باڑہ میں سٹیڈیم یا سسٹم کی خرابی؟ ڈوگرہ سٹیڈیم کی فنڈنگ اور ادھورے خوابوں کی کہانی

باڑہ میں ایک بار پھر وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے جسے ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، سنے بھی ہیں اور بھگت بھی رہے ہیں۔ فرق صرف ناموں کا ہے، مسئلہ وہی پرانا ہے: منصوبے بنتے ہیں، فنڈز جاری ہوتے ہیں، اور نتیجہ کہیں نظر نہیں آتا۔ شاہد آفریدی کے نام سے منسوب اسپورٹس کمپلیکس اس کی سب سے واضح مثال ہے، جسے بڑے خواب کے طور پر پیش کیا گیا تھا، مگر آج وہی خواب فائلوں اور خاموشی میں دفن ہو چکا ہے۔ اب اسی پس منظر میں ڈوگرہ سٹیڈیم کے لیے نئی رقم جاری ہونے کی خبر سامنے آتی ہے، اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی کوئی نیا منصوبہ شروع کر رہے ہیں یا صرف پرانے زخموں پر نیا لیبل لگا رہے ہیں؟

یہ معاملہ سادہ نہیں ہے۔ ڈوگرہ سٹیڈیم پہلے ہی محکمہ تعلیم کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس کے لیے دوبارہ فنڈز جاری کرنے کا جواز کیا بنتا ہے؟ کیا حکومت ایک ہی زمین پر دو بار خرچ کر رہی ہے؟ یا پھر کوئی نئی جگہ مختص کی گئی ہے جس کا عوام کو علم ہی نہیں؟ یہاں مسئلہ صرف معلومات کی کمی نہیں، بلکہ شفافیت کی مکمل عدم موجودگی ہے۔ اگر نیا منصوبہ ہے تو اس کی لوکیشن کیا ہے، ڈیزائن کیا ہے، لاگت کتنی ہے، اور ٹائم لائن کیا ہے؟ اور اگر پرانے سٹیڈیم کو ہی دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے تو کیا محکمہ تعلیم سے وہ زمین واپس لی گئی ہے؟ اگر لی گئی ہے تو اس کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن کیوں سامنے نہیں آ رہا

یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے بغیر کسی بھی منصوبے کو سنجیدہ نہیں لیا جا سکتا۔ اور یہی وہ خلا ہے جہاں بدعنوانی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ جب معلومات چھپائی جاتی ہیں، تو اصل کھیل وہیں سے شروع ہوتا ہے۔

باڑہ کی زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ یہاں کے لوگ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، گلیاں خستہ حال ہیں، نکاسی آب کا نظام ناکام ہے، اور صحت و تعلیم کی سہولیات محدود ہیں۔ ایسے میں اسپورٹس انفراسٹرکچر پر فنڈز خرچ کرنا بظاہر اچھا لگتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ترجیح ہونی چاہیے؟ یا پھر یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں فنڈز کا استعمال کم سوالات کے ساتھ کیا جا سکتا ہے؟

یہاں آپ کو ایک تلخ مگر حقیقت پسندانہ نکتہ سمجھنا ہوگا: اسپورٹس منصوبے اکثر “لو ویزیبل اکاؤنٹیبلٹی” کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی ان پر خرچ ہونے والی رقم کی نگرانی کم ہوتی ہے، عوامی دباؤ کم ہوتا ہے، اور تکنیکی پیچیدگیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے منصوبے اکثر بدعنوانی کے لیے نرم ہدف بن جاتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہے، تو آپ سسٹم کو صحیح نہیں پڑھ رہے۔

ماضی کا پیٹرن بھی کچھ مختلف نہیں۔ پہلے منصوبہ اعلان ہوتا ہے، پھر فنڈز جاری ہوتے ہیں، پھر یا تو کام شروع ہی نہیں ہوتا یا آدھا ادھورا رہ جاتا ہے، اور آخر میں سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہی خاموشی سب سے خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں عوامی پیسہ غائب ہو جاتا ہے اور کوئی جواب دہ نہیں ہوتا۔

شاہد آفریدی اسپورٹس کمپلیکس اسی پیٹرن کی تازہ مثال ہے۔ اگر ایک بڑا اور ہائی پروفائل منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا تو آپ کیسے یقین کریں گے کہ ڈوگرہ سٹیڈیم مختلف ہوگا؟
یہاں ایک اور اہم مسئلہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کا ہے۔ اگر زمین محکمہ تعلیم کے پاس ہے اور فنڈز سپورٹس ڈیپارٹمنٹ جاری کر رہا ہے، تو یہ سیدھا سیدھا کوآرڈینیشن فیلیر ہے۔ یا پھر کچھ اور ہو رہا ہے جو سامنے نہیں آ رہا۔ دونوں صورتوں میں مسئلہ سنگین ہے۔ کیونکہ یا تو سسٹم نااہل ہے یا پھر جان بوجھ کر مبہم رکھا جا رہا ہے۔

عوامی اعتماد پہلے ہی کمزور ہے۔ جب لوگ بار بار ادھورے منصوبے دیکھتے ہیں تو وہ یہ ماننے لگتے ہیں کہ یہ سب صرف دکھاوا ہے۔ یہ سوچ خطرناک ہے کیونکہ یہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو بڑھاتی ہے۔ اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو پھر کوئی بھی نیا منصوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، چاہے وہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو۔
اب سوال یہ نہیں کہ ڈوگرہ سٹیڈیم بننا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ شفاف، واضح اور قابل عمل ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر اس کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں؟ اور اگر جواب نہیں ہے تو پھر یہ فنڈز کیوں جاری کیے گئے؟

سیدھی بات ہے: مسئلہ منصوبوں کا نہیں، نیت اور نظام کا ہے۔ جب تک منصوبہ بندی ٹھوس نہیں ہوگی، نگرانی مؤثر نہیں ہوگی، اور جوابدہی یقینی نہیں ہوگی، تب تک ہر نیا سٹیڈیم ایک نیا اسکینڈل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
باڑہ کے لوگوں کو اب صرف اعلانات نہیں، نتائج چاہیے۔ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر جاری ہونے والا پیسہ کہاں جا رہا ہے، کس پر خرچ ہو رہا ہے، اور کب تک اس کا فائدہ انہیں ملے گا۔ اگر یہ بنیادی سوالات نظر انداز کیے گئے تو ڈوگرہ سٹیڈیم بھی ایک اور فائل بن جائے گا، اور باڑہ ایک اور وعدے کا بوجھ اٹھاتا رہے گا۔


#Bara #Khyber #KPDevelopment #SportsCorruption #Transparency #Accountability #PublicFunds #InvestigativeJournalism
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776539 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More