قانون سب کے لیے یا صرف کمزور طبقے کے لیے؟ خیبرپختونخوا میں توانائی بچت پالیسی اور سرکاری اداروں کا دوہرا معیار
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا میں اس وقت حکومت کی جانب سے توانائی بچت اور سمارٹ لاک ڈاو¿ن کی پالیسی نافذ ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد بجلی اور ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو روکنا، مارکیٹوں میں سرگرمیوں کو محدود کرنا اور مجموعی طور پر توانائی بحران کے اثرات کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ضلعی انتظامیہ کو متحرک کیا گیا ہے، اسسٹنٹ کمشنرز بازاروں میں کارروائیاں کر رہے ہیں، دکانیں سیل کی جا رہی ہیں اور عوامی سطح پر سختی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
کاغذی طور پر یہ ایک مربوط اور منطقی پالیسی دکھائی دیتی ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ایک سنگین سوال کھڑا کر رہی ہے: کیا یہ قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا صرف عام شہریوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے؟
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب سرکاری اداروں کے اندر ہونے والے توانائی کے غیر ضروری استعمال پر نظر ڈالی جائے۔ خاص طور پر سپورٹس ڈائریکٹوریٹ خیبرپختونخوا کے احاطے میں درختوں اور بیرونی حصوں پر لگی روشنیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومتی بچت پالیسی کا اطلاق ہر جگہ یکساں نہیں ہو رہا۔ ایک طرف شہریوں کو بجلی بچانے کے نام پر سخت اقدامات کا سامنا ہے، دوسری طرف سرکاری اداروں میں غیر ضروری لائٹنگ اور توانائی کے ضیاع پر کوئی واضح عملدرآمد نظر نہیں آتا۔
یہ صورتحال محض ایک تکنیکی یا انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایک بنیادی پالیسی تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔ جب ریاست خود اپنے اداروں میں اپنی ہی پالیسیوں پر عمل نہیں کرتی تو عوام میں اس پالیسی کی ساکھ کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ قانون کی عملداری صرف اس وقت مو¿ثر ہوتی ہے جب اس کا اطلاق ہر فرد، ہر ادارے اور ہر سطح پر یکساں ہو۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر توانائی بحران واقعی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، تو سرکاری اداروں کو استثنا کیوں حاصل ہے؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ بچت صرف دکاندار، ریڑھی بان، چھوٹے تاجر اور عام شہری کی ذمہ داری ہے جبکہ سرکاری دفاتر اس سے بالاتر ہیں؟ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو پالیسیوں کو کمزور اور غیر مو¿ثر بناتا ہے۔
اس صورتحال میں ضلعی انتظامیہ کا کردار بھی سوالیہ نشان بنتا ہے۔ جب اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر حکام مارکیٹوں میں کارروائیاں کر کے مثال قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو کیا ان کی نظر سرکاری اداروں کی اندرونی صورتحال پر نہیں جاتی؟ یا پھر نگرانی کا دائرہ صرف عوامی مقامات تک محدود ہے؟ یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے۔ توانائی بچت پالیسی کا مقصد صرف بجلی کی بچت نہیں بلکہ ایک مثال قائم کرنا بھی ہے۔ ریاست اگر خود سادگی اور بچت کا مظاہرہ کرے تو عوامی سطح پر اس کا اثر زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ لیکن اگر سرکاری ادارے خود اس پالیسی کی خلاف ورزی کریں تو نہ صرف پیغام کمزور ہو جاتا ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
سپورٹس ڈائریکٹوریٹ جیسے ادارے، جن کا براہ راست تعلق نوجوانوں، کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ سے ہے، ان کا اس طرح غیر ضروری روشنیوں اور توانائی کے ضیاع میں ملوث ہونا ایک اور تضاد کو جنم دیتا ہے۔ یہ ادارے دراصل رول ماڈل ہونے چاہئیں، نہ کہ پالیسیوں کی خلاف ورزی کی مثال۔ یہ مسئلہ صرف ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر انتظامی کلچر کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں پالیسی سازی اور عملدرآمد کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔ یہ خلا ہی وہ جگہ ہے جہاں حکومتی ہدایات اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔
اگر اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو چند بنیادی اصلاحات کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ سب سے پہلے، توانائی بچت پالیسی کا اطلاق تمام سرکاری اداروں پر لازمی اور فوری ہونا چاہیے، بغیر کسی استثنا کے۔ دوسرا، ایک مو¿ثر مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے جو صرف شہری علاقوں یا بازاروں تک محدود نہ ہو بلکہ سرکاری دفاتر، اداروں اور محکموں کو بھی برابر کی نگرانی میں لائے۔
تیسرا، شفاف رپورٹنگ کا نظام ہونا چاہیے جس میں یہ واضح کیا جائے کہ کس ادارے نے کتنی توانائی بچائی اور کہاں کہاں ضیاع ہوا۔ اس طرح نہ صرف جوابدہی بڑھے گی بلکہ پالیسی کی ساکھ بھی بحال ہو گی۔اصل مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان کے غیر مساوی اطلاق کا ہے۔ جب قانون طاقتور اداروں کے لیے نرم اور کمزور طبقے کے لیے سخت ہو جائے تو پھر ریاستی نظام پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو عوامی بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ اگر واقعی توانائی بحران ایک قومی مسئلہ ہے تو اس کے حل کے لیے سب کو ایک ہی معیار پر لانا ہوگا۔ ورنہ یہ پالیسی بھی دیگر کئی پالیسیوں کی طرح صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گی۔آخر میں بنیادی سوال یہی رہ جاتا ہے: کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا پھر اس کا اطلاق صرف وہاں ہوتا ہے جہاں مزاحمت کم ہو؟ اس سوال کا جواب ہی اس پورے نظام کی سمت اور ساکھ کا تعین کرے گا۔
|