خیبرپختونخوا کی سوئمنگ ٹیم لاہور میں، مگر پشاور میں تیراکی کا نظام بند اور کھلاڑی بے سہارا


خیبرپختونخوا کی 18 رکنی سوئمنگ ٹیم لاہور میں جاری بلیو ایج سوئمنگ چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے پہنچ چکی ہے۔ یہ مقابلے ڈی ایچ اے لاہور میں دو روز تک جاری رہیں گے، جہاں صوبے کے نوجوان تیراک مختلف کیٹگریز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ٹیم میں انڈر 6 سے لے کر مختلف عمر کے تیراک شامل ہیں، جو نہ صرف اپنی کیٹگریز بلکہ اوپن ایونٹس میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔بظاہر یہ ایک معمول کی اسپورٹس سرگرمی ہے، لیکن اگر اس تصویر کے پیچھے جھانکا جائے تو کہانی بالکل مختلف اور زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ایک طرف صوبائی ٹیم قومی سطح کے مقابلوں میں موجود ہے، دوسری طرف اسی صوبے میں تیراکی کا بنیادی ڈھانچہ تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو خیبرپختونخوا کے اسپورٹس نظام کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

ستمبر 2025 سے خیبرپختونخوا کا اہم تربیتی مرکز عادل خان سوئمنگ پول بند پڑا ہے۔ اس بندش نے صوبے میں تیراکی کے کھیل کو عملی طور پر روک دیا ہے۔ نہ تربیت ہو رہی ہے، نہ نیا ٹیلنٹ تیار ہو رہا ہے، اور نہ ہی پہلے سے موجود کھلاڑی اپنی فارم برقرار رکھ پا رہے ہیں۔یہ مسئلہ صرف ایک عمارت کے بند ہونے کا نہیں۔ یہ پورے اسپورٹس ڈویلپمنٹ ماڈل کے رک جانے کا مسئلہ ہے۔ تیراکی ایسا کھیل ہے جس میں تسلسل سب کچھ ہے۔ اگر ایک تیراک چند ماہ پانی سے دور ہو جائے تو اس کی تکنیک، اسٹیمنا اور ریس ٹائمنگ سب متاثر ہوتی ہے۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ کھلاڑی ستمبر 2025 سے مسلسل اس خلا کا شکار ہیں۔ یہ سوال اب محض انتظامی نہیں رہا بلکہ اسپورٹس پالیسی کی ناکامی کا سوال بن چکا ہے کہ آخر ایک صوبہ اپنی بنیادی اسپورٹس سہولت کو اتنے طویل عرصے تک بند کیسے رکھ سکتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف تربیتی سہولت کی بندش نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑا ہوا مالی اور انتظامی خلا بھی ہے۔ حالیہ چیمپئن شپ میں شرکت کرنے والی ٹیم کو کوئی واضح سرکاری مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔ کھلاڑی اپنی مدد آپ کے تحت لاہور پہنچے اور مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔یہ صورتحال دو سطحوں پر ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ پہلی سطح پر ادارہ جاتی ذمہ داری، جہاں کھلاڑیوں کے سفر، رہائش اور تیاری کے اخراجات پورے کرنا متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے۔ دوسری سطح پر پالیسی کی ناکامی، جہاں کھلاڑیوں کو ترقی دینے کے بجائے انہیں خود مالی بوجھ اٹھانے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔یہ کوئی وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل رجحان بنتا جا رہا ہے۔ جب ریاستی کھیلوں کے نظام میں کھلاڑی خود اپنی فنانسنگ کریں تو پھر اداروں کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟

خاموشی، جو سب سے بڑا مسئلہ ہے سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نہ پول کی بندش پر کوئی واضح سرکاری مو¿قف آیا ہے، نہ بحالی کا کوئی ٹائم فریم دیا گیا ہے، اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ اس بندش کی اصل وجوہات کیا ہیں۔ یہ خاموشی خود ایک بڑا سوال ہے۔ کسی بھی عوامی ادارے میں شفافیت بنیادی اصول ہوتی ہے۔ جب ایک اہم اسپورٹس انفراسٹرکچر مہینوں بند رہے اور کوئی وضاحت نہ آئے تو پھر شک اور بے اعتمادی پیدا ہونا فطری ہے۔ یہی صورتحال یہاں بھی نظر آ رہی ہے۔ایک طرف خیبرپختونخوا کے تیراک قومی سطح کے مقابلوں میں شرکت کر رہے ہیں، دوسری طرف ان کے اپنے صوبے میں انہیں پانی تک کی باقاعدہ ٹریننگ دستیاب نہیں۔ یہ تضاد محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ اسپورٹس گورننس کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔یہ وہی نظام ہے جہاں کامیابی کے دعوے بڑے ہوتے ہیں لیکن بنیادی سہولیات غیر یقینی۔ جہاں ٹیمیں باہر بھیجی جاتی ہیں لیکن اندر کا نظام بند پڑا رہتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف موجودہ مقابلوں تک محدود نہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان نوجوان کھلاڑیوں کو ہو رہا ہے۔ انڈر 6 سے شروع ہونے والے تیراک اگر اپنے ابتدائی سالوں میں ہی تسلسل کھو دیں تو ان کے بین الاقوامی معیار تک پہنچنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔تیراکی میں تکنیک، پانی کی فیلنگ، اور ریگولر پریکٹس بنیادی عناصر ہیں۔ جب یہ سب ختم ہو جائیں تو کھلاڑی کی ترقی رک جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج جو خلا پیدا ہو رہا ہے، اس کے اثرات اگلے کئی سال تک نظر آئیں گے۔

یہ پورا معاملہ ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے۔ کیا کھیلوں کی ترقی واقعی ترجیح ہے یا صرف نمائشی سرگرمیوں تک محدود ہے؟ اگر ترجیح ہوتی تو عادل خان سوئمنگ پول جیسے اہم مراکز بند نہ ہوتے۔ اگر ترجیح ہوتی تو کھلاڑی خود فنڈنگ نہ کرتے۔ اور اگر ترجیح ہوتی تو اس پر کم از کم وضاحت ضرور دی جاتی۔اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ جہاں بنیادی ڈھانچہ نظر انداز ہو اور نمائشی شرکت کو کامیابی سمجھ لیا جائے، وہاں نظام دیرپا نہیں رہتا۔

خیبرپختونخوا کی سوئمنگ ٹیم کی لاہور میں موجودگی بظاہر ایک مثبت خبر ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپا ہوا بحران زیادہ سنگین ہے۔ بند پول، غیر واضح پالیسی، مالی معاونت کی کمی، اور ادارہ جاتی خاموشی مل کر ایک ایسے نظام کی تصویر بناتے ہیں جو اپنے کھلاڑیوں کو سہارا دینے کے بجائے انہیں خود اپنے بوجھ پر چھوڑ دیتا ہے۔اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ صرف ایک اسپورٹ کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ پورے صوبے میں ٹیلنٹ کے ضیاع کی ایک طویل کہانی بن جائے گی۔

#KPSwimming #BlueEdgeChampionship #PakistanSportsCrisis #AdilKhanPool #SportsMismanagement #AthleteSupport #YouthSportsPakistan #SwimmingPakistan #KPTeam #SportsInfrastructure #SportsPolicyFailure #NoFundingAthletes #PakistanSports #TalentDevelopment #SportsGovernance
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776573 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More