کوٹہ، کوچنگ اور کارکردگی: خیبر پختونخوا اسپورٹس ڈائریکٹریٹ میں ایک خاموش بحران

خیبر پختونخوا کے اسپورٹس ڈائریکٹریٹ میں ایک بحث ہے جو کبھی باضابطہ طور پر سامنے نہیں آتی، مگر مکمل طور پر غائب بھی نہیں ہوتی۔ یہ بحث فائلوں میں نہیں ملتی، لیکن راہداریوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ سرکاری بیانات میں نظر نہیں آتی، مگر کھلاڑیوں کی مایوسی میں صاف جھلکتی ہے۔ اس بحث کا مرکز ایک بنیادی سوال ہے: کیا صوبے میں کوچنگ واقعی کارکردگی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، یا یہ ایک ایسا نظام بن چکا ہے جہاں ترقی کا تعلق کارکردگی سے زیادہ انتظامی راستوں اور غیر رسمی کوٹہ میکانزم سے ہے؟

یہ کوئی معمولی سوال نہیں ہے۔ یہ اس پورے ڈھانچے کی ساکھ کا سوال ہے جس پر کھیلوں کی ترقی کا دارومدار ہے۔ کوچنگ ایک علامتی عہدہ نہیں، بلکہ مکمل طور پر نتائج پر مبنی ذمہ داری ہے۔ یا تو ایک کوچ کے تحت کھلاڑی بہتر ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ یا تو ٹیلنٹ آگے بڑھتا ہے یا رک جاتا ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا میں کوچنگ اور کارکردگی کے درمیان یہ تعلق واضح نظر نہیں آتا۔

مختلف اضلاع میں ایک پیٹرن سامنے آتا ہے۔ افراد مختلف ذرائع سے اسپورٹس سسٹم میں داخل ہوتے ہیں، بعض اوقات ان کا براہ راست تعلق کھیلوں کی تکنیکی مہارت سے نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ یہی افراد کوچنگ یا انتظامی عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی ترقی گریڈ اور اختیارات کے لحاظ سے واضح ہوتی ہے، لیکن اس ترقی کی بنیاد کیا ہے، یہ سوال اکثر بغیر جواب کے رہتا ہے۔

اسپورٹس کوٹہ اصولی طور پر ایک مثبت تصور ہے۔ اس کا مقصد باصلاحیت کھلاڑیوں کو سرکاری نظام میں شامل کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ٹیلنٹ کو برقرار رکھنا ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ حد دھندلی ہو چکی ہے کہ کھلاڑی کی بھرتی اور ایک پیشہ ور کوچ بننے کے درمیان کیا فرق رہ گیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوٹہ واقعی ٹیلنٹ کی ترقی کا ذریعہ ہے یا خاموشی سے ایک روزگار کا راستہ بن چکا ہے جہاں کارکردگی کی کوئی مضبوط نگرانی نہیں؟

اگر دوسرا مفروضہ درست ہے تو اس کے اثرات سنگین ہیں۔ کیونکہ جب بغیر واضح کارکردگی کے معیار کے لوگ کوچنگ میں آتے ہیں تو پورا نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ ایسے کوچز کے زیر تربیت کھلاڑی وہ تکنیکی رہنمائی حاصل نہیں کر پاتے جو اعلیٰ سطح پر مقابلے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرمایہ کاری اور نتائج کے درمیان فرق بڑھتا جاتا ہے۔یہاں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کوچنگ کو اکثر سروس ٹینور کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یعنی جتنا زیادہ عرصہ گزارا، اتنی ترقی۔ لیکن کھیلوں میں یہ منطق ناکافی ہے۔ کوچنگ کی کارکردگی کو ناپنے کے لیے واضح اشاریے ہونے چاہئیں۔ مثال کے طور پر:

کتنے کھلاڑی ایک کوچ کے تحت قومی سطح تک پہنچے؟ کتنے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی نمائندگی حاصل کی؟ کسی کوچ کے پروگرام میں کھلاڑیوں کی برقرار رہنے اور ترقی کرنے کی شرح کیا ہے؟ کیا ترقی کے لیے کوئی باقاعدہ پرفارمنس آڈٹ موجود ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان سوالات کے واضح اور دستاویزی جوابات دستیاب نہیں ہیں۔ اور یہی اصل مسئلہ ہے۔

جب کسی نظام میں کارکردگی کی پیمائش ہی نہ ہو تو پھر احتساب کیسے ہوگا؟ اور جب احتساب نہ ہو تو پھر ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ توجہ کھلاڑی کی ترقی سے ہٹ کر اپنی پوزیشن محفوظ رکھنے پر چلی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ادارے اندر سے کمزور ہونا شروع ہوتے ہیں۔ ایک اور پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ غیر رسمی اثر و رسوخ کا تاثر ہے۔ اگرچہ ایسے الزامات اکثر دستاویزی ثبوت کے بغیر ہوتے ہیں، لیکن ان کا مسلسل موجود رہنا خود ایک مسئلہ ہے۔ کیونکہ جب لوگوں کو نظام پر اعتماد نہ ہو تو وہ شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اور شفافیت کی کمی ہمیشہ شکوک کو جنم دیتی ہے۔

