خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ دوہرا معیار: میدان سے بھی دور اور حقِ ادائیگی سے بھی محروم
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں خواتین کے کھیلوں کے حوالے سے جو بیانیہ سرکاری سطح پر پیش کیا جاتا ہے اور جو زمینی حقیقت ہے، ان دونوں کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ خواتین کو کھیلوں میں برابر مواقع دیے جا رہے ہیں، انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمائندگی دی جا رہی ہے، اور ان کے لیے کیمپس، ٹریننگ پروگرامز اور مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف خواتین کھلاڑیوں کی شمولیت محدود ہے بلکہ جو چند خواتین اس نظام میں داخل ہو بھی جاتی ہیں، انہیں بنیادی حق یعنی ادائیگی سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔یہ تضاد صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا غیر شفاف نظام ہے جو خواتین کو کھیلوں سے دور رکھنے میں بالواسطہ کردار ادا کرتا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب کھلاڑیوں کو ان کی محنت کا معاوضہ ہی نہیں ملتا تو وہ اس نظام کا حصہ کیوں رہیں گی؟
کھیلوں کے مختلف کیمپس اور ایونٹس میں خواتین کی موجودگی اکثر ایک “نمائشی” حیثیت رکھتی ہے۔ کاغذوں میں ان کی تعداد پوری دکھائی جاتی ہے، تصاویر بنائی جاتی ہیں، رپورٹس تیار ہوتی ہیں، مگر جب اصل بات آتی ہے یعنی ادائیگی اور سہولتوں کی تو وہاں مکمل خاموشی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی باصلاحیت لڑکیاں کھیلوں سے دور ہو جاتی ہیں۔ وہ نہ تو مالی طور پر اس نظام سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور نہ ہی انہیں عزت اور برابری کا احساس دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خواتین کھیلوں میں آگے آنے کے بجائے پیچھے ہٹتی جا رہی ہیں۔
حالیہ مثالوں میں خواتین بیس بال کیمپ میں ادائیگیوں کا معاملہ ایک واضح ثبوت ہے کہ نظام کس حد تک غیر منظم ہے۔ کچھ کھلاڑیوں کو مکمل ادائیگیاں مل گئیں، کچھ کو چیک جاری ہوا مگر رقم منتقل نہیں ہوئی، جبکہ بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں نہ چیک ملا نہ کوئی وضاحت۔ یہ صرف مالی بدعنوانی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انتظامی بحران ہے۔ جب ایک ہی کیمپ میں شامل کھلاڑیوں کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے تو اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ادائیگیوں کے لیے کوئی واضح معیار موجود نہیں۔ نہ شفاف فہرستیں، نہ آڈٹ، نہ ہی کوئی عوامی ریکارڈ۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر فیصلے کس بنیاد پر کیے جاتے ہیں؟
کثر یہ موقف سامنے آتا ہے کہ یہ ادائیگیاں سرکاری نہیں تھیں۔ لیکن یہ دلیل اپنے اندر ہی تضاد رکھتی ہے۔ اگر فنڈز سرکاری نہیں تھے تو پھر چیک کس اتھارٹی یا ادارے کے نام پر جاری ہوئے؟ اگر یہ نجی یا اسپانسرڈ رقم تھی تو اس کا مکمل ریکارڈ اور حساب کہاں ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات صرف ذمہ داری سے بچنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں نہ کوئی جوابدہ ہے اور نہ ہی کوئی مو¿ثر نگرانی کا نظام موجود ہے۔
یہ صورتحال صرف مالی نقصان تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی جو کھیلوں میں آنے کا خواب دیکھتی ہے، جب وہ یہ دیکھتی ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کو ان کی محنت کا معاوضہ نہیں مل رہا، تو وہ خود بخود اس راستے سے ہٹ جاتی ہے۔ یہ ایک خاموش مگر خطرناک رجحان ہے۔ کھیلوں کے ادارے بظاہر خواتین کی شمولیت کی بات کرتے ہیں مگر عملی طور پر ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جو انہیں آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔
اکثر یہ جملہ دہرایا جاتا ہے کہ خواتین کھیلوں میں دلچسپی نہیں رکھتیں یا وہ اس شعبے میں کم آتی ہیں۔ یہ ایک سطحی اور گمراہ کن تشخیص ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انہیں آنے دیا بھی جا رہا ہے یا نہیں؟اگر جو چند خواتین آتی ہیں انہیں سہولت، عزت اور ادائیگی نہیں ملتی تو باقی کیوں آئیں گی؟ یہ مسئلہ خواتین کی دلچسپی کا نہیں بلکہ نظام کی ناکامی کا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نہ صوبائی سطح پر کوئی سنجیدہ ایکشن نظر آتا ہے اور نہ وفاقی سطح پر کوئی نگرانی۔ ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر خاموش ہو جاتے ہیں۔یہ خاموشی دراصل اس پورے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ جب کسی بھی سطح پر جوابدہی نہ ہو تو بدانتظامی معمول بن جاتی ہے۔
اگر یہی صورتحال جاری رہی تو پاکستان میں خواتین کھیلوں کا مستقبل مزید محدود ہو جائے گا۔ نہ نئے ٹیلنٹ سامنے آئے گا اور نہ موجودہ کھلاڑیوں کو ترقی کا موقع ملے گا۔ کھیل صرف ٹریننگ یا مقابلوں کا نام نہیں ہوتا۔ یہ ایک مکمل ایکو سسٹم ہے جس میں اعتماد، شفافیت اور انصاف بنیادی ستون ہیں۔ جب یہ ستون ہی کمزور ہو جائیں تو پورا ڈھانچہ گرنے لگتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف بیانات یا کمیٹیوں سے ممکن نہیں۔ چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، پہلا، ہر کیمپ اور ایونٹ کی مکمل مالی تفصیلات عوامی سطح پر جاری کی جائیں۔دوسرا، کھلاڑیوں کی ادائیگیوں کا ڈیجیٹل اور قابلِ تصدیق نظام بنایا جائے۔ تیسرا، آزاد آڈٹ لازمی قرار دیا جائے۔ چوتھا، خواتین کھلاڑیوں کے لیے الگ شکایت اور تحفظ کا نظام قائم کیا جائے۔ پانچواں، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا واضح میکانزم ہو۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ خواتین کھیلوں میں نہیں آ رہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ آتی ہیں تو انہیں نظام میں عزت، انصاف اور مالی حق نہیں ملتا۔ یہ صورتحال نہ صرف کھیلوں کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ایک پورے سماجی رویے کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ اگر واقعی خواتین کو آگے لانا ہے تو صرف اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ عملی انصاف، شفافیت اور جوابدہی لازمی ہوگی۔ ورنہ کھیلوں کے میدان خالی رہیں گے اور اعتماد مزید ٹوٹتا جائے گا۔یہ صرف ایک مالی تنازع نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی اخلاقی ناکامی ہے جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔
#WomenInSports #SportsCorruption #AthleteRights #PakistanSports #GenderEquality #SportsGovernance #InvestigativeJournalism #PlayerJustice #Transparency #Kikxnow
|