زندہ باد۔

لیکن کھیل ابھی باقی تھا۔چند دن بعد خبر آئی کہ وہی کھلاڑی دوسرے کھیل میں پشاور کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ نہ صرف کھیل رہی ہیں بلکہ میڈل بھی جیت لیا۔ اب سوال یہ نہیں کہ میڈل سونے کا تھا یا چاندی کا۔ سوال یہ ہے کہ عمر کا کیا ہوا؟ کیا تاریخ پیدائش نے بھی کھیل تبدیل کر لیا؟ یہ شاید دنیا کا پہلا کیس ہے جہاں ایک ہی کھلاڑی ایک کھیل میں “اوور ایج” اور دوسرے میں “بالکل فٹ” ہو سکتی ہے۔ عمر نے بھی سوچا ہوگا کہ کھیل کے حساب سے ایڈجسٹ ہو جاوں۔ ایتھلیٹکس میں کچھ اور، نیٹ بال میں کچھ اور، اور اگر ضرورت پڑی تو کبڈی میں الگ۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فارم بی کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ رجسٹریشن کسی اور کے فارم بی پر ہوئی۔ اگر یہ درست ہے تو پھر ہمیں قومی سطح پر ایک نیا ہنر ملا ہے۔ شناختی لچک۔ آج آپ خود ہیں، کل آپ کوئی اور۔ کھیل وہی، کھلاڑی وہی، شناخت بدل گئی۔یہ سب پڑھ کر کسی کو لگ سکتا ہے کہ یہ ایک معمولی انتظامی غلطی ہے۔ مگر جب انڈر 21 مقابلے ہوں تو عمر ہی اصل سرمایہ ہوتی ہے۔ یہی تو بنیاد ہے۔ اگر عمر ہی فٹبال کی طرح اِدھر ا±دھر ہو جائے تو پھر مقابلہ کس چیز کا؟

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال بھی نیٹ بال میں شناختی کارڈز کا ایک بڑا معاملہ بنا تھا۔ کچھ خواتین کھلاڑیوں کے کاغذات میں تضاد نکلا۔ اس وقت سخت کارروائی ہوئی۔ پابندیاں لگیں۔ اسکالرشپ روک دی گئی۔ کہا گیا کہ ریکارڈ میں غلطی ہے۔ سوال یہ تھا کہ جب اندراج ہو رہا تھا تب ریکارڈ کہاں تھا؟ مگر خیر، اصول کی فتح کا اعلان کر دیا گیا۔اب وہی صورتحال دوبارہ سامنے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار کہانی زیادہ رنگین ہے۔ ایک کھیل میں اعتراض، دوسرے میں اعزاز۔

اصل مسئلہ شاید کھلاڑی نہیں، نظام ہے۔ اگر ویری فکیشن کا کوئی مرکزی میکنزم ہوتا، اگر ہر کھلاڑی کا ڈیٹا ایک جگہ محفوظ اور قابل رسائی ہوتا، تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔ مگر یہاں ہر کھیل اپنی دنیا ہے۔ ایک میں آپ نااہل، دوسرے میں قومی اثاثہ۔پشاور سے کھیلنے کا پہلو بھی دلچسپ ہے۔ جب ایک ریجن میں اعتراض ہو جائے تو دوسرے ریجن میں قسمت آزمائی کی جا سکتی ہے۔ شاید یہ بھی ایک نیا اسپورٹس ماڈل ہے۔ “ریجنل مائیگریشن فار میڈلز”۔

کھیلوں کے حلقوں میں اب سوال گردش کر رہا ہے۔ اگر ایک کھلاڑی کو اوور ایج قرار دیا گیا تو کیا اس کا ریکارڈ پورے صوبے میں اپ ڈیٹ ہوا؟ کیا دوسرے کھیل کے منتظمین کو اطلاع دی گئی؟ یا سب نے سوچا کہ ہمیں کیا، ہمارا ایونٹ صاف رہے۔یہ معاملہ صرف ایک میڈل کا نہیں۔ یہ ان نوجوان کھلاڑیوں کا ہے جو واقعی انڈر 21 ہیں۔ جو سارا سال محنت کرتے ہیں، ٹرائل دیتے ہیں، اور پھر کسی ایسے مقابلے میں ہار جاتے ہیں جہاں عمر اور شناخت لچکدار ہو۔ ان کے لیے یہ مزاح نہیں، نقصان ہے۔

مگر مزاح اپنی جگہ موجود ہے۔ تصور کریں، ایک کمرے میں منتظمین بیٹھے ہیں۔ ایک کہتا ہے “یہ اوور ایج ہے”۔ دوسرا کہتا ہے “نہیں ہمارے حساب سے ٹھیک ہے”۔ تیسرا کہتا ہے “میڈل آگیا نا، بس ٹھیک ہے”۔اگر فارم بی کے دعوے میں صداقت ہے تو پھر یہ سیدھا سیدھا فوجداری معاملہ بنتا ہے۔ مگر یہاں سب کچھ “ذرائع کے مطابق” ہے۔ باضابطہ وضاحت ابھی آنی ہے۔ اور وضاحت عموماً ایسی ہوتی ہے جس میں سب ٹھیک نکل آتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر سال ایک نیا اسکینڈل برداشت کر لیتے ہیں۔ کبھی شناختی کارڈ، کبھی عمر، کبھی ڈومیسائل۔ پھر چند دن شور ہوتا ہے۔ پھر خاموشی۔ اگلے سال پھر وہی کہانی۔

انڈر 21 کا مقصد نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانا ہے۔ اگر یہاں بھی شارٹ کٹ چلنے لگے تو پھر سینئر سطح پر کیا امید رکھی جائے؟ کھیل میں میرٹ کی بات ہم سب کرتے ہیں۔ مگر میرٹ کی بنیاد کاغذات سے شروع ہوتی ہے۔انتظامیہ کے لیے بھی یہ لمحہ ہے کہ وہ واضح پالیسی سامنے لائے۔ ایک مرکزی ڈیٹا بیس، بائیومیٹرک تصدیق، اور ایونٹ سے پہلے مکمل اسکریننگ۔ تاکہ بعد میں میڈل واپس لینے کی نوبت نہ آئے۔ کیونکہ میڈل واپس لینا ہمیشہ کھیل سے زیادہ بدنامی دیتا ہے۔

آخر میں سوال وہی ہے جو سب پوچھ رہے ہیں۔ اگر ایک کھیل میں اوور ایج قرار دی گئی کھلاڑی دوسرے کھیل میں اہل کیسے ہو گئی؟ اور اگر فارم بی کا معاملہ درست ہے تو ذمہ داری کس کی ہے؟یہ فیچر ہنسی مذاق میں لکھا گیا ہے، مگر مسئلہ سنجیدہ ہے۔ کھیل صرف میدان میں نہیں ہارا جاتا، کبھی کبھی دفتر کی میز پر بھی ہار جاتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار بھی معاملہ وقت کے ساتھ ٹھنڈا ہو جاتا ہے یا واقعی کوئی شفاف انکوائری ہوتی ہے۔ کیونکہ انڈر 21 کا اصل مطلب یہی ہے کہ کھیل جوان ہو، نظام بھی جوان ہو، اور سچ بھی جوان رہے۔

#Under21Games #AgeVerification #SportsGovernance #FairPlay #WomenInSports #KPSports #MeritMatters

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1002 Articles with 777652 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More