ایک مثال جو اکثر اندرونی سطح پر زیر بحث رہتی ہے، وہ ایسے افراد کی ہے جو کسی اور سرکاری شعبے سے آ کر اسپورٹس میں شامل ہوئے، اور بعد میں کوچنگ یا اعلیٰ عہدوں تک پہنچ گئے۔ یہاں سوال کسی فرد کا نہیں، بلکہ طریقہ کار کا ہے۔ کیا ایسے افراد کے پاس باقاعدہ کوچنگ سرٹیفیکیشن موجود تھی؟ کیا ان کا کوئی ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ تھا؟کیا انہوں نے کارکردگی کے طے شدہ معیار پورے کیے؟ اگر ان سوالات کے جواب واضح نہیں، تو پھر مسئلہ فرد نہیں، بلکہ پورا نظام ہے۔

اصل مسئلہ سادہ ہے: ایک مضبوط، ڈیٹا پر مبنی پرفارمنس آڈٹ سسٹم کا فقدان۔ اس کے بغیر کئی خرابیاں ایک ساتھ جنم لیتی ہیں۔ اچھا کام کرنے والے کوچز کو کوئی خاص شناخت نہیں ملتی، کمزور کارکردگی دکھانے والوں کو کوئی جوابدہی نہیں ہوتی، اور فیصلے تکنیکی بنیادوں کے بجائے انتظامی صوابدید پر ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتائج بھی واضح ہیں۔ کھلاڑیوں کی ترقی رک جاتی ہے، ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اور وسائل کا مو¿ثر استعمال نہیں ہو پاتا۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کوچنگ ان چند سرکاری شعبوں میں سے ہے جہاں نتائج واضح ہوتے ہیں۔ ایک کھلاڑی یا ٹیم یا تو بہتر ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ اس لیے اس شعبے میں کارکردگی کی پیمائش نہ ہونا زیادہ تشویشناک ہے۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ نظام زیادہ تر اندرونی جائزوں پر انحصار کرتا ہے، جو نہ تو معیاری ہیں اور نہ ہی شفاف۔ اس سے نہ صرف ابہام پیدا ہوتا ہے بلکہ قیاس آرائیوں کے لیے بھی جگہ بنتی ہے۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ پورے نظام میں کوئی قابل کوچ موجود نہیں۔ یقینی طور پر ایسے لوگ موجود ہیں جو مشکل حالات کے باوجود نتائج دے رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ نظام میں ان اور کمزور کارکردگی دکھانے والوں کے درمیان کوئی واضح فرق نہیں کیا جاتا۔ یہی اصل ناکامی ہے۔ اگر اس نظام کو درست کرنا ہے تو چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، ایک مرکزی ڈیٹا بیس ہونا چاہیے جہاں ہر کوچ کی کارکردگی ریکارڈ ہو۔ ہر کھلاڑی کی ترقی، مقابلوں کے نتائج اور ٹریننگ کا ڈیٹا محفوظ کیا جائے۔

دوسرا، ترقی کو واضح کارکردگی کے معیار سے جوڑا جائے۔ سروس کا عرصہ ایک عنصر ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی معیار کارکردگی ہی ہونا چاہیے۔ تیسرا، آزادانہ آڈٹ کا نظام متعارف کرایا جائے۔ صرف اندرونی جائزے کافی نہیں۔ بیرونی نگرانی سے شفافیت بڑھتی ہے۔ چوتھا، معلومات کو عوام کے لیے قابل رسائی بنایا جائے۔ جب فیصلے کھلے ہوں گے تو اعتماد بھی بڑھے گا۔ اس وقت یہ تمام عناصر یا تو موجود نہیں یا مو¿ثر طریقے سے نافذ نہیں ہیں۔

ایک بڑی غلطی جو اکثر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس مسئلے کو افراد کے گرد گھما دیا جاتا ہے۔ اس سے اصل مسئلہ چھپ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ساختی مسئلہ ہے، نہ کہ چند افراد کا۔جب تک نظام میں واضح معیار، شفاف ترقی کا طریقہ کار اور آزاد نگرانی نہیں ہوگی، یہ سوالات ختم نہیں ہوں گے۔ صرف نام بدلیں گے، مسئلہ وہی رہے گا۔اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔

کیونکہ جب سوالات کے جواب نہ ملیں تو وہ ختم نہیں ہوتے، بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتے ہیں۔ کھلاڑیوں کا اعتماد کم ہوتا ہے، عوامی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اور کھیلوں کا پورا ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کا اسپورٹس سسٹم ناقابل اصلاح نہیں ہے۔ لیکن اصلاح کے لیے سب سے پہلے مسئلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔ غیر رسمی طریقوں سے نکل کر ایک باقاعدہ، قابل پیمائش نظام کی طرف جانا ہوگا۔ورنہ یہ خاموش سوالات، جو آج دبے ہوئے ہیں، کل کھل کر سامنے آئیں گے۔

#KPSports #SportsGovernance #Accountability #Transparency #Meritocracy #AthleteDevelopment #PublicSectorReform #SportsPolicy #GovernanceFailure #PakistanSports #InvestigativeJournalism #PerformanceAudit #SystemFailure #CoachingStandards #EndQuotaMisuse


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776555 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More