جب کابینہ کے فیصلے بے معنی ہو جائیں: ایشیاء کپ ویل چیئر کرکٹ انعامی معاملہ اور خیبر پختونخوا کا نظام

خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے حالیہ اجلاس میں کھلاڑیوں کے لیے مالی انعامات کی منظوری بظاہر ایک مثبت اور حوصلہ افزا اقدام دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ایشیائ کپ 2023–24 میں شرکت کرنے والے ویل چیئر کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان ایک ایسے طبقے کی پذیرائی تھی جو پہلے ہی نظامی نظرانداز کا شکار ہے۔ لیکن جیسے ہی اس فیصلے پر عملدرآمد کا مرحلہ آیا، یہ معاملہ ایک سادہ کامیابی کی کہانی کے بجائے ایک پیچیدہ اور تشویشناک سوال میں بدل گیا۔

مسئلہ یہاں پالیسی نہیں، بلکہ اس کا نفاذ ہے — اور یہی وہ جگہ ہے جہاں خیبر پختونخوا کا اسپورٹس نظام بار بار ناکام ہوتا نظر آتا ہے۔ چند کھلاڑیوں نے سامنے آ کر دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایشیائ کپ اسکواڈ کا حصہ تھے، لیکن انہیں انعامی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ محض ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ناانصافی ہے۔ یہ سوال صرف اس بات کا نہیں کہ کون پیسے سے محروم ہوا، بلکہ اس بات کا ہے کہ ریاستی سطح پر تسلیم شدہ کامیابی کو کس بنیاد پر تسلیم یا رد کیا جا رہا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ انہی کھلاڑیوں کے مطابق، انہیں اس سے پہلے بھی گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ انعامات میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ جب ایک ہی نوعیت کی شکایت بار بار سامنے آئے تو اسے اتفاق کہنا خود فریبی ہوگی۔ یہ ایک پیٹرن ہے — اور ہر پیٹرن کے پیچھے ایک نظامی خرابی ہوتی ہے۔

اس سارے معاملے کا بنیادی مسئلہ ایک واضح خلا ہے: کابینہ کی منظوری اور اس کے عملی نفاذ کے درمیان disconnect۔عام طور پر کابینہ پالیسی یا کیٹیگری کی سطح پر منظوری دیتی ہے، نہ کہ انفرادی ناموں کی۔ کھلاڑیوں کی فہرستیں ترتیب دینا، ان کی تصدیق کرنا، اور ادائیگی کرنا اسپورٹس ڈائریکٹریٹ یا متعلقہ کمیٹیوں کا کام ہوتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سسٹم مبہم ہو جاتا ہے اور جوابدہی دھندلا جاتی ہے۔ سوال سیدھا ہے،اگر کابینہ نے ایشیائ کپ ویل چیئر کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے انعامات کی منظوری دی تھی، تو آخر یہ فیصلہ کس نے کیا کہ کون سا کھلاڑی اس فہرست میں شامل ہوگا اور کون نہیں؟ اور اس سے بھی اہم سوال،کیا اس فیصلے کے لیے کوئی واضح، تحریری معیار موجود تھا؟

اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں، ان میں اس حوالے سے کوئی شفافیت نظر نہیں آتی۔ نہ کوئی حتمی فہرست عوام کے سامنے رکھی گئی، نہ متاثرہ کھلاڑیوں کو کوئی تحریری وضاحت دی گئی۔ اس خاموشی نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ انعامی فہرستوں میں رد و بدل کیا گیا۔ اگرچہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی سرکاری دستاویز ابھی تک سامنے نہیں آئی، لیکن مسئلہ یہی ہے: دستاویزات کا نہ ہونا خود ایک مسئلہ ہے۔ جب ریکارڈ موجود نہ ہو یا شیئر نہ کیا جائے تو ہر فیصلہ مشکوک نظر آتا ہے، چاہے وہ درست ہی کیوں نہ ہو۔ یہ صرف ایک کیس نہیں، بلکہ ایک وسیع تر نظامی مسئلے کی جھلک ہے۔

