زیادہ فنڈ، کم مقابلے: نوشہرہ اسپورٹس سسٹم کا الٹا حساب
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس کے حالیہ اعداد و شمار صرف ایک رپورٹ نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہیں جس میں پورا نظام بے نقاب ہوتا ہے۔ سوال سیدھا ہے مگر جواب پیچیدہ: جب پیسے زیادہ ملے تو ٹورنامنٹس کم کیوں ہو گئے؟سال 2023–24 میں 9.1 ملین روپے خرچ ہوئے اور 38 ٹورنامنٹس کروائے گئے۔ اگلے سال 2024–25 میں فنڈز بڑھ کر 12.7 ملین ہو گئے، مگر مقابلوں کی تعداد گھٹ کر 28 رہ گئی۔ یہ صرف فرق نہیں، یہ تضاد ہے۔ اور یہ تضاد اتفاق نہیں لگتا۔
عام منطق کہتی ہے کہ وسائل بڑھیں تو سرگرمی بڑھے۔ یہاں اس کے برعکس ہوا۔ اس کا مطلب یا تو منصوبہ بندی میں مسئلہ ہے، یا ترجیحات بدل گئی ہیں، یا پھر کہیں نہ کہیں فنڈز کا استعمال وہ نہیں جو کاغذوں میں دکھایا جا رہا ہے۔اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں بات محض اعداد و شمار سے نکل کر جوابدہی تک پہنچتی ہے۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ 10 ٹورنامنٹس کم ہوئے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اضافی 3.6 ملین روپے کا نتیجہ کیا نکلا؟ اگر معیار بہتر ہوا تو اس کا ثبوت کہاں ہے؟ کتنے کھلاڑی آگے آئے؟ کتنے قومی سطح تک پہنچے؟ کتنے کلب بنے یا رجسٹر ہوئے؟
ان سوالوں پر جب ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس سے جواب مانگا گیا تو موقف آیا: “یہ ہمارا موضوع نہیں، ایسوسی ایشن سے پوچھیں۔” یہ جواب نہیں، ذمہ داری سے بچنے کا طریقہ ہے۔ اگر فنڈز آپ کے پاس ہیں، ٹورنامنٹس آپ کروا رہے ہیں، تو نتائج سے لاتعلقی کیسے ممکن ہے؟ پھر آپ کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟ صرف ایونٹ کروانا؟ صرف رپورٹ بنانا؟ یہاں ایک بنیادی غلط فہمی نظر آتی ہے کہ سرکاری اسپورٹس آفس خود کو سروس پرووائیڈر سمجھ رہا ہے، نہ کہ پبلک فنڈز کا جوابدہ ادارہ۔
مزید الجھن اس وقت بڑھتی ہے جب ایسوسی ایشنز کی بات آتی ہے۔ بتایا گیا کہ صرف فٹبال اور والی بال کی ضلعی سطح پر رجسٹریشن ہے، باقی تمام کھیل ریجنل سطح پر ہیں۔تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ باقی کھیلوں کے ٹورنامنٹس کس کے تحت ہوئے؟ کھلاڑیوں کی شناخت اور سلیکشن کس نے کی؟ فنڈز کس بنیاد پر تقسیم کیے گئے؟ اگر کوئی واضح ڈھانچہ ہی نہیں، تو پھر یہ پورا سسٹم غیر رسمی بنیادوں پر چل رہا ہے۔ اور غیر رسمی سسٹمز میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ وہاں شفافیت نہیں ہوتی۔
