ڈیپارٹمنٹل سپورٹس: ایک فیصلے نے نظام توڑا، اور ایک حکومت اسے صرف بیانات میں جوڑ رہی ہے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں کھیلوں کے زوال کی کہانی اب کسی ایک واقعے یا ایک فیصلے تک محدود نہیں رہی، لیکن اگر اس بحران کی جڑ تلاش کی جائے تو ایک واضح موڑ سامنے آتا ہے: ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کا خاتمہ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک پورا نظام، جو دہائیوں میں بنا تھا، چند پالیسی فیصلوں کی زد میں آ کر بکھر گیا۔سابق حکومت، جس کی قیادت عمران خان کر رہے تھے، نے اس اقدام کو “اصلاحات” کا نام دیا۔ مو¿قف یہ تھا کہ سرکاری اداروں کی ٹیمیں کھیلوں پر غیر ضروری بوجھ ہیں، اور ان کی جگہ ایک جدید، کلب بیسڈ سسٹم لایا جائے گا۔کاغذ پر یہ دلیل پرکشش تھی، لیکن زمین پر یہ فیصلہ ایک پالیسی تجربہ ثابت ہوا — اور وہ بھی ایسا جس کی قیمت پورے اسپورٹس سسٹم نے چکائی۔
ڈیپارٹمنٹل سپورٹس صرف ٹیموں کا نام نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل ڈھانچہ تھا جس میں کھلاڑیوں کو سرکاری نوکریاں ملتی تھیں،مالی استحکام حاصل ہوتا تھامستقل ٹریننگ اور مقابلوں کا ماحول موجود تھا،ایک واضح کیریئر پاتھ تھا یہ نظام خاص طور پر نچلے اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے لیے زندگی بدلنے کا ذریعہ تھا۔ جب یہ ختم ہوا، تو صرف ٹیمیں نہیں ختم ہوئیں، بلکہ ایک سوشل اور اکنامک سیفٹی نیٹ بھی ختم ہو گیا۔
یہ کہنا آسان ہے کہ ڈیپارٹمنٹل سپورٹس میں خامیاں تھیں — اور واقعی تھیں۔،سفارش، غیر فعال کھلاڑی،شفافیت کی کمیلیکن اصل سوال یہ ہے،کیا ان خامیوں کو دور کیا گیا یا پورا نظام ہی ختم کر دیا گیا؟حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے اصلاح کے بجائے خاتمے کا راستہ اختیار کیا، اور یہیں سب سے بڑی غلطی ہوئی۔اس سے بھی بڑی غلطی یہ تھی کہ متبادل نظام کے لیے کوئی سنجیدہ تیاری نہیں کی گئی۔
حکومت نے یورپی طرز کے کلب سسٹم کی بات کی، لیکن یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ پاکستان میں کلب کلچر موجود نہیں،نجی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہےانفراسٹرکچر کمزور ہےنتیجہ یہ نکلا کہ ایک موجود نظام ختم کر دیا گیا، اور اس کی جگہ کچھ بھی نہیں آیا۔یہ پالیسی نہیں، بلکہ ایک ادھورا تجربہ تھا۔اس فیصلے کے اثرات سب سے زیادہ نوجوانوں پر پڑے۔ایک عام نوجوان کے لیے کھیل اب کیا ہے؟،غیر یقینی مستقبل،کوئی مالی تحفظ نہیں،کوئی واضح راستہ نہیں، پہلے کھیل ایک کیریئر آپشن تھا، اب صرف ایک رسک بن چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ،نئی ٹیلنٹ پائپ لائن تقریباً رک چکی ہے۔
وقت گزرا، تنقید بڑھی، اور اب موجودہ حکومت نے ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے بیانات دیے، جس میں کہا گیا کہ کھیلوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اداروں کو فعال کیا جائے گا۔لیکن یہاں مسئلہ وہی پرانا ہے کوئی واضح پالیسی نہیں کوئی عملی اقدام نہیں،کوئی ٹائم لائن نہیںیعنی جو نظام ختم کیا گیا تھا، اسے بحال کرنے کی بات تو ہو رہی ہے، لیکن صرف الفاظ کی حد تک۔
یہ بحالی نہیں، بیانیہ ہے اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی تو تمام سرکاری اداروں کو ہدایات جاری ہوتیںاسپورٹس کوٹہ بحال کیا جاتا نئی بھرتیاں شروع ہوتیںبجٹ مختص کیا جاتالیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کچھ بھی واضح نہیں۔یہ صورتحال اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ بحالی کا اعلان زیادہ ایک سیاسی ردعمل ہے، نہ کہ کوئی حقیقی پالیسی۔
آج پاکستان کا سپورٹس سسٹم ایک عجیب مرحلے میں ہے، پرانے کھلاڑی سسٹم کو سنبھالے ہوئے ہیں نئے کھلاڑی آ نہیں رہے ادارے غیر فعال ہیں یہ ایک سست رفتار زوال ہے، جو شاید فوری نظر نہ آئے، لیکن اس کے اثرات آنے والے سالوں میں واضح ہوں گے۔ ذمہ داری کس کی؟یہ سوال اہم ہے، اور اس کا جواب سادہ نہیں۔ عمران خان کی حکومت نے ایک مضبوط نظام کو ختم کیا متبادل فراہم نہیں کیا اور ایک خلا پیدا کیادوسری طرف موجودہ حکومت بھی اس خلا کو پر کرنے میں ناکام رہی بحالی کے دعوے کیے، لیکن عملی اقدامات نہیں کیے یعنی ایک نے نظام توڑا، اور دوسرے نے اسے جوڑنے کے بجائے صرف وعدے کیے۔
اگر واقعی کھیلوں کو بحال کرنا ہے، تو اب مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔اور ضرورت اس امر کی ہے کہ واضح اور تحریری پالیسی ہو ،ادارہ جاتی ذمہ داری کیساتھ کھلاڑیوں کے لیے مالی تحفظ فراہم کیا جائے اور اور سب سے بڑھ کر، تسلسل کی کیساتھ یہ پالیسیاں چلتی رہیورنہ ہر آنے والی حکومت ایک نیا اعلان کرے گی، اور کھیل مزید پیچھے جاتے رہیں گے۔
پاکستان میں کھیل اس لیے ہار رہے ہیں کیونکہ فیصلے بغیر پلان کے کیے گئے نظام کو بغیر متبادل کے ختم کیا گیا اور بحالی کو صرف بیانات تک محدود رکھا گیا یہ بحران کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں، بلکہ مسلسل پالیسی ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔لیکن اگر اس کہانی کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہوگا ایک حکومت نے نظام توڑا، اور دوسری اسے صرف الفاظ میں زندہ کر رہی ہے۔
#PakistanSports #DepartmentalSports #ImranKhan #ShehbazSharif #PolicyFailure #SportsCrisis #YouthInSports #AthletesRights #GovernanceFailure #FixSports
|