باڈی بلڈنگ تنازع: صوبائی فنڈنگ، پی ایس بی کی پابندی اور خاموش ادارے، آخر کھیلوں کے نظام میں اختیار کس کے پاس ہے؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے میں پائے جانے والے تضادات ایک بار پھر اس وقت کھل کر سامنے آئے جب خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور میں منعقدہ ایک نیشنل باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کیلئے خصوصی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی، جبکہ دوسری جان پاکستان سپورٹس بورڈ پہلے ہی طارق پرویز سے منسلک ایک باڈی بلڈنگ تنظیم کو غیر تسلیم شدہ قرار دے چکا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف حکومتی فنڈز کے شفاف استعمال پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس سے پاکستان کے کھیلوں کے نظام میں موجود ادارہ جاتی کمزوری، عدم عملدرآمد اور اختیارات کے مبہم ڈھانچے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔
4 اپریل 2026 کوخیبرپختونخواہ حکومت کے کابینہ اجلاس میں صوبے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے متعدد فیصلے کیے گئے، جن میں باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کیلئے خصوصی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی شامل تھی۔ سرکاری اعلامیے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایونٹ کس تنظیم کے زیر اہتمام منعقد ہوا، تاہم اس منظوری نے فوری طور پر سوالات کو جنم دیا کیونکہ چند ماہ قبل ہی پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ایک باضابطہ سرکلر کے ذریعے طارق پرویز سے منسلک “پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن” کو غیر تسلیم شدہ قرار دیا تھا۔
پاکستان سپورٹس بورڈ نے اپنے سرکلر میں واضح کیا تھا کہ مذکورہ تنظیم نہ صرف بورڈ سے منظور شدہ نہیں بلکہ اسے “پاکستان” کے نام کے استعمال اور قومی سطح پر نمائندگی کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ اس تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے کسی بھی فیصلے یا مراسلے کو تسلیم نہ کیا جائے۔ یہ ہدایات اگرچہ کاغذ پر واضح تھیں، مگر عملی صورتحال نے ان کی افادیت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اگر ایک ادارہ وفاقی سطح پر غیر تسلیم شدہ قرار دیا جا چکا ہے تو پھر صوبائی سطح پر اسی سے جڑے ایونٹس کیلئے فنڈنگ کی منظوری کیسے دی جا رہی ہے؟ اگر سرکاری فنڈز ایک ایسی تنظیم سے وابستہ سرگرمیوں پر خرچ ہو رہے ہیں جس کی قانونی حیثیت متنازع ہو، تو یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ نظامی ناکامی ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا خیبر پختونخوا حکومت نے فنڈنگ سے پہلے پاکستان سپورٹس بورڈ سے تصدیق کی یا نہیں۔
اس معاملے میں طارق پرویز نے اپنا مو¿قف دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی تنظیم واقعی غیر قانونی یا ممنوع ہوتی تو انہیں نیشنل گیمز میں شرکت کی اجازت نہ ملتی۔ ان کے مطابق، “اگر بین ہوتے تو پی ایس بی کے نیشنل گیمز میں بھی ہم حصہ نہیں لے سکتے۔ سارے ڈیپارٹمنٹ ہمارے ساتھ ہیں، ہم عرصہ دراز سے باڈی بلڈنگ سے وابستہ ہیں۔” طارق پرویز کا یہ موقف ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر پاکستان سپورٹس بورڈ نے واقعی پابندی یا عدم شناخت کا فیصلہ کیا تھا تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو سکا؟ اگر ایک غیر تسلیم شدہ تنظیم عملی طور پر ایونٹس کروا رہی ہے، نیشنل گیمز میں شرکت کر رہی ہے، مختلف محکموں سے روابط رکھتی ہے اور صوبائی سطح پر گرانٹس تک حاصل کر رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ایس بی کی پالیسی اور اس کے نفاذ میں واضح خلا موجود ہے۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں اصل ذمہ داری پاکستان سپورٹس بورڈ پر عائد ہوتی ہے۔ اگر بورڈ کسی تنظیم کو غیر تسلیم شدہ قرار دیتا ہے تو صرف سرکلر جاری کرنا کافی نہیں۔ قانون کی اصل طاقت اس کے نفاذ میں ہوتی ہے۔ اگر فیصلے صرف خطوط اور سرکلرز تک محدود رہیں اور زمینی سطح پر کچھ نہ بدلے تو ایسے فیصلے محض نمائشی اقدامات بن کر رہ جاتے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کھیلوں کے شعبے میں کاغذی فیصلوں اور عملی حقائق میں تضاد سامنے آیا ہو۔ پاکستان میں اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایک طرف ادارے پابندی یا معطلی کے احکامات جاری کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف انہی اداروں یا شخصیات کو عملی طور پر کام جاری رکھنے دیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف قوانین کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ کھیلوں کے نظام میں طاقتور افراد کیلئے راستے کھل جاتے ہیں کہ وہ ادارہ جاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں۔
