سیاست اور کھیل: بھائی بھائی کے کھیل میں کھلاڑی بھی کھلتے ہیں
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں سیاست اور کھیل کا رشتہ کچھ ایسا ہے جیسے چائے میں بسکٹ: الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر آخرکار ایک دوسرے کے ساتھ ہی ملتے ہیں۔ سیاست میں ایک دلچسپ مگر عام قاعدہ ہے: اگر کسی خاندان کا ایک بھائی کسی پارٹی میں حکومت کر رہا ہو، تو دوسرا بھائی فوراً دوسری پارٹی کی اپوزیشن میں چلا جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے ہیں، مگر اندرون خانہ تعلقات میں، جیسے کوئی چھپے ہوئے اسٹاک ایکسچینج کے سودے، سب کچھ جاری رہتا ہے۔
اب یہی داستان سپورٹس کی دنیا میں بھی نمودار ہونے لگی ہے۔ قانون صاف کہتا ہے کہ صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا کوئی بھی ملازم کسی ایسوسی ایشن میں حصہ نہیں لے سکتا۔ مگر یہاں پاکستان کی مشہور "یہاں سب کچھ ممکن ہے" منطق کام کرتی ہے۔ خیبرپختونخواہ میں ایک ایسوسی ایشن بنی جس میں ایک صاحب جو خود سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے ملازم ہیں، اپنے علاقے میں نائب صدر بن گئے۔ اور جی ہاں، یہ وہی علاقہ ہے جہاں کھیل کے قوانین اور ضابطے اکثر کسی طوفان میں بہا دیے جاتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ایک مارشل آرٹ کی کوچ کی بیوی، جو خود بھی کوچ ہیں یا کم از کم ٹریننگ میں ہیں، دوسرے کھیل کی ایسوسی ایشن میں عہدیدار بن گئی ہیں۔ یعنی کھیل کی دنیا میں بھی سیاست کی طرح خاندان، رشتے، اور دوستیاں سب کچھ فیصلہ کر رہی ہیں۔ اگر کھلاڑی یا کوچ کسی اصولی کام میں ملوث ہو تو انہیں قوانین کے شکنجے میں نہیں لایا جاتا، مگر اگر آپ کا تعلق رشتہ داروں یا "صحیح لوگوں" سے ہو تو عہدے خود بخود مل جاتے ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ کھلاڑیوں اور عوام کے لیے ایک طنزیہ مثال بھی ہے۔ پاکستان کے اکثر لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ "کیا واقعی یہ ممکن ہے؟" جی ہاں، یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ اگر سیاست میں بھائی بھائی کے کھیل چل رہے ہیں، تو کھیل کی دنیا میں بھی بھائی بھائی کے کھیل ہی چلیں گے۔
سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ اور خیبرپختونخواہ اولمپک ایسوسی ایشن اس پر یا تو نظر انداز کرتے ہیں یا پھر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کوئی رپورٹنگ نہیں، کوئی کارروائی نہیں، اور قوانین کی خلاف ورزی پر بس ایک ہلکی سی آنکھ مٹکتی ہے۔ شاید یہ بورڈ اور ایسوسی ایشن کی اپنی "خاموش مزاحیہ پالیسی" ہے: جو ہو رہا ہے، ہوتا رہے۔اب سوچیں: ایک طرف آپ کے پاس نوجوان کھلاڑی ہیں جو دن رات محنت کر رہے ہیں، اپنے خوابوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ لوگ جو عہدے اپنے رشتوں اور تعلقات کی بنیاد پر لے رہے ہیں۔ یہی وہ "کھیل کی سیاست" ہے جو پاکستان میں بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر ایک دن نوجوان کھلاڑی کسی مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ ایسوسی ایشن کے عہدے "فیملی پالیسی" کے مطابق تقسیم ہو گئے، تو شکایت کس سے کریں؟
یہاں تک کہ بعض اوقات تو یہ منظر کچھ اس طرح کا لگتا ہے: سیاست کی طرح کھیل کی دنیا میں بھی لوگ ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے ہیں، لیکن اندرون خانہ ہر کوئی اپنی جیب گرم کرنے میں لگا رہتا ہے۔ جیسے کہ "بھائی صاحب، آپ اپوزیشن میں ہیں، میں حکومت میں، مگر آخرکار سب فائدہ سب کا ہی ہے"۔اس صورتحال پر سب سے بڑا طنز یہ ہے کہ عام کھلاڑی اور عوام بھی اس سب کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ قوانین کے مطابق نہیں کھیل سکتے، مگر عہدے دار اپنے رشتوں کی بنیاد پر کھل کھیلتے ہیں۔ پاکستان میں کھیل بھی اب سیاست کی طرح ہو گیا ہے: قانون صرف کاغذ پر، اصل میں سب کچھ تعلقات اور "اپنے لوگوں" کے لیے۔
سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ خیبرپختونخواہ میں ممکن ہے، جہاں سیاست اور کھیل ایک ساتھ چمکتے ہیں جیسے دو لائٹ اسٹکس جو ہمیشہ ایک دوسرے کو روشن کرتے ہیں۔ اور پھر پاکستان اسپورٹس بورڈ؟ بس خیر ہے، جی ہاں، بالکل خیر ہے۔ شاید ان کے لیے سب ٹھیک ہے جب تک کہ خبریں میڈیا تک نہ پہنچیں۔یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پاکستان میں کھیل اور سیاست کی دنیا کبھی الگ نہیں ہو سکتی۔ جہاں ایک بھائی حکومت میں ہے اور دوسرا اپوزیشن میں، وہاں کھلاڑی اور کوچ بھی اپنے رشتوں اور تعلقات کی بنیاد پر عہدے پاتے ہیں۔ عوام کی رائے؟ وہ بس ایک ہلکی سی تالی اور سر ہلانے تک محدود رہتی ہے۔
آخرکار یہ سب کچھ صرف اور صرف پاکستان کا کھیل اور سیاست ہے: یہاں قوانین، ضوابط اور اصول صرف کاغذ کے ٹکڑے ہیں، جبکہ اصل کھیل رشتوں، تعلقات اور "اپنے لوگوں" کے لیے ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مزاحیہ حقیقت ہے جو ہم سب کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
#musarratullahjan #kpk #kp #sportnews #mojo #mojosports #kp #article #relation
|