ہاکی: نظام کی ناکامی یا دانستہ بربادی؟

پاکستان میں ہاکی کی موجودہ حالت پر سنجیدگی سے نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ صرف زوال نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران ہے جو مسلسل نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہاکی کیوں گر رہی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اسے سنبھالنے کے لیے سنجیدہ اور مستقل کوشش کیوں نظر نہیں آتی۔ہر سال پاکستان ہاکی فیڈیشن کی جانب سے ہاکی کی بحالی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ ٹیلنٹ تلاش کرنے، ملک بھر میں کھیل کے فروغ اور نئے ڈھانچے کی بات ہوتی ہے۔ مگر زمینی حقیقت ان دعووں سے مختلف ہے۔ نہ واضح پالیسی دکھائی دیتی ہے، نہ گراس روٹ لیول پر سرمایہ کاری، اور نہ ہی وہ بنیادی نظام جس کے بغیر کسی بھی کھیل کی ترقی ممکن نہیں۔

کسی بھی کھیل کی بنیاد اسکول لیول پر رکھی جاتی ہے، مگر پاکستان میں یہی سطح سب سے زیادہ متاثر ہے۔ سرکاری اسکولوں میں ہاکی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ نہ گراونڈز فعال ہیں، نہ کوچز موجود ہیں، اور نہ ہی کھیل کا سامان دستیاب ہے۔یہ صورتحال صرف فیڈریشن تک محدود نہیں۔ صوبائی حکومتیں، خاص طور پرخیبرپختونخواہ حکومت بھی اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔ فنڈنگ محدود ہے، پروگرام غیر مربوط ہیں، اور گراس روٹ لیول پر کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ اگر اسکول لیول پر کھیل ہی نہیں ہوگا تو آگے جا کر ضلع، ڈویڑن اور قومی سطح پر ٹیلنٹ کہاں سے آئے گا؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔

ہاکی اب آہستہ آہستہ ایک مہنگا کھیل بنتی جا رہی ہے۔ ایک عام کلب بنانے کے لیے تین سے چار لاکھ روپے درکار ہوتے ہیں، جبکہ ہاکی اسٹکس، بالز اور خاص طور پر گول کیپر کٹس کی قیمتیں عام گھرانے کی پہنچ سے باہر ہیں۔ایسے میں جب ایسوسی ایشن کے بھی اخراجات ہوتے ہیں تو پھر کوئی تو ہو جو کھلاڑیوں کے اخراجات برداشت کرے اور انہیں مواقع بھی دیں تو کھیل مزید محدود ہو جاتا ہے۔ کئی جگہوں پر کھلاڑیوں کو اپنی جیب سے سفر، کٹس اور فیس تک ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ ماڈل طویل مدت میں کسی بھی کھیل کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ٹیلنٹ کو نہیں، وسائل رکھنے والوں کو آگے لاتا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی چیمپئن شپ پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کیا یہ واقعی ٹیلنٹ تلاش کرنے کے لیے ہیں یا صرف رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہیں؟ اکثر انہی ٹیموں اور کھلاڑیوں کو موقع ملتا ہے جو پہلے سے سسٹم کا حصہ ہیں۔ دور دراز علاقوں اور نئے کھلاڑیوں کے لیے راستے محدود ہیں۔ اگر ہاکی کو فروغ دینا ہے تو ایک واضح اور مرحلہ وار ڈھانچہ ضروری ہے:

اسکول لیول اس کے بعد تحصیل لیول جس کے بعد ضلعی لیول پر مقابلے ضروری ہیں جسے بعد میں ڈویڑن لیول اور قومی سطح پر لانے کی ضرورت ہے.اس ترتیب کے بغیر مقابلے صرف نمائشی رہ جاتے ہیں۔ موجودہ نظام کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ کئی علاقے مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔ سندھ کے اندرونی علاقے، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں کو وہ مواقع نہیں ملتے جو بڑے شہروں کے کھلاڑیوں کو حاصل ہیں۔یہ صورتحال صرف انتظامی کمی نہیں بلکہ ایک غیر متوازن نظام کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں پورے ملک کی نمائندگی یقینی نہیں بنائی جا رہی۔ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، مگر سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبرپختونخواہ کے اندر موجود چیلنجز اس ٹیلنٹ کو سامنے آنے سے روکتے ہیں۔

یہاں ایک اہم مسئلہ کوچنگ اور تقرریوں کا بھی ہے۔ ایسے کیسز سامنے آتے رہے ہیں جہاں کوچنگ عہدوں پر ایسے افراد موجود ہیں جن کا عملی تجربہ محدود ہے، یا جنہوں نے نمایاں سطح پر کھلاڑی تیار نہیں کیے۔ یہ صورتحال سوال اٹھاتی ہے کہ کیا کوچنگ کے لیے میرٹ اور کارکردگی کو بنیادی معیار بنایا جا رہا ہے یا نہیں۔ یہاں احتیاط ضروری ہے: تمام کوچز کو ایک ہی پیمانے پر پرکھنا درست نہیں، مگر نظام میں شفافیت اور کارکردگی کی بنیاد پر جائزہ لینا ناگزیر ہے۔یہ کہنا آسان ہے کہ وسائل کم ہیں، مگر اصل مسئلہ صرف وسائل کا نہیں بلکہ ان کے استعمال کا بھی ہے۔ جب تک شفافیت، احتساب اور واضح حکمت عملی نہیں ہوگی، تب تک بہتری مشکل رہے گی۔فیڈریشن، صوبائی ادارے اور ایسوسی ایشن اگر اپنی ذمہ داریوں کو واضح نہ کریں تو نقصان صرف کھلاڑی اور کھیل کو ہوتا ہے۔

ہاکی کی بحالی کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں،اسکول لیول پر ہاکی کی بحالی اور کوچز کی تعیناتی،سرکاری سطح پر کھیل کے سامان کی فراہمی یا سبسڈی،ضلعی اور ڈویڑن لیول پر باقاعدہ ٹورنامنٹس،قومی سطح پر متوازن نمائندگی کو یقینی بنانا،کوچنگ اور سلیکشن کے عمل میں شفافیت،یہ اقدامات مشکل ضرور ہیں، مگر ناممکن نہیں۔اگر موجودہ طریقہ کار جاری رہا تو ہاکی کا زوال مزید گہرا ہوگا۔ صرف بیانات اور روایتی چیمپئن شپ اس کھیل کو واپس نہیں لا سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ ہاکی کو بچانے کے لیے گراس روٹ لیول پر مستقل اور سنجیدہ کام کرنا ہوگا۔ اگر ادارے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے، تو مسئلہ وسائل سے زیادہ سوچ کا ہے۔

#PakistanHockey #GrassrootsReform #SportsGovernance #KPKSports #HockeyCrisis #FixTheSystem #YouthDevelopment

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1001 Articles with 776631 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More