پی ایس ایل میڈیا ایکریڈیٹیشن: گراﺅنڈ پر صرف کیمرہ اور قلم ہی نہیں بلکہ چاپلوسی بھی ساتھ لانا ہوگی
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں کرکٹ کبھی صرف ایک کھیل نہیں رہی۔ یہ جذبات بھی ہے، سیاست بھی ہے، اور اب تو باقاعدہ ایک بڑی انڈسٹری بھی بن چکی ہے۔ خاص طور پر Pakistan Super League کے بعد تو کرکٹ کے ساتھ اشتہارات، براڈکاسٹ رائٹس، اسپانسرشپ اور برانڈنگ کا ایسا نظام جڑ گیا ہے جس میں اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ جب کاروبار اتنا بڑا ہو جائے تو پھر ضابطے بھی بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضابطے کھیل کے نظم و ضبط کے لیے بنائے جاتے ہیں یا پھر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اسٹیڈیم میں صرف وہی آوازیں سنائی دیں جو خوشگوار ہوں؟
حالیہ دنوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے لیے میڈیا ایکریڈیٹیشن کی جو شرائط جاری کی ہیں، وہ پڑھنے کے بعد ایک صحافی کے ذہن میں کئی دلچسپ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ دستاویز کے شروع میں ایک خوبصورت جملہ لکھا گیا ہے کہ یہ شرائط ادارتی آزادی کو متاثر کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ جملہ پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کسی ڈاکٹر نے مریض کو پہلے ہی تسلی دے دی ہو کہ آپریشن بالکل آسان ہے، بس تھوڑی سی تکلیف ہوگی۔
اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے ہدایات دی گئی ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے کسی کھلاڑی، آفیشل یا ادارے کی بدنامی ہو۔ بظاہر یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ صحافت کا مقصد کسی کی ذاتی تضحیک کرنا نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں مسئلہ لفظوں کا ہے۔ “بدنامی” اور “تضحیک” جیسے الفاظ بہت وسیع معنی رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صحافی کسی سلیکشن پالیسی یا انتظامی فیصلے پر سخت تنقید کرے تو کیا وہ تنقید ہوگی یا بدنامی؟ پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تنقید کو فوراً “غلط زبان” قرار دے دیا جاتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پیغام کچھ یوں ہے: تنقید ضرور کریں، مگر اتنی آہستہ کہ کسی کو سنائی نہ دے۔
پھر آتے ہیں فوٹو جرنلسٹس کی طرف۔ قواعد میں کہا گیا ہے کہ ایکریڈیٹیشن ان لوگوں کے لیے نہیں جو تصاویر کو تجارتی مقاصد کے لیے فروخت کرتے ہیں۔ یہ بات اصولی طور پر درست ہے کیونکہ کسی کھیل کے ایونٹ کی تصاویر کو اشتہارات یا برانڈ مہمات میں استعمال کرنا براڈکاسٹ اور کمرشل حقوق سے ٹکرا سکتا ہے۔ لیکن عملی دنیا میں فوٹو جرنلسٹ تصاویر کیوں لیتے ہیں؟ ظاہر ہے اس لیے کہ وہ انہیں اخبار، ویب سائٹ یا نیوز ایجنسی کو فراہم کریں۔ اگر تصاویر نہ بیچیں تو کیا انہیں فریم کرا کے دیوار پر لگا دیں؟
یہاں اصل مسئلہ وضاحت کا ہے۔ ادارتی استعمال اور کمرشل استعمال کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے۔ ورنہ کل کو کوئی فوٹو جرنلسٹ اگر اپنی تصویر کسی اخبار کو دے دے تو کہیں یہ نہ کہا جائے کہ آپ نے تصویر فروخت کر دی، اس لیے آپ کی ایکریڈیٹیشن ختم۔ویڈیو کے معاملے میں تو صورتحال اور بھی دلچسپ ہو جاتی ہے۔ میچ کے دن غیر سرکاری میڈیا کو ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رپورٹر اسٹیڈیم میں موجود ہوگا، میچ دیکھے گا، نوٹس بھی لے گا، شاید تصویر بھی لے لے، مگر اگر ویڈیو بنانے کی کوشش کرے تو فوراً یاد دلایا جائے گا کہ بھائی صاحب یہ براڈکاسٹ رائٹس کا معاملہ ہے۔
یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ براڈکاسٹ حقوق کسی بھی لیگ کی مالی بنیاد ہوتے ہیں۔ دنیا کی بڑی لیگز میں بھی یہی اصول ہے۔ چاہے وہ Indian Premier League ہو یا آسٹریلیا کی Big Bash League، وہاں بھی ویڈیو کے حوالے سے سخت قوانین ہوتے ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ وہاں ضابطے عام طور پر اتنے واضح ہوتے ہیں کہ صحافی کو کم از کم یہ پتا ہوتا ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔ہمارے ہاں اکثر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ضابطے تو بہت تفصیل سے لکھے جاتے ہیں، مگر ان کی تشریح بعد میں صورتحال کے مطابق کی جاتی ہے۔
اب آتے ہیں اس شق کی طرف جو شاید سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ قواعد کے مطابق ایکریڈیٹیشن کسی بھی وقت منسوخ کی جا سکتی ہے اور اس کے لیے وجہ بتانا بھی ضروری نہیں۔ یہ اختیار یقیناً کسی بھی ایونٹ آرگنائزر کے پاس ہوتا ہے تاکہ نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔ لیکن جب اختیار اتنا وسیع ہو کہ اس کی وضاحت بھی ضروری نہ ہو تو پھر صحافی کے ذہن میں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر کسی نے زیادہ سوال پوچھ لیے تو اس کا کارڈ اگلے میچ تک یادگار بن جائے؟
کرکٹ کی دنیا میں میڈیا کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ صحافی صرف میچ کی رپورٹ نہیں لکھتے بلکہ وہ کھیل کی پوری کہانی عوام تک پہنچاتے ہیں۔ وہ کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہیں، نوجوان ٹیلنٹ کو متعارف کرواتے ہیں اور جب کہیں کوئی مسئلہ ہو تو اس کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی اسپورٹس لیگز میڈیا کو اپنا مخالف نہیں بلکہ شراکت دار سمجھتی ہیں۔
پاکستان میں بھی کرکٹ کی مقبولیت میں میڈیا کا بڑا حصہ ہے۔ ٹی وی کمنٹری سے لے کر اخباری کالموں تک اور اب سوشل میڈیا تک، کرکٹ کی ہر کہانی میڈیا کے ذریعے ہی عوام تک پہنچتی ہے۔ لیکن اگر قواعد ایسے بن جائیں کہ صحافی کو ہر وقت یہ فکر رہے کہ کہیں کوئی جملہ زیادہ سخت نہ ہو جائے تو پھر صحافت کی روح متاثر ہوتی ہے۔
یہاں ایک دلچسپ نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ جب کسی ادارے کو لگتا ہے کہ تنقید اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے تو وہ اکثر ضابطوں کے ذریعے ماحول کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تنقید اکثر اداروں کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ہر طرف صرف تعریف ہی تعریف ہو تو مسائل کبھی سامنے نہیں آتے۔
پی ایس ایل جیسے بڑے ایونٹ کے لیے نظم و ضبط کے قواعد ہونا بالکل ضروری ہیں۔ اسٹیڈیم میں سکیورٹی، براڈکاسٹ حقوق اور کمرشل مفادات سب اہم ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ میڈیا کو یہ احساس ہو کہ وہ اس نظام کا حصہ ہے، صرف مہمان نہیں۔
اگر صحافیوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اسٹیڈیم میں داخلے کے لیے قلم کے ساتھ تھوڑی سی چاپلوسی بھی ضروری ہے تو پھر کھیل کی رپورٹنگ کم اور تعریفوں کا سلسلہ زیادہ ہو جائے گا۔ اور جب صحافت صرف تعریف تک محدود ہو جائے تو پھر کھیل کی اصل کہانی کہیں نہ کہیں گم ہو جاتی ہے۔
آخر میں سوال بہت سادہ ہے۔ کیا میڈیا ایکریڈیٹیشن کا مقصد صرف انتظامی نظم و ضبط ہے یا ایک ایسا ماحول بنانا بھی ہے جہاں صرف وہی آوازیں سنائی دیں جو خوشگوار ہوں؟ اگر مقصد نظم و ضبط ہے تو قواعد کو واضح، متوازن اور شفاف ہونا چاہیے۔ لیکن اگر مقصد یہ ہے کہ اسٹیڈیم میں صرف مثبت جملے ہی گونجیں تو پھر صحافیوں کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے کہ اس بار پی ایس ایل میں صرف کیمرہ اور قلم ہی نہیں بلکہ تھوڑی سی چاپلوسی بھی ساتھ لانا ہوگی۔
#PSL #HBLPSL #PSL2026 #CricketMedia #SportsJournalism #PressFreedom #MediaRights #CricketReporting #PhotoJournalism #DigitalJournalism #MediaAccreditation #SportsMedia #CricketGovernance #JournalismMatters #MediaEthics\
|