خاموشی کی قیمت، افغان کھلاڑی، غیر رجسٹرڈ کوچز اور خیبرپختونخوا کے کھیلوں میں ابھرتا ہوا غیر شفاف نظام
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے نظام پر تنقید کوئی نئی بات نہیں، مگر ایک ایسا مسئلہ مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے جو مستقبل میں بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ افغان کھلاڑیوں اور کوچز کی موجودگی، ان کی سرپرستی، اور ان کے قانونی و انتظامی اسٹیٹس کے حوالے سے مکمل ڈیٹا کا فقدان۔ یہ معاملہ صرف انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ریاستی نگرانی، مقامی حقوق اور اسپورٹس گورننس کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
خیبرپختونخوا اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ اور اس کے زیر انتظام اسپورٹس کمپلیکسز میں جمناسٹک، مارشل آرٹس، باکسنگ اور دیگر کھیلوں میں افغان نڑاد کھلاڑیوں اور کوچز کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن بنیادی سوالات کے جواب آج تک کسی کے پاس نہیں: کتنے ہیں، کس کی سرپرستی میں ہیں، اور کس قانونی حیثیت کے تحت سرگرم ہیں؟اس معاملے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ افغان نیشنل کھلاڑیوں نے گزشتہ سال کراچی میں منعقد ہونے والے قومی کھیل 2025 میں بھی شرکت کی۔ اس حوالے سے خبریں سامنے آئیں، اعتراضات اٹھے، مگر ادارہ جاتی سطح پر کوئی وضاحت، انکوائری یا پالیسی بیان سامنے نہیں آیا۔
اسی طرح حالیہ خیبر گیمز میں بھی بعض ضلعی کھلاڑیوں نے الزام عائد کیا کہ مقابلوں میں ایسے کھلاڑیوں نے حصہ لیا جو مقامی نہیں تھے۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف قواعد کی خلاف ورزی نہیں بلکہ مقابلوں کی ساکھ پر براہ راست حملہ ہے۔یہاں ایک اہم بات واضح کرنا ضروری ہے:یہ مسئلہ افغان کھلاڑیوں کے خلاف نہیں۔ مسئلہ غیر شفاف شمولیت اور مقامی کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ کا ہے۔جب ایک پاکستانی کھلاڑی برسوں محنت کے بعد ضلعی یا صوبائی سطح تک پہنچتا ہے اور مقابلے میں ایسے افراد کا سامنا کرتا ہے جن کی اہلیت، شہریت یا رجسٹریشن واضح نہیں، تو یہ مقابلہ غیر منصفانہ ہو جاتا ہے۔
اداروں کی خاموشی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر افغان کھلاڑی قومی یا صوبائی مقابلوں میں شرکت کر رہے ہیں تو چند بنیادی سوالات ناگزیر ہیں: کیا انہیں باقاعدہ اجازت دی گئی؟ کیا ان کی شرکت کسی دوطرفہ اسپورٹس پالیسی کے تحت تھی؟ کیا مقامی کھلاڑیوں کو اس پالیسی سے آگاہ کیا گیا؟ اگر جواب نفی میں ہے تو یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ کھیلوں کے نظام کی ساکھ کے لیے خطرہ ہے۔کئی ضلعی کھلاڑی غیر رسمی طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ حالیہ مقابلوں میں "غیر مقامی" کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ مگر خوف، دباو¿ یا موقع کھونے کے خدشے کے باعث وہ کھل کر سامنے نہیں آتے۔
یہ خاموش احتجاج کھیلوں کے نظام پر عدم اعتماد کی علامت ہے۔ جب کھلاڑی نظام پر اعتماد کھو دیں تو ٹیلنٹ رک جاتا ہے، کھیل نہیں۔ مسئلہ افراد نہیں، نظام ہے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ افغان کھلاڑیوں کی موجودگی بذات خود مسئلہ نہیں۔ کھیل ہمیشہ سرحدوں سے بالاتر رہے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شمولیت غیر شفاف، غیر دستاویزی اور غیر جوابدہ ہو۔اگر غیر ملکی کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت ہے تو پالیسی واضح ہونی چاہیے، کوٹہ یا کیٹیگری متعین ہونی چاہیے، مقامی کھلاڑیوں کے حقوق محفوظ ہونے چاہئیں،
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں:،مقامی کھلاڑیوں میں احساس محرومی،مقابلوں کی ساکھ پر سوال،کھیلوں کے نظام پر عوامی اعتماد کا خاتمہ،غیر ضروری قومیتی تناو¿،یہ وہ راستہ ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔اور اس کیلئے سچ کو ریکارڈ پر لانا ہوگااس مسئلے کا حل افغان کھلاڑیوں کو نکالنا نہیں بلکہ نظام کو شفاف بنانا ہے۔
قومی و صوبائی مقابلوں میں شرکت کے قواعد واضح کیے جائیں،تمام کھلاڑیوں کی رجسٹریشن اور شہریت کی تصدیق، غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے واضح پالیسی،شکایات کے لیے آزاد فورم ،مقابلوں کی نگرانی کا شفاف نظام،یہ افغان کھلاڑیوں کے خلاف بیانیہ نہیں۔ یہ پاکستانی کھلاڑیوں کے حق میں آواز ہے۔جب نظام خاموش ہو، ریکارڈ غائب ہو اور قواعد مبہم ہوں تو نقصان ہمیشہ کمزور فریق کا ہوتا ہے۔ اس وقت کمزور فریق مقامی کھلاڑی ہیں، جو میرٹ، شفافیت اور برابر مواقع کے حق دار ہیں۔اگر کھیلوں کو واقعی ترقی دینی ہے تو سب سے پہلے انصاف کو کھیل کے میدان میں واپس لانا ہوگا۔
#NationalGames2025 #KhyberGames #SportsTransparency #FairCompetition #KPSports #AfghanAthletes #PlayerRights #SportsGovernance #IntegrityInSports #LevelPlayingField
|