آصف شہاب کے نام سے سکواش کورٹ منسوب کرنے کی تجویز — کھیل دوستی اور خدمات کا اعتراف یا رسمی خراجِ عقیدت؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور: خیبرپختونخوا کے انتظامی و سپورٹس حلقوں میں سینئر بیوروکریٹ آصف شہاب کے اچانک انتقال کے بعد ایک اہم تجویز زیرِ بحث ہے کہ حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں قائم سکواش کورٹ کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے۔ یہ تجویز بظاہر ایک خراجِ عقیدت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی پیدا کرتی ہے کہ کیا ہم شخصیات کو یاد رکھنے کے لیے صرف نام کی تختیاں ہی کافی سمجھتے ہیں یا پھر ان کی خدمات کو ادارہ جاتی تسلسل میں محفوظ کرنے کا کوئی مضبوط نظام موجود ہے؟
آصف شہاب گزشتہ روز حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں سکواش کھیلتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے۔ وہ فوری طبی امداد کے باوجود جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی وفات نے نہ صرف انتظامی حلقوں بلکہ کھیلوں سے وابستہ افراد کو بھی گہرے صدمے سے دوچار کیا۔ وہ ایک تجربہ کار گریڈ 19 افسر تھے اور اس وقت خیبرپختونخوا ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ میں بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس سے قبل وہ چیف پلاننگ آفیسر کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھا چکے تھے۔
سپورٹس حلقوں میں انہیں ایک ایسے افسر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے جو صرف فائلوں اور دفاتر تک محدود نہیں تھا بلکہ کھیلوں کے میدان میں بھی عملی دلچسپی رکھتا تھا۔ خاص طور پر سکواش کے کھیل سے ان کی وابستگی نمایاں رہی اور یہی وجہ ہے کہ حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں سکواش کورٹ کی تعمیر کے عمل میں ان کی دلچسپی اور معاونت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔یہی پس منظر ہے جس کے تحت یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ سکواش کورٹ کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ ان کی خدمات کو ایک مستقل شناخت دی جا سکے۔ سابق ڈائریکٹر جنرل سپورٹس جنید خان سمیت مختلف سپورٹس شخصیات نے اس تجویز کی حمایت کی ہے اور اسے ایک مناسب خراجِ عقیدت قرار دیا ہے۔
تاہم اس معاملے کو صرف جذباتی یا رسمی سطح پر دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا عمل ایک مستقل پالیسی کا حصہ ہے یا یہ محض وقتی ردعمل تک محدود رہتا ہے؟ اگر ہر قابل ذکر افسر یا شخصیت کے نام پر کوئی نہ کوئی اسپورٹس اسٹرکچر منسوب کیا جائے تو پھر اصل مسئلہ نظامی کمزوری اور ادارہ جاتی یادداشت کا کہیں گم ہو جاتا ہے۔آصف شہاب کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ان محدود بیوروکریٹس میں شامل تھے جنہوں نے کھیلوں کے منصوبوں میں دلچسپی لی اور عملی طور پر ان کی پیش رفت میں کردار ادا کیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کسی ایک فرد کی کوشش سے مکمل نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ ایک مستقل ادارہ جاتی تسلسل کا تقاضا کرتی ہے۔
خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے متعدد منصوبے ایسے ہیں جو یا تو تاخیر کا شکار رہے یا ان کی افادیت مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ ایسے میں کسی ایک شخصیت کے نام پر ایک منصوبے کو منسوب کرنا جذباتی طور پر تو درست لگ سکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سے اصل مسائل حل ہوں گے یا صرف یادگاریں قائم ہوں گی؟یہ بھی اہم نکتہ ہے کہ کھیلوں کے نام پر یادگاریں بنانے کا رجحان اگر بغیر واضح پالیسی کے جاری رہا تو اس سے ادارہ جاتی ترجیحات غیر واضح ہو سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں کھیلوں کے ادارے شخصیات کو اعزاز دیتے ہیں، لیکن اس کے لیے واضح معیار، میرٹ اور خدمات کا جامع جائزہ لیا جاتا ہے، نہ کہ صرف وقتی جذبات۔
اس کے باوجود آصف شہاب کے معاملے میں ایک مضبوط پہلو ضرور موجود ہے، اور وہ ان کی ذاتی دلچسپی اور عملی شرکت ہے۔ وہ صرف انتظامی سطح پر محدود نہیں رہے بلکہ کھیل کے میدان میں خود شریک ہوتے رہے۔ یہی چیز انہیں عام بیوروکریٹک رویے سے مختلف بناتی ہے، جہاں اکثر افسران کھیلوں کے منصوبوں کو صرف فائلوں اور بجٹ تک محدود رکھتے ہیں۔ان کا تعلق صوابی سے بتایا جاتا ہے اور ان کے قریبی حلقے انہیں ایک متحرک، کھیل دوست اور ترقیاتی سوچ رکھنے والے افسر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی اچانک وفات نے ایک خلا پیدا کیا ہے، خاص طور پر ان منصوبوں میں جہاں وہ براہ راست دلچسپی لے رہے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر سکواش کورٹ کو ان کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے تو کیا اس کے ساتھ کوئی ایسا میکنزم بھی بنایا جائے گا جو ان کی شروع کردہ یا معاونت یافتہ کھیلوں کی پالیسیوں کو آگے بڑھا سکے؟ یا یہ سب صرف ایک نام کی تبدیلی تک محدود رہے گا؟
اصل خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ان کے وڑن کو ادارہ جاتی سطح پر آگے بڑھایا جائے۔ اگر ان کی دلچسپی کھیلوں کی بہتری میں تھی تو پھر ضرورت اس بات کی ہے کہ کھیلوں کے منصوبوں کو شخصیات سے آزاد کر کے ایک مضبوط، شفاف اور مسلسل نظام کے تحت چلایا جائے۔یہ تجویز اگر منظور ہوتی ہے تو اسے صرف ایک علامتی اقدام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ایک واضح پیغام بھی جانا چاہیے کہ کھیلوں کے شعبے میں کام کرنے والی شخصیات کی خدمات کو صرف یاد نہیں رکھا جائے گا بلکہ ان کے وڑن کو بھی جاری رکھا جائے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آصف شہاب کا نام سکواش کورٹ سے منسوب کرنا ایک جذباتی اور قابل فہم تجویز ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم یادگاریں بنانے میں بہتر ہیں یا نظام بہتر بنانے میں؟ یہی فرق کسی بھی ریاستی پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔
#AsifShahab #KhyberPakhtunkhwaSports #SquashCourt #SportsDevelopment #PakistanSports #Governance #HockeyAndSquash #SportsInfrastructure #Tribute
|