اس تمام صورتحال میں اولمپک ایسوسی ایشن آف پاکستان کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ملک میں مختلف کھیلوں کی قومی فیڈریشنز کے ساتھ رابطے اور اولمپک چارٹر کے مطابق ان کی حیثیت کو منظم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اگر کسی کھیل میں دو دھڑے موجود ہوں یا کسی فیڈریشن کی قانونی حیثیت متنازع ہو تو اولمپک ایسوسی ایشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ وضاحت کرے کہ کس تنظیم کو نمائندہ حیثیت حاصل ہے۔بدقسمتی سے اکثر معاملات میں اولمپک ایسوسی ایشن آف پاکستان خاموش نظر آتی ہے۔ یہی خاموشی ایسے تنازعات کو بڑھنے دیتی ہے۔ جب وفاقی سطح پر پاکستان سپورٹس بورڈ ایک مو¿قف دیتا ہے اور عملی میدان میں دوسری صورتحال چل رہی ہوتی ہے تو اولمپک ایسوسی ایشن کو ثالثی اور وضاحت کا کردار ادا کرنا چاہیے، مگر ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
صوبائی حکومت کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر کھیلوں کے فروغ کیلئے فنڈز دیے جا رہے ہیں تو ان کی تقسیم شفاف، قانونی اور قابلِ تصدیق بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند برسوں سے درجنوں کھیلوں کی ایسوسی ایشنز مسلسل مالی بحران کا شکار ہیں، مگر بعض مخصوص ایونٹس کیلئے خصوصی گرانٹس کی منظوری دی جاتی ہے۔ یہ تضاد اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ فنڈنگ کا نظام مستقل پالیسی کے بجائے وقتی فیصلوں پر چل رہا ہے۔اگر ایک طرف رجسٹرڈ کھیلوں کی ایسوسی ایشنز وسائل کی کمی سے متاثر ہوں اور دوسری طرف متنازع حیثیت رکھنے والے ایونٹس یا گروپس کو مالی معاونت ملے تو یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ کھیلوں کے پورے ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس سے نچلی سطح پر کھلاڑی متاثر ہوتے ہیں، اعتماد ختم ہوتا ہے اور ادارہ جاتی نظام غیر موثر ہو جاتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ طارق پرویز یا کسی اور نے ایونٹ کروایا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کے ادارے خود واضح نہیں کہ اختیار کس کے پاس ہے اور ذمہ داری کس کی ہے۔ اگر پاکستا ن سپورٹس بورڈ کسی تنظیم کو غیر تسلیم شدہ قرار دیتا ہے تو پھر صوبائی حکومت اسے مالی معاونت کیسے دیتی ہے؟ اگر صوبائی حکومت فنڈ دیتی ہے تو پھر پی ایس بی کی پابندی کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اور اگر دونوں اپنی جگہ درست ہیں تو پھر نظام کی وضاحت کون کرے گا؟
یہ معاملہ صرف باڈی بلڈنگ تک محدود نہیں۔ یہ پورے کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے کی کمزوری کا آئینہ ہے۔ جب تک پاکستان سپورٹس بورڈ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی نہیں بناتا، اولمپک ایسوسی ایشن آف پاکستان واضح مو¿قف اختیار نہیں کرتی اور صوبائی حکومتیں فنڈنگ کے نظام کو شفاف نہیں بناتیں، ایسے تنازعات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔پاکستان کے کھیلوں کو صرف فنڈز کی ضرورت نہیں، انہیں شفافیت، واضح اختیار اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔ اگر ادارے صرف سرکلر جاری کرنے تک محدود رہیں اور عملی میدان میں سب کچھ ویسے ہی چلتا رہے تو پھر پابندیاں، منظوری اور قواعد سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔
#PakistanSportsBoard #BodybuildingPakistan #SportsGovernance #KPKSports #SportsFunding #PakistanOlympicAssociation #Transparency #Accountability #SportsPolicy #InvestigativeJournalism #GovernanceFailure #MusarratUllahJan #KikxNow
|