پانچ سال کی نیند، ایک کپ چائے اور “جلد” کی نئی امید — خیبر پختونخوا کے کھیلوں کا سالانہ ڈرامہ

پشاور میں ایک بار پھر وہی ہوا جو پچھلے کئی سالوں سے ہوتا آیا ہے۔ ایک میٹنگ ہوئی، تصویریں بنیں، ہاتھ ملائے گئے، چائے پی گئی، اور پھر ایک جملہ بولا گیا جو پاکستانی سپورٹس سسٹم کا سب سے مضبوط ستون ہے:“جلد مسائل حل کر دیے جائیں گے” اگر اس جملے کو اولمپکس میں شامل کر دیا جائے تو یقین کریں خیبر پختونخوا گولڈ میڈل لے آئے گا۔ پانچ سال کہاں گئے؟چلیں سیدھی بات کرتے ہیں۔ پانچ سال تک گرانٹس بند رہیں۔ پانچ سال۔ یہ کوئی چھوٹا سا انتظامی سست روی نہیں، یہ پورا ایک “پلانڈ سائلنس” لگتا ہے۔ اس دوران حکومتیں بدلیں،افسران تبدیل ہوئے،بجٹ آئے اور گئے، پریس ریلیز جاری ہوتی رہیں لیکن گرانٹس؟ وہ شاید کسی فائل میں سو رہی تھیں، اور آج اچانک انہیں جگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ گرانٹس کیوں بند تھیں۔اصل سوال یہ ہے،کسی نے پانچ سال تک پوچھا کیوں نہیں؟ اگر ایک صحافی، ایک کھلاڑی یا ایک ایسوسی ایشن یہ سوال نہ اٹھائے تو کیا سسٹم خود کبھی جاگتا؟میٹنگ یا “ریچارج سیشن”؟ یہ ملاقات زیادہ ایک “ریچارج سیشن” لگتی ہے۔یعنی، ایسوسی ایشنز آئیںاپنی فرسٹریشن نکالی حکومت نے کہا “ہم ہیں نا” اور سب گھر چلے گئے یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے موبائل کی بیٹری 1% پر ہو اور آپ اسے پاور بینک سے لگانے کے بجائے صرف اسکرین کی برائٹنس کم کر دیں۔مسئلہ حل نہیں ہوا، صرف وقتی طور پر مینج ہوا۔

جب بھی کوئی سرکاری افسر یا وزیر کہتا ہے “جلد”، تو آپ سمجھ جائیں کہ نہ کوئی تاریخ ہے، نہ کوئی پلان، نہ کوئی احتساب “جلد” ایک ایسافلیکس ایبل لفظ ہے جو ایک ہفتہ بھی ہو سکتا ہےایک سال بھی اور بعض کیسز میں، کبھی نہیں بھی یہ لفظ دراصل ایک خوبصورت طریقہ ہے یہ کہنے کا،“ابھی کچھ نہیں ہونے والا، لیکن آپ کو مطمئن رکھنا ضروری ہے”یہاں پر کھلاڑی سسٹم میںمفت کا مزدور ہے.

خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کی حالت کچھ یوں ہے،،وہ کھیلتے خود ہیں، خرچ خود کرتے ہیں سفر خود مینیج کرتے ہیںاور واپسی پر انہیں ایک سرٹیفیکیٹ اور “شاباش” ملتی ہے اگر خوش قسمت ہوں تو کبھی کبھار ایک اعلان بھی ہو جاتا ہے کہ انہیں کیش انعام ملے گا۔لیکن وہ انعام کب ملتا ہے؟ یہ ایک الگ کہانی ہے، جو اکثر “جلد” کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ، کھلاڑی اس سسٹم میں اثاثہ ہی نہیں، بلکہ ڈسپوز یبل ئٹم ہیں۔ جب تک وہ جیت رہے ہیں، ان کی تصاویر استعمال ہوں گی۔ جب وہ فنڈز مانگیں گے، انہیں خاموشی ملے گی۔ کیش انعامات: دیر آئے، درست آئے یا بس آئے؟ نیشنل گیمز کے میڈل ونرز کے لیے کیش انعامات کا اعلان سن کر ایسا لگتا ہے جیسے حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہو۔

لیکن ذرا رک کر سوچیں یہ انعامات پہلے کیوں نہیں دیے گئے؟ کیا اس کے لیے بھی پانچ سال انتظار ضروری تھا؟ کیا یہ پالیسی ہے یا صرف ایک کنٹرول ڈیمج موو ، یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے آپ کسی کو پانچ سال تنخواہ نہ دیں، اور پھر ایک دن اسے بونس دے کر کہیں،“دیکھیں ہم آپ کا خیال رکھتے ہیں”

