کینیڈا کا اسپورٹس سسٹم “غیر محفوظ” قرار، پاکستان کے لیے ایک وارننگ
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کبھی کبھار کسی ملک کی ایک رپورٹ پوری دنیا کے لیے آئینہ بن جاتی ہے۔ کینیڈا میں “فیوچر آف اسپورٹ کمیشن” کی تازہ رپورٹ ایسی ہی ایک دستاویز ہے، جس نے دو سالہ تحقیق کے بعد واضح طور پر کہا ہے کہ ملک کا اسپورٹس سسٹم غیر محفوظ، منتشر اور فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔ تقریباً 100 فوری اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ زبان نرم نہیں بلکہ سیدھی اور بے لاگ ہے۔یہ بات اہم ہے۔
کیونکہ جب ایک ترقی یافتہ ملک کھل کر یہ مانتا ہے کہ اس کا نظام اپنے کھلاڑیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو رہا ہے، تو یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے: ان ممالک کا کیا حال ہوگا جہاں کبھی ایسی جامع تحقیق ہی نہیں ہوئی؟ایک ایسا نظام جو کھلاڑیوں کو تحفظ نہ دے سکاکینیڈا کی رپورٹ کسی مفروضے پر نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ ایک ہزار سے زائد افراد، جن میں 175 متاثرین بھی شامل ہیں، کی گواہی کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا کہ مسئلہ چند افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تین بنیادی ناکامیاں سامنے آئیں:
پہلی، نظام کا بکھرا ہونا۔وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر اختیارات تقسیم ہیں، مگر مکمل نگرانی کسی ایک ادارے کے پاس نہیں۔ نتیجہ یہ کہ خلا پیدا ہوتا ہے، اور یہی خلا بدسلوکی کو جگہ دیتا ہے۔دوسری، کمزور گورننس۔بیشتر اسپورٹس ادارے رضاکار بورڈز پر چل رہے ہیں، جہاں مفادات کا ٹکراو¿، غیر مستقل فیصلے اور کمزور احتساب عام ہے۔ تیسری، فنڈنگ کی کمی۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ کم وسائل کا مطلب صرف کم سہولیات نہیں بلکہ کمزور سیفٹی سسٹم بھی ہے۔ یعنی “کم فنڈنگ والا سسٹم، غیر محفوظ سسٹم ہوتا ہے”۔
یہ مسئلہ صرف ڈھانچے کا نہیں بلکہ کلچر کا بھی ہے۔ کینیڈا میں کھلاڑی شکایات کرنے سے اس لیے ڈرتے رہے کیونکہ انہیں اپنے کیریئر، سلیکشن اور مواقع کھونے کا خوف تھا۔ کئی کیسز میں شکایات انہی اداروں کے اندر حل کی جاتی رہیں جن پر الزامات تھے۔ یہ ایک واضح پاور امبیلنس ہے۔ جب کوچز اور عہدیدار کھلاڑی کے مستقبل پر مکمل کنٹرول رکھتے ہوں، تو شکایت کرنا خطرہ بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں خاموشی ہی “محفوظ راستہ” بن جاتی ہے۔
کینیڈا کیا بدلنا چاہتا ہے؟ کمیشن نے جو تجاویز دی ہیں، وہ معمولی نہیں بلکہ نظام کی جڑوں کو بدلنے والی ہیں: ایک مرکزی قومی اسپورٹس ادارہ جو پالیسی، فنڈنگ اور سیفٹی کی نگرانی کرے ایک آزاد سیف اسپورٹ اتھارٹی جسے ملک بھر میں تحقیقات کا اختیار ہو سزا یافتہ افراد کا پبلک ریکارڈ، فنڈنگ میں اضافہ اور اس کا باقاعدہ آڈٹ ایک واضح حکومتی ڈھانچہ جس میں ایک ہی وزیر کھیل ذمہ دار ہویہ سب اقدامات اس لیے تجویز کیے گئے ہیں تاکہ نظام کو بکھراو¿ سے نکال کر ایک مربوط شکل دی جا سکے۔
اب پاکستان کی طرف دیکھیں یہ وہ مقام ہے جہاں بات حساس ہو جاتی ہے۔ اگر کینیڈا جیسے ملک میں اتنی گہری خامیاں نکل سکتی ہیں، تو پاکستان میں، جہاں کوئی ایسی قومی سطح کی تحقیق نہیں ہوئی، صورتحال کتنی مختلف ہوگی؟ یہاں بھی نظام بکھرا ہوا ہے فیڈریشنز اور صوبائی ادارے الگ الگ چل رہے ہیں ، نگرانی کا کوئی مضبوط، آزاد نظام موجود نہیں شکایات کا کوئی قابل اعتماد پلیٹ فارم نہیںاور سب سے اہم بات، ہم نے کبھی خود سے یہ سوال سنجیدگی سے پوچھا ہی نہیں
اگر اسے خیبرپختونخوا تک محدود کریں تو تصویر اور واضح ہو جاتی ہے۔ یہاں اکیڈمیز موجود ہیں، ٹیلنٹ بھی ہے، اور کچھ کامیابیاں بھی نظر آتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی، سلیکشن کے عمل پر سوالات، نگرانی کے کمزور نظام،شکایات کے لیے کوئی آزاد فورم نہیں یہ سب وہی عناصر ہیں جنہیں کینیڈا کی رپورٹ نے “سسٹمک مسئلہ” قرار دیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ان مسائل کو تسلیم کیا جا رہا ہے، یہاں نہیں۔
سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ اگر کوئی بڑا اسکینڈل سامنے نہ آئے تو ہم سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ کینیڈا کی رپورٹ نے یہ تصور توڑ دیا ہے۔ وہاں مسائل سالوں سے موجود تھے، مگر تب تک نظر نہیں آئے جب تک باقاعدہ تحقیق نہیں ہوئی۔ پاکستان میں شاید یہی مرحلہ ابھی آیا ہی نہیں۔
اصل ضرورت کیا ہے؟ اگر کوئی سبق لیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ آدھے ادھورے اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ ایک کمیٹی یا ایک پالیسی سے نظام نہیں بدلتا۔ پاکستان کو ضرورت ہے:ایک مرکزی اور مربوط اسپورٹس فریم ورک کی، ایک آزاد سیف اسپورٹ اتھارٹی کی،شفاف فنڈنگ اور باقاعدہ آڈٹ کی، مضبوط گورننس قوانین کی، کھلاڑیوں کے لیے محفوظ شکایتی نظام کی ورنہ موجودہ ڈھانچہ غیر رسمی تعلقات اور اندرونی کنٹرول پر ہی چلتا رہے گا۔کینیڈا نے مسئلہ پہچان لیا ہے، اب اصل امتحان عملدرآمد کا ہے، پاکستان ابھی اس مرحلے تک بھی نہیں پہنچا۔ یہی سب سے بڑا فرق ہے۔
کینیڈا کی رپورٹ میں ایک جملہ بار بار سامنے آتا ہے“موجودہ نظام قابل قبول نہیں” یہ جملہ صرف کینیڈا کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس ملک کے لیے ہے جہاں کھیلوں کا نظام خود احتسابی سے گریز کرتا ہے۔سوال یہ نہیں کہ مسئلہ ہے یا نہیں۔سوال یہ ہے، کیا ہم اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟ #pakistan #sports #system #kpk #kp #pakistangames #canada
|