"پینتیس اضلاع میں کھیلوں کا بیڑہ کیوں غرق ہے؟ ایسوسی ایشنز میں جمود اور نئے خون کی کمی"
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہمارے صوبے میں کھیلوں کا بیڑہ کیوں غرق ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں وہی لوگ قدم جمائے ہوئے ہیں جن کا کھیل سے تعلق اتنا ہی ہے جتنا حکومت پاکستان کا عوام سے۔ یہ لوگ ایسوسی ایشنز کے صدر، سیکرٹری، ممبر اور جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے ہر کھیل میں موجود ہیں، چاہے ان کا اس کھیل سے اصل تعلق ہو یا نہ ہو۔
پینتیس اضلاع میں کھیلوں کی تنظیموں کی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ ایک فرد ایک کھیل کا کھلاڑی رہا ہو اور پھر وہی شخص ہر کھیل کی تنظیم میں ذمہ داریاں سنبھالے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص ماضی میں باسکٹ بال کا کھلاڑی رہا ہے، تو وہ نیٹ بال، والی بال، ٹینس، ٹیبل ٹینس اور اتھلیٹکس کی ایسوسی ایشنز میں بھی سرگرم رہتا ہے۔ اس سے صورتحال یہ ہو جاتی ہے کہ ایک ہی شخصیت تقریباً تمام کھیلوں کی دنیا میں چھائی رہتی ہے۔
مارشل آرٹ کی مثال بھی اسی بات کو واضح کرتی ہے۔ مختلف کھیل مارشل آرٹ کے زمرے میں آتے ہیں، لیکن ایک ہی ماسٹر تمام کھیلوں کی مقابلوں اور تنظیمی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے کھیلوں میں نئے لوگوں کو موقع نہیں ملتا۔ صوبائی ایسوسی ایشن کا موقف یہ ہوتا ہے کہ موجودہ افراد کے پاس تجربہ ہے، اور نئے لوگ ان سے سیکھ سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل کو باہر نکالنے کی بجائے پرانی شخصیات اپنی چھتری کے نیچے کھیلوں پر قبضہ جما کر بیٹھ جاتی ہیں۔
یہ مسئلہ صرف مرد کھلاڑیوں تک محدود نہیں ہے۔ خواتین کھلاڑیوں کی بھی یہی حالت ہے۔ پرانے زمانے کی خواتین کھلاڑی جو اپنی جگہ بنا چکی تھیں، اب ہر کھیل کی تنظیم میں گھسی رہتی ہیں، حالانکہ وہ زیادہ تر ٹریننگ یا ریفریشر کورسز میں شامل نہیں ہوتیں۔ ان کی حیثیت صرف رسمی رہ گئی ہے، اور کھیلوں میں واقعی ترقی اور تربیت کی کمی ہے۔ڈسٹرکٹ سپورٹس آفسر اور صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ براہ راست مداخلت کریں اور واضح کریں کہ کون کس کھیل کا سیکرٹری ہے، اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ جب یہ شفافیت آئے گی، تو پتا چلے گا کہ پینتیس اضلاع میں کھیلوں کی تنظیمیں کس طرح ایک یا دو افراد کے گرد گھوم رہی ہیں۔
اس صورتحال کی ایک اور واضح مثال یہ ہے کہ مارشل آرٹ کے کوچز اب سوئمنگ کے کھیلوں میں بھی آ رہے ہیں۔ ان سے پوچھنے پر جواب یہ ملتا ہے کہ صوبے میں کمیاں ہیں، لیکن یہ کمی کس طرح پوری ہوگی؟ یہی سوال کھیلوں کے انتظامیہ کے ناخدا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ موجودہ لوگ اپنی روایتی سیٹ میں بیٹھ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور نئے مسائل پیدا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جمود کب تک چلے گا؟ کیا کھیلوں میں بھی سیاسی میدان کی طرح نئے لوگوں کی ضرورت نہیں؟ نئے افراد نہ صرف جدت لائیں گے بلکہ نئی تربیتی کورسز، جدید طریقے اور شفافیت بھی لے آئیں گے۔ موجودہ نظام کے تحت کھیلوں میں تبدیلی کا امکان کم ہے کیونکہ پرانی شخصیات اپنی طاقت اور اثر و رسوخ برقرار رکھنے پر مرکوز ہیں۔
یہاں ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ ایسوسی ایشنز میں نئے خون کی کمی کھیلوں کی ترقی کو روک رہی ہے۔ تربیت، مقابلے، اور کھلاڑیوں کی نشوونما پر اثر پڑ رہا ہے۔ نوجوان کھلاڑی باصلاحیت ہونے کے باوجود مواقع کی کمی کے باعث کھیلوں سے دور جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف کھیلوں کی کمیونٹی کے لیے نہیں بلکہ پورے صوبے کی کھیلوں کی پالیسی کے لیے خطرناک ہے۔
صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کو چاہیے کہ وہ ایک جامع حکمت عملی تیار کرے۔ ہر کھیل کے سیکرٹری، صدر اور دیگر عہدوں کی لسٹ عوام کے لیے شائع کی جائے۔ نئے کھلاڑیوں، کوچز اور خواتین کھلاڑیوں کو تربیت اور مناصب میں شامل کرنے کے لیے واضح معیار مقرر کیے جائیں۔مزید یہ کہ نئے تربیتی کورسز اور ریفریشر پروگرامز کو باقاعدہ رکھا جائے۔ موجودہ افراد کو صرف نام کے لیے ماسٹر یا سیکرٹری نہ سمجھا جائے، بلکہ ان کی کارکردگی، ٹریننگ اور کھلاڑیوں کی ترقی میں حصہ شامل ہو۔ یہ ایک ضروری قدم ہے تاکہ کھیلوں میں شفافیت اور معیار قائم ہو۔
یہ صورتحال صرف ایک یا دو کھیل تک محدود نہیں۔ ہر کھیل میں یہی جمود اور پرانی شخصیات کی تسلط ہے۔ پینتیس اضلاع میں سوائے پشاور کے، ہر ضلع میں یہی صورتحال ہے۔ ایک ہی فرد کئی عہدوں پر قابض ہے اور نئے لوگوں کے لیے مواقع بند ہیں۔نئے لوگ آنے سے کھیلوں میں جدت، نئے ٹریننگ سسٹمز، اور حقیقی مقابلے آئیں گے۔ موجودہ جمود کے خاتمے کے بغیر، کھیلوں کی ترقی ناممکن ہے۔ نئی نسل کو آگے آنے کی اجازت دی جائے، اور پرانے افراد کو صرف تجربے کے لیے مشاورتی کردار میں رکھا جائے۔
آخری بات یہ کہ کھیلوں کی دنیا میں سیاست کی طرح تبدیلی ناگزیر ہے۔ اگر ہم پینتیس اضلاع میں کھیلوں کو ترقی دیتے دیکھنا چاہتے ہیں، تو نئے لوگوں کو مناصب میں شامل کرنا، تربیت اور شفافیت کو یقینی بنانا، اور پرانی شخصیات کے قبضے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر، کھیلوں کا بیڑہ اسی طرح غرق رہتا ہے، اور نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے باوجود مواقع سے محروم رہیں گے۔
#KhyberPakhtunkhwaSports #SportsCorruption #YouthInSports #NewBloodInSports #SportsAdministration #FemaleAthletes #KPChallenges #SportsTransparency #MartialArts #SportsDevelopment
|