یہاں ایک اہم نکتہ ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔مسئلہ صرف پیسے کا نہیں ہے۔ مسئلہ گورننس کا ہے۔ خیبر پختونخوا میں اسپورٹس سسٹم کی بنیادی خامیاں موجود ہیں جن میں کوئی واضح فنڈنگ میکنزم نہیں،کوئی ڈیڈ لائن کلچر نہیں، کوئی پبلک اکاونٹیبلٹی نہیں، اور سب سے بڑھ کر، کوئی لمبی منصوبہ بندی نہیں ہر چیزایڈہاک بنیادوں پر چل رہی ہے۔ آج میٹنگ ہے، کل بھول جائیں گے، پھر چھ ماہ بعد دوبارہ وہی مسئلہ۔ بیوروکریسی ہی : اصل کھلاڑی ہیں اگر اس پورے سسٹم میں کوئی consistent performer ہے تو وہ بیوروکریسی ہے۔

فائلیں ایک ٹیبل سے دوسری ٹیبل،ایک دفتر سے دوسرے دفتر،ایک دستخط سے دوسرے دستخط یہ ایک ایسا relay race ہے جس میں فائل کبھی finish line تک نہیں پہنچتی۔ اور مزے کی بات؟ ہر افسر تکنیکی بنیادوں پر صحیح ہوتا ہے، کیونکہ اس نے “پراسیس فالو” کیا ہوتا ہے۔کھلاڑی گھر بیٹھا ہوتا ہے، اور فائل ابھی بھی سفر میں ہوتی ہے۔ ایک سال کی نئی امید — یا نیا بہانہ؟

اب آتے ہیں سب سے دلچسپ حصے پریہ ملاقات ایک نئی امید دے رہی ہے — ایک سال کی امید۔یعنی، اگلے ایک سال تک یہی کہا جائے گا کہ “کام جاری ہے” اگلے ایک سال تک کھلاڑی انتظار کریں گے اگلے ایک سال تک رپورٹس بنتی رہیں گی اور اگر کچھ نہ ہوا تو؟ تو ایک اور میٹنگ ہوگی، اور ایک اور “جلد” کا وعدہ۔ یہ ایک cycle ہے، اور فی الحال اس کا کوئی exit نظر نہیں آتا۔ اگر واقعی کچھ کرنا ہے تو… چلیں سیدھی بات کرتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے، تو اسے یہ کام کرنے ہوں گے:

ڈیڈ لائن دیں، مبہم باتیں نہیںایک تاریخ بتائیں: گرانٹس کب جاری ہوں گی۔ اگر تاریخ مس ہو تو وجہ بھی بتائیں۔ مکمل ڈیٹا پبلک کریں کتنی گرانٹس التواءہیں؟ کل رقم کتنی ہے؟ کن ایسوسی ایشنز کو ملنی ہے؟ یہ سب پبلک ہونا چاہیے۔ ذمہ داران کا تعین کریںپانچ سال کی تاخیر کوئی چھوٹی بات نہیں۔ کسی نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ ایسوسی ایشنز کےساتھ ساتھ ، کھلاڑیوں کو بھی سپورٹس کریں ۔. سسٹم ڈیجیٹل کریںجب تک سب کچھ فائلوں پر چلے گا، یہی ہوگا۔ایک آن لائن ٹریکنگ سسٹم ہونا چاہیے جہاں ہر ادائیگی کا پتہ چلے۔

اگر آپ ایمانداری سے دیکھیں تو یہ پوری کہانی ایک جملے میں سمجھی جا سکتی ہے:یہ مسئلہ پیسے کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ جب حکومت چاہے، ایک دن میں فنڈز جاری ہو سکتے ہیں۔ جب حکومت نہ چاہے، پانچ سال بھی کم پڑ جاتے ہیں۔صوبائی مشیر کیساتھ اولمپک ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی یہ ملاقات بری نہیں تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کافی نہیں تھی۔

یہ ایک آغاز ہو سکتا تھا، اگر: اس کے ساتھ ٹائم لائن ہوتی اس کے ساتھ احتساب ہوتی اس کے ساتھ ایکشن پلان ہوتا لیکن فی الحال، یہ زیادہ تر ایک “آرام دہ میٹنگ” لگتی ہے جس نے سب کو تھوڑا سا مطمئن کر دیا ہے — وقتی طور پر۔ کھلاڑی اب بھی انتظار میں ہیں۔ ایسوسی ایشنز اب بھی فنڈز کے بغیر ہیں۔ اور سسٹم اب بھی ویسا ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ایک نئی لائن شامل ہو گئی ہے:“جلد سب ٹھیک ہو جائے گا” اور خیبر پختونخوا کے کھیلوں میں، یہی سب سے پرانا مذاق ہے۔

KPSports #SportsCrisis #SportsGovernance #AthleteStruggles #SportsFunding #GrantDelay #PublicFunds #SportsPolicyFailure #AccountabilityNow #WhereIsTheMoney #FollowTheFunds #GovernanceFailure #PolicyBreakdown #SystemFailure #DemandTransparency #AuditNeeded #SupportAthletes #PayThePlayers #AthleteRights #SportsJustice #FairFunding #StopNeglect #KPGovernment #PublicAccountability #BrokenPromises #ActionNotWords #TimeForReform #FixTheSystem #InvestigativeJournalism #ExposeTheTruth #GroundReality #BeyondStatements #RealStory


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776594 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More