ہاکی کے نام پر تماشا: جب قومی کھلاڑی لنگر پر چھوڑ دیے جائیں
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
اسلام آباد میں جاری انڈر-18 یوتھ ہاکی چیمپین شپ نے ایک بار پھر پاکستان کے کھیلوں کے نظام کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ کوئی معمولی انتظامی خامی نہیں، بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جو اس پورے سسٹم کی ناکامی، بے حسی اور ترجیحات کے فقدان کو کھول کر سامنے لاتا ہے۔
رپورٹس اور ویڈیوز کے مطابق، اس قومی سطح کے ایونٹ میں شریک کم عمر کھلاڑیوں کو مناسب اور معیاری خوراک فراہم کرنے کے بجائے ایک خیراتی ادارے “اللہ والے ٹرسٹ” کے لنگر پر گزارا کروایا جا رہا ہے۔ کھلاڑیوں نے احتجاج کیا، آواز اٹھائی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج واقعی کسی تبدیلی کا باعث بنے گا یا حسبِ روایت فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟
یہاں سب سے پہلے بات کرنی ہوگی پاکستان ہاکی فیڈریشن کی۔ ایک ایسا ادارہ جو پہلے ہی اپنی کارکردگی، نتائج اور گورننس کے حوالے سے شدید تنقید کی زد میں ہے، اب اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ قومی ایونٹس میں کھلاڑیوں کو بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کر پا رہا۔ اگر ایک فیڈریشن اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو کھانا تک نہیں دے سکتی، تو پھر وہ ان سے عالمی سطح پر کارکردگی کی توقع کس منہ سے رکھتی ہے؟ دوسرا بڑا کردار پاکستان اسپورٹس بورڈ کا ہے، جو اس پورے معاملے میں خود کو بری الذمہ نہیں قرار دے سکتا۔ کھلاڑی ان کے ہاسٹلز میں مقیم ہیں، ایونٹ دارالحکومت میں ہو رہا ہے، اور اس کے باوجود بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ یہ محض غفلت نہیں، بلکہ ایک institutional failure ہے۔
اب اصل سوال: پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ ہر سال بجٹ آتا ہے، فنڈز ریلیز ہوتے ہیں، اجلاس ہوتے ہیں، پریس ریلیزز جاری ہوتی ہیں۔ مگر زمینی حقیقت کیا ہے؟ نہ کھلاڑیوں کو معیاری خوراک، نہ مناسب رہائش، نہ میڈیکل سپورٹ، نہ پروفیشنل مینجمنٹ۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ یا تو فنڈز کا غلط استعمال ہو رہا ہے، یا پھر ترجیحات مکمل طور پر بگڑ چکی ہیں۔ یہاں ایک اور خطرناک پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو خلا کو پر کرنے کے لیے غیر سرکاری یا خیراتی ادارے سامنے آتے ہیں۔ بظاہر یہ اچھا عمل لگتا ہے، مگر کھیلوں جیسے حساس شعبے میں یہ ایک خطرناک precedent ہے۔ کیا ہم اب یہ مان لیں کہ قومی ایونٹس بھی خیرات پر چلیں گے؟ یہ صرف ہاکی کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے سپورٹس سسٹم کا آئینہ ہے۔ آپ کرکٹ کو چھوڑ دیں، باقی تمام کھیل تقریباً اسی حالت میں ہیں۔ ہاکی، فٹبال، ایتھلیٹکس، اسکواش، سب میں ایک ہی کہانی ہے:
بدانتظامی سیاسی مداخلت غیر پیشہ ور افراد کی تعیناتی اور سب سے بڑھ کر، کھلاڑیوں کی مکمل نظراندازی یہاں ایک اور اہم سوال اٹھتا ہے: accountability کہاں ہے؟ کیا کسی افسر کو معطل کیا گیا؟ کیا کسی انکوائری کا اعلان ہوا؟ کیا کسی نے ذمہ داری قبول کی؟
جواب واضح ہے: نہیں۔ کیونکہ ہمارے نظام میں ناکامی کی کوئی قیمت نہیں۔ یہاں عہدے کارکردگی سے نہیں، تعلقات سے ملتے ہیں۔ جب تک یہ کلچر ختم نہیں ہوگا، ایسے واقعات بار بار ہوتے رہیں گے۔
کھلاڑیوں کا احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ اب وہ خاموش رہنے کو تیار نہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ احتجاج کے بعد بھی اکثر کچھ نہیں بدلتا۔ چند بیانات آتے ہیں، ایک آدھ کمیٹی بنتی ہے، اور پھر سب کچھ ویسا ہی چلتا رہتا ہے۔ یہاں میڈیا کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے۔ کیا یہ خبر ایک دن کی ہیڈ لائن بن کر رہ جائے گی یا اس پر follow-up ہوگا؟ کیونکہ اصل تبدیلی تب آئے گی جب اس مسئلے کو مسلسل اٹھایا جائے، نہ کہ صرف ایک وائرل ویڈیو تک محدود رکھا جائے۔
اگر ہم سیدھی بات کریں تو مسئلہ صرف وسائل کا نہیں، نیت کا ہے۔ اگر نیت ہو تو محدود وسائل میں بھی کھلاڑیوں کو عزت اور بنیادی سہولیات دی جا سکتی ہیں۔ مگر یہاں ترجیح کھلاڑی نہیں، کرسی ہے۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم ہمیشہ نتائج پر رونا روتے ہیں۔ جب قومی ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا طوفان آ جاتا ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ ان کھلاڑیوں کو تیار کیسے کیا جا رہا ہے۔ جب بنیاد ہی کمزور ہوگی تو عمارت کیسے مضبوط ہوگی؟
یہ واقعہ ایک wake-up call ہونا چاہیے، مگر ماضی دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ واقعی کوئی جاگے گا بھی یا نہیں۔
آخر میں بات سیدھی ہے: اگر ایک ملک اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ کھانا بھی عزت سے نہیں دے سکتا، تو اسے عالمی سطح پر عزت کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ صرف ایک اسکینڈل نہیں، بلکہ ایک نظام کی ناکامی کا اعلان ہے۔
#PakistanHockey #HockeyCrisis #SportsMismanagement #AthleteRights #FixPakistanSports #SportsGovernance #AccountabilityNow #YouthSports #HockeyScandal #PakistanSports #PlayerProtest #SportsCorruption #IslamabadSports #Under18Hockey |