ایک اور اہم نکتہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ ہے معلومات کی تاخیر۔ یہ ڈیٹا فوری طور پر نہیں دیا گیا بلکہ کم از کم دو سال بعد سامنے آیا۔ یہ تاخیر خود ایک سوال ہے۔ اگر ریکارڈ موجود تھا تو پہلے کیوں نہیں دیا گیا؟ اور اگر موجود نہیں تھا تو پھر دو سال تک کام کس بنیاد پر ہو رہا تھا؟ یہ دونوں صورتیں کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔ یا تو ڈیٹا مینجمنٹ ناقص ہے یا پھر معلومات کو روکا گیا۔ یہاں ایک اور خطرناک رجحان واضح ہوتا ہے جسے سادہ الفاظ میں “ایونٹ کلچر” کہا جا سکتا ہے۔ یعنی ٹورنامنٹ کرواو¿، تصاویر بناو¿، رپورٹ جمع کرواو¿، اور فائل بند۔لیکن کھیل صرف ایونٹس کا نام نہیں۔ اصل کھیل وہ ہے جو ان ایونٹس کے بعد پیدا ہوتا ہے
نیا ٹیلنٹ، مضبوط کلب سسٹم، مستقل ٹریننگ، اور کھلاڑیوں کی ترقی، اگر یہ سب نہیں ہو رہا، تو پھر ٹورنامنٹس صرف نمبرز ہیں، نتائج نہیں۔اب اگر کوئی یہ دلیل دے کہ مہنگائی کی وجہ سے اخراجات بڑھ گئے، تو یہ جزوی طور پر درست ہو سکتا ہے۔ لیکن مہنگائی اس حد تک جواز نہیں دیتی کہ فنڈز بڑھ جائیں اور سرگرمی کم ہو جائے۔ اسی طرح اگر کہا جائے کہ معیار بہتر کیا گیا، تو پھر اس کا کوئی قابلِ پیمائش ثبوت ہونا چاہیے۔ صرف دعویٰ کافی نہیں۔
نوشہرہ کے کھلاڑی اور مقامی افراد اس پوری صورتحال کے سب سے اہم گواہ ہیں۔ وہ بہتر جانتے ہیں کہ کتنے ٹورنامنٹس حقیقت میں ہوئے، کتنے صرف کاغذوں تک محدود رہے، اور کتنے میں اصل مقابلہ دیکھنے کو ملا۔سرکاری رپورٹ ایک کہانی سناتی ہے، مگر گراو¿نڈ ریئلٹی اکثر دوسری ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ کسی ایک ضلع تک محدود نہیں۔ یہ پورے اسپورٹس سسٹم کی ایک جھلک ہے جہاں فنڈز، ایونٹس اور نتائج کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں۔ جب تک فنڈز کو نتائج کے ساتھ جوڑا نہیں جائے گا، تب تک یہی ہوتا رہے گا:زیادہ پیسے، کم اثر۔
حل مشکل نہیں، مگر نیت درکار ہے۔ سب سے پہلے، ہر خرچ کو کسی نہ کسی نتیجے سے جوڑنا ہوگا۔ صرف یہ کافی نہیں کہ ٹورنامنٹ ہوا، یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس سے کیا حاصل ہوا۔دوسرا، تمام ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔ کون سا ٹورنامنٹ کب ہوا، کتنے کھلاڑی شریک ہوئے، کیا نتائج نکلے۔ تیسرا، ایسوسی ایشنز کا واضح اور رجسٹرڈ ڈھانچہ ہونا چاہیے تاکہ ذمہ داری تقسیم ہو سکے۔ چوتھا، سالانہ آڈٹ صرف مالی نہ ہو بلکہ کارکردگی کا بھی ہو۔ اور سب سے اہم، کھلاڑیوں کی آواز کو شامل کیا جائے۔ کیونکہ اصل سچ وہیں سے آتا ہے، فائلوں سے نہیں۔
آخر میں بات پھر وہی آتی ہے یہ مسئلہ صرف نمبرز کا نہیں، نیت اور نظام کا ہے۔ اگر ایک ادارہ یہ کہے کہ فنڈز ہم استعمال کرتے ہیں مگر نتائج ہماری ذمہ داری نہیں، تو پھر مسئلہ فنڈز کی کمی نہیں، بلکہ جوابدہی کی کمی ہے۔ اور جب تک جوابدہی نہیں آئے گی، تب تک یہی الٹا حساب چلتا رہے گا زیادہ پیسے، کم کھیل۔
#SportsCorruption #Nowshera #SportsGovernance #Accountability #PublicFunds #SportsDevelopment #Transparency #PakistanSports #GrassrootsSports #InvestigativeJournalism
|