پاکستان میں، خاص طور پر صوبائی سطح پر، اسپورٹس گورننس کا ڈھانچہ کمزور ادارہ جاتی کنٹرول کا شکار ہے۔ فیصلے اوپر ہوتے ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد نیچے غیر واضح طریقے سے ہوتا ہے۔ فائلیں چلتی ہیں، منظوری آتی ہے، فنڈز مختص ہوتے ہیں، لیکن فیصلہ اور نتیجے کے درمیان کوئی مضبوط audit trail موجود نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چند ماہ بعد ایک نیا تنازعہ سامنے آتا ہے — کبھی فنڈز کے استعمال پر، کبھی تقرریوں پر، اور کبھی کھلاڑیوں کے حقوق پر۔

ویل چیئر کرکٹ کے کھلاڑیوں کا معاملہ اس لیے زیادہ حساس ہے کیونکہ یہ پہلے ہی ایک نظرانداز شدہ شعبہ ہے۔ یہ کھلاڑی نہ تو مرکزی میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں، نہ ہی انہیں وہ سہولیات میسر ہیں جو دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر ان کی بین الاقوامی سطح کی نمائندگی کے بعد بھی انہیں تسلیم نہ کیا جائے، تو یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ نظام میں ان کی حیثیت ثانوی ہے۔یہاں مسئلہ صرف پیسے کا نہیں، بلکہ وقار اور شناخت کا ہے۔

جب ریاست کسی کھلاڑی کو انعام دیتی ہے تو وہ صرف رقم نہیں دیتی، بلکہ اس کی کارکردگی کو تسلیم کرتی ہے۔ اگر یہی عمل غیر شفاف ہو جائے، تو یہ پورے نظام کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ متاثرہ کھلاڑیوں نے اپنی طرف سے تمام رسمی راستے اختیار کیے ہیں۔ درخواستیں دی گئیں، حکام سے رابطہ کیا گیا، اور معاملہ سیکرٹری اسپورٹس، ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس اور مشیر کھیل تک پہنچایا گیا۔ اب اگر اس کے باوجود بھی کوئی واضح جواب سامنے نہیں آتا، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ جاتی grievance redressal system ناکام ہو چکا ہے۔جب کھلاڑیوں کو اپنے جائز حق کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کا سوچنا پڑے، تو یہ کسی ایک محکمے کی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہوتی ہے۔

اب حکومت کے پاس دو راستے ہیں،یا تو وہ اس معاملے کو ایک معمولی شکایت سمجھ کر نظرانداز کرے، جیسا کہ اکثر ہوتا آیا ہے، یا پھر اسے ایک test case کے طور پر لے کر شفافیت کے ساتھ جواب دے۔ ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتبار ردعمل کے لیے تین اقدامات ناگزیر ہیں، اول، کابینہ کی منظوری کی مکمل تفصیل، بشمول معیار اور کیٹیگری، عوام کے سامنے لائی جائے۔دوم، انعامی ادائیگیوں کی حتمی فہرست، ناموں اور رقوم کے ساتھ شائع کی جائے، سوم، اگر دونوں میں کوئی فرق ہے تو اس کی واضح، دستاویزی وضاحت دی جائے۔ یہ اقدامات کوئی اضافی مطالبہ نہیں، بلکہ بنیادی گورننس کے تقاضے ہیں۔

طویل مدت میں، خیبر پختونخوا کو ایک باقاعدہ، شفاف اور قابلِ رسائی نظام قائم کرنا ہوگا جس میں کھلاڑیوں کے انتخاب، انعامات کی تقسیم، اور شکایات کے ازالے کا واضح طریقہ کار موجود ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، ایسے تنازعات بار بار سامنے آتے رہیں گے۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ مسئلہ کابینہ کے فیصلے کا نہیں، بلکہ اس کے نفاذ کا ہے۔ لیکن گورننس میں نیت سے زیادہ اہم عمل ہوتا ہے۔ ایک اچھا فیصلہ اگر غلط طریقے سے نافذ ہو، تو اس کا نتیجہ بھی اتنا ہی نقصان دہ ہوتا ہے جتنا ایک غلط فیصلہ۔ ایشیا کپ ویل چیئر کرکٹ انعامی معاملہ دراصل ایک بڑا سوال ہے کیا خیبر پختونخوا کا اسپورٹس نظام پالیسی کو انصاف کے ساتھ عملی شکل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟ فی الحال، جواب حوصلہ افزا نہیں۔

#KPSports #SportsGovernance #Transparency #Accountability #WheelchairCricket #AsiaCup2023 #AthleteRights #PublicFunds #GovernanceFailure #PolicyVsImplementation #InvestigativeJournalism #PakistanSports #EqualRecognition #SportsJustice

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776592 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More