پشاور سپورٹس کمپلیکس میں دوستان فٹ بال لیگ: ایونٹ کامیاب، مگر نظام ناکام
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور سپورٹس کمپلیکس میں جاری “دوستان فٹ بال لیگ” کو اگر صرف ایک ایونٹ کے طور پر دیکھا جائے تو یہ یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ایک طویل وقفے کے بعد فٹ بال کے مقابلوں کا انعقاد، وہ بھی ڈے نائٹ فارمیٹ میں، اور پاکستان بھر سے سترہ ٹیموں کی شرکت—یہ سب ایسے عناصر ہیں جو کسی بھی کھیل کے شائقین کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس پورے منظرنامے کو گہرائی سے دیکھا جائے، تو یہ لیگ درحقیقت صوبائی سپورٹس سسٹم کی کمزوریوں، تضادات اور ناکامیوں کو مزید واضح کرتی ہے۔
یہاں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایک اچھا ایونٹ ہو رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایونٹ کیوں نجی سپانسرشپ کے بغیر ممکن نہیں تھا، اور سرکاری ادارے گزشتہ کم و بیش سات سال میں ایسا کچھ کیوں نہ کر سکے۔سب سے پہلے، اس لیگ کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنا ضروری ہے۔ سترہ ٹیموں کی شرکت، جن میں بلوچستان سمیت مختلف ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں شامل ہیں، ایک مضبوط مقابلے کا تاثر دیتی ہے۔ آرگنائزرز کے مطابق، یہ مقابلے اصل میں شاہ طہماس گراونڈ میں ہونے تھے، لیکن عوامی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں پشاور سپورٹس کمپلیکس منتقل کیا گیا۔ مزید یہ کہ اگلے سال ٹیموں کی تعداد بتیس تک بڑھانے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔
یہ سب سننے میں ایک ترقی کی کہانی لگتی ہے، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال کھڑا ہوتا ہے اگر طلب موجود تھی، دلچسپی موجود تھی، اور آرگنائزرز بھی تیار تھے—تو پھر سرکاری سپورٹس ڈائریکٹریٹ کہاں تھا؟یہ وہ خلا ہے جس نے نجی شعبے کو جگہ دی۔ ایک نجی کمپنی نے نہ صرف ایونٹ کو اسپانسر کیا بلکہ اسے عملی شکل بھی دی۔ یہ اقدام اپنی جگہ قابل تعریف ہے، لیکن یہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے: کھیل اب ریاستی ترجیح نہیں رہے، بلکہ مارکیٹ کا پروڈکٹ بنتے جا رہے ہیں۔
صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے اس ایونٹ کے لیے گراونڈ اور رہائش فراہم کی، جو بظاہر ایک تعاون ہے، لیکن حقیقت میں یہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، کوئی اضافی کارنامہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ادارہ جس کے پاس بجٹ، وسائل اور پالیسی سازی کا اختیار موجود ہو، وہ صرف “فسیلیٹی پرووائیڈر” کیوں بن کر رہ گیا ہے؟ یہاں مسئلہ صرف کارکردگی کا نہیں، بلکہ وڑن کا ہے۔ ایونٹ کے دوران ایک اور اہم پہلو سامنے آیا: سیاسی قیادت کی عدم دلچسپی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی شرکت متوقع تھی، مشیر کھیل نے خود اعلان کیا تھا، لیکن دونوں شخصیات کی غیر موجودگی ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ کھیل ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ یہ محض ایک پروٹوکول کی کمی نہیں، بلکہ ایک پالیسی سگنل ہے۔
جب اعلیٰ سطح پر سنجیدگی نہ ہو، تو نیچے کا پورا نظام غیر فعال ہو جاتا ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ تقریب میں مشیر صحت میاں خلیق الرحمان شریک ہوئے، لیکن انہوں نے کھیل کے بجائے اپنے محکمہ صحت کے مسائل پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ مستقبل میں محکمہ صحت اتنی سہولیات فراہم نہیں کر سکے گا۔ یہ بیان اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، لیکن اس کا سیاق و سباق مکمل طور پر غلط تھا۔ایک سپورٹس ایونٹ میں، جہاں نوجوان موجود ہوں، جہاں کھیل ہو رہا ہو، وہاں کھیل کو بطور حل پیش کرنے کے بجائے صرف مسائل بیان کرنا، پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ کھیل کو صحت کے ساتھ جوڑنے کے بجائے، دونوں کو الگ الگ دیکھا جا رہا ہے، جو ایک بنیادی غلطی ہے۔
اب آتے ہیں اس مسئلے کی طرف جو سب سے زیادہ تشویشناک ہے: گراونڈز کی بندش اور اس کے اثرات۔ پشاور سپورٹس کمپلیکس کا یہی گراونڈ، جہاں دو سال پہلے تقریباً دو سو کھلاڑی روزانہ کھیلنے آتے تھے، آج بمشکل فٹ بال کے تیس کھلاڑیوں کو دیکھ رہا ہے۔ یہ صرف ایک عددی کمی نہیں، بلکہ ایک پورے ایکوسسٹم کی تباہی ہے۔ جب گراونڈز بند کیے جاتے ہیں، تو اس کا اثر فوری طور پر نظر نہیں آتا، لیکن طویل مدت میں یہ ایک پوری نسل کو کھیل سے دور کر دیتا ہے۔ نوجوان متبادل سرگرمیوں کی طرف جاتے ہیں، جن میں اکثر منفی رجحانات شامل ہوتے ہیں۔ کھیل صرف ایک سرگرمی نہیں، بلکہ ایک سماجی ڈھانچہ ہوتا ہے، جو نظم و ضبط، ٹیم ورک اور صحت کو فروغ دیتا ہے۔ یہاں ایک واضح تضاد ہے:حکومت ایک طرف کھیلوں کے فروغ کی بات کرتی ہے، اور دوسری طرف بنیادی سہولیات کو ہی محدود کر دیتی ہے۔ یہ پالیسی نہیں، بلکہ تضاد ہے۔
