رتہ کلاچی کرکٹ سٹیڈیم: اربوں کا منصوبہ، مگر بنیادیں ریت کی—یہ ناکامی نہیں، نظامی کرپشن ہے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
ڈیرہ اسماعیل خان میں رتہ کلاچی کرکٹ سٹیڈیم کا حال دیکھ کر ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت، نگرانی اور احتساب کی کمی ہے۔ اربوں روپے کے اس تعمیراتی و توسیعی منصوبے کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ ایک جدید، بین الاقوامی معیار کے اسٹیڈیم کا خواب تھا۔ مگر جو حقیقت سامنے آئی ہے، وہ اس خواب کی مکمل نفی کرتی ہے۔ حالیہ بارش اور معمولی ہوا نے اس منصوبے کی قلعی کھول دی۔ سٹیڈیم میں شائقین کو دھوپ سے بچانے کے لیے نصب کیے گئے لوہے کے شیڈز اور فریم نہ صرف کمزور ثابت ہوئے بلکہ مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے۔ یہ کوئی معمولی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ سیدھا اشارہ ہے کہ استعمال ہونے والا میٹریل ناقص تھا، ڈیزائن کمزور تھا یا نگرانی صفر تھی۔ حقیقت میں یہ تینوں عوامل ایک ساتھ موجود نظر آتے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ صرف غفلت ہے؟ یا پھر ایک منظم طریقے سے کم معیار کا کام کر کے عوامی پیسے کو کہیں اور منتقل کیا گیا؟ کیونکہ ایسے اسٹرکچرز میں استعمال ہونے والا لوہا، اس کی ویلڈنگ، اس کی لوڈ بیئرنگ صلاحیت، سب کچھ انجینئرنگ ڈیزائن اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزرتا ہے۔ اگر ایک شیڈ ہلکی بارش اور ہوا برداشت نہیں کر سکا تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو پورا عمل ہی فیک تھا یا پھر جان بوجھ کر معیار کو نظر انداز کیا گیا۔
اس منصوبے میں ایک واضح تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ایک طرف ڈیجیٹل اسکرینز اور فلڈ لائٹس جیسے نمایاں عناصر پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تاکہ منصوبہ “ہائی پروفائل” لگے، جبکہ دوسری طرف بنیادی ڈھانچے جیسے شیڈز، فریم اور سیڑھیاں انتہائی ناقص معیار کی بنائی جا رہی ہیں۔ یہ وہی روایتی ماڈل ہے جس میں دکھاوے کی چیزیں مضبوط اور بنیادی چیزیں کمزور رکھی جاتی ہیں تاکہ کرپشن چھپائی جا سکے۔
اگر ہم چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو دیکھیں تو صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ ایسے منصوبوں میں محکمہ کھیل، تعمیراتی ادارے، کنسلٹنٹ انجینئرز اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے شامل ہوتے ہیں۔ اگر ایک سادہ شیڈ بھی گر جائے تو اس کا مطلب ہے کہ پورا سسٹم فیل ہو چکا ہے۔ اینٹی کرپشن ڈیرہ سرکل کی خاموشی خاص طور پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ کہنا کہ افسران سو رہے تھے، حقیقت کو کمزور کرنا ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ یا تو انہوں نے آنکھیں بند کیں یا وہ اس عمل کا حصہ بن گئے۔
یہ معاملہ صرف مالی بدعنوانی تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اگر یہی شیڈز کسی میچ کے دوران گرتے اور نیچے سینکڑوں شائقین موجود ہوتے تو یہ ایک بڑا سانحہ بن سکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کیس صرف کرپشن نہیں بلکہ ممکنہ مجرمانہ غفلت کا کیس بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کے دیگر شہروں میں اسی نوعیت کے شیڈز برسوں سے قائم ہیں اور مختلف موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی یا وسائل کا نہیں بلکہ عملدرآمد اور نیت کا ہے۔ رتہ کلاچی کا سٹیڈیم اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نگرانی کمزور اور احتساب غائب ہو تو اربوں روپے بھی ایک محفوظ ڈھانچہ نہیں بنا سکتے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس منصوبے کے لیے فنڈز کا اجرا ایک سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، مگر اصل سوال فنڈز کے استعمال کا ہے۔ صرف پیسہ دینا کافی نہیں ہوتا، اس کا درست اور شفاف استعمال ہی اصل کامیابی ہوتی ہے۔ اگر نتیجہ ایک غیر محفوظ اور ناقص سٹیڈیم ہو تو یہ کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح ناکامی ہے۔ ذمہ داری کا تعین کرنا اس کیس کا سب سے اہم حصہ ہے۔ کنٹریکٹر، انجینئر، سپروائزنگ افسران اور اینٹی کرپشن ادارے سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی جوابدہ نہ بنایا گیا تو یہی ماڈل دوسرے منصوبوں میں بھی دہرایا جائے گا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کرپشن کو مسئلہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اس کے نہ پکڑے جانے کو معمول بنا لیا گیا ہے۔ جب تک انکوائریاں صرف کاغذی رہیں گی اور ذمہ داروں کو حقیقی سزا نہیں ملے گی، تب تک ہر نیا منصوبہ اسی انجام کو پہنچے گا۔
اب کچھ حلقوں کی جانب سے یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ ایک دن قبل آنے والے زلزلے کی وجہ سے یہ شیڈز گرے۔ یہ دلیل خود اپنے اندر کمزور ہے۔ اگر زلزلہ آیا تھا تو وہ صرف رتہ کلاچی تک محدود نہیں تھا، پورے پاکستان میں محسوس کیا گیا تھا۔ پھر سوال یہ ہے کہ باقی شہروں میں کوئی سٹرکچر کیوں نہیں گرا؟ صرف یہی شیڈز کیوں زمین بوس ہوئے؟ اسی طرح کچھ لوگ بارش کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، مگر بارش بھی کوئی غیر معمولی یا تباہ کن نہیں تھی۔ اگر معمولی بارش اور ہلکی ہوا ہی کسی اسٹیڈیم کے ڈھانچے کو گرا دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ موسمی حالات نہیں بلکہ تعمیراتی معیار ہے۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ سپورٹس ڈائریکٹوریٹ نے سی اینڈ ڈبلیو کے مسائل حل کرنے کے لیے الگ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا ہوا ہے تاکہ ہر منصوبہ معیار کے مطابق مکمل ہو۔ اگر اس کے باوجود یہی صورتحال ہے تو پھر اس ادارے کی موجودگی کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ اگر کل کو خدانخواستہ یہی شیڈ کسی کھلاڑی یا عام شہری پر گر جاتا اور جانی نقصان ہوتا تو پھر یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ قابل سزا جرم ہوتا۔ ایسی صورت میں متعلقہ محکموں کے افسران کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے، کیونکہ یہ سیدھی غفلت نہیں بلکہ خطرناک لاپرواہی ہے۔
رتہ کلاچی کرکٹ سٹیڈیم کا معاملہ ایک سٹیڈیم تک محدود نہیں ہے۔ یہ پورے نظام کا آئینہ ہے جہاں منصوبے بنتے ہیں، فنڈز جاری ہوتے ہیں اور معیار دفن ہو جاتا ہے۔ اگر اس کیس میں بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ ایک واضح پیغام ہوگا کہ عوامی پیسے سے کھیلنا ایک محفوظ کاروبار ہے۔ اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اگلا حادثہ صرف مالی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہو سکتا ہے۔
#DeraIsmailKhan #RattaKalachi #CricketStadium #Corruption #PublicFunds #ConstructionFailure #PoorQuality #GovernmentNegligence #Accountability #SafetyRisk #InfrastructureCrisis #Pakistan
|