مزید برآں، مشیر کھیل کی جانب سے “ایک ہزار سہولیات” منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ صوبائی انسپکشن ٹیم کو تحقیقات کا حکم دیا گیا، لیکن تاحال کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ یہ خاموشی خود ایک مسئلہ ہے۔ اگر بے ضابطگیاں ثابت ہو چکی ہیں، تو کارروائی کہاں ہے؟ اور اگر نہیں ہوئیں، تو وضاحت کیوں نہیں دی جا رہی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو نہ صرف حکومت بلکہ بیوروکریسی کی شفافیت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ صحافیوں کی جانب سے یہ امید تھی کہ اگر وزیراعلیٰ یا مشیر کھیل اس ایونٹ میں شریک ہوتے، تو گراونڈز اور دیگر مسائل پر براہ راست سوالات کیے جا سکتے تھے۔ لیکن جب یہ موقع ہی نہ دیا جائے، تو جوابدہی کا عمل خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک اور مسئلہ سامنے آتا ہے:بیوروکریسی کا رویہ۔ ڈائریکٹریٹ میںآنیوالے بیورو کریٹ اپنی مدت مکمل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ کسی بھی تنقید کو ذاتی حملہ سمجھا جاتا ہے، اور معلومات تک رسائی کو محدود کیا جاتا ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن جیسے قوانین موجود ہونے کے باوجود، عملی طور پر معلومات کا حصول مشکل بنا دیا گیا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر پیشہ ورانہ ہے، بلکہ کھیلوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس لیگ کا حقیقی فائدہ کس کو ہوگا؟
حقیقت یہ ہے کہ اس ایونٹ کا زیادہ فائدہ پہلے سے موجود ٹیموں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹرکچر کو ہوگا۔ نئے کھلاڑیوں کے لیے نہ کوئی واضح راستہ ہے، نہ کوئی اسکاوٹنگ سسٹم، اور نہ ہی کوئی مستقل ڈیولپمنٹ پروگرام۔ یہ ایک “ایونٹ بیسڈ اپروچ” ہے، نہ کہ “سسٹم بیسڈ اپروچ”۔ اگر اگلے سال بتیس ٹیموں کو شامل کرنے کا ہدف رکھا جا رہا ہے، تو اس کے لیے نیا ٹیلنٹ کہاں سے آئے گا؟ کیا کوئی اکیڈمی سسٹم موجود ہے؟ کیا کوئی لوکل لیگ اسٹرکچر ہے؟ کیا کوئی کوچنگ پروگرام ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب “نہیں” ہے، تو ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا مطلب صرف ناموں کی تبدیلی ہوگا، معیار کی نہیں۔ یہاں ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے:ایونٹس کھیل کو زندہ نہیں رکھتے، سسٹم رکھتا ہے۔
نجی سپانسرشپ ایک وقتی حل ہو سکتی ہے، لیکن یہ مستقل بنیادوں پر کھیلوں کی ترقی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ نجی کمپنیاں ہمیشہ اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں، جو کہ فطری بات ہے۔ وہ برانڈنگ، ویڑبیلٹی اور منافع کو دیکھتی ہیں، نہ کہ گراس روٹ لیول پر ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ کو۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گی، تو کھیل ایک “شو” بن کر رہ جائیں گے، جہاں اصل مقصد کھیل نہیں، بلکہ تماشہ ہوگا۔
اس پورے منظرنامے میں “دوستان فٹ بال لیگ” ایک آئینہ ہے، جو ہمیں دکھا رہی ہے کہ کہاں بہتری کی ضرورت ہے۔ اسے ایک کامیابی کے طور پر پیش کرنا آسان ہے، لیکن اصل کام اس کے پیچھے چھپے مسائل کو حل کرنا ہے۔اگر واقعی کھیلوں کو فروغ دینا ہے، تو چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں گراونڈز کو مستقل بنیادوں پر کھولا جائے، اور ان کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔گراس روٹ لیول پر اکیڈمیز قائم کی جائیں، جہاں نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت دی جائے۔ شفاف اور میرٹ پر مبنی سلیکشن سسٹم بنایا جائے۔ اور سب سے اہم، پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان خلا کو ختم کیا جائے۔ورنہ حقیقت یہی رہے گی کہ ایونٹس ہوتے رہیں گے، تصاویر بنتی رہیں گی، اور سوشل میڈیا پر تعریفیں بھی ملتی رہیں گی—لیکن میدان خالی ہوتے جائیں گے۔اور جب میدان خالی ہو جائیں، تو پھر کسی بھی لیگ، کسی بھی اسپانسرشپ، اور کسی بھی اعلان کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔
#PeshawarFootball #KP Sports #FootballPakistan #SportsGovernance #GrassrootsFootball #PakistanFootball #SportsCorruption #YouthDevelopment #FixSportsSystem #KPK
|