چارسدہ میں کوچز کی برطرفی: کھیل دشمن پالیسی، انتظامی بے حسی یا سیاسی مداخلت؟

چارسدہ کے ضلعی سپورٹس نظام میں حالیہ برطرفیوں نے صرف چند ملازمین کے مستقبل کو متاثر نہیں کیا بلکہ اس واقعے نے ضلع میں کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے، حکومتی ترجیحات اور کھیلوں کے فروغ کے دعووں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 10 اپریل کو ضلع انتظامیہ کی جانب سے 11 ڈیلی ویجز ملازمین کو فارغ کرنا بظاہر ایک معمول کی انتظامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس فیصلے کے پس منظر اور نتائج کا جائزہ لیا جائے تو یہ معاملہ کہیں زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ فارغ کیے جانے والوں میں وہ چار کوچز بھی شامل تھے جو گزشتہ تیرہ برس سے ہاکی، فٹبال اور بیڈمنٹن جیسے اہم کھیلوں میں نوجوانوں کو تربیت دے رہے تھے۔

یہ کوچز کسی سرکاری مستقل اسٹرکچر کا حصہ ضرور نہیں تھے، مگر عملی طور پر ضلع کے کھیلوں کی بنیاد انہی کے کندھوں پر کھڑی تھی۔ چارسدہ جیسے ضلع میں جہاں کھیلوں کی سرگرمیاں پہلے ہی محدود وسائل میں چل رہی ہیں، وہاں تجربہ کار کوچز کا موجود ہونا کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہی کوچز نوجوانوں کو میدانوں میں لاتے تھے، انہیں تربیت دیتے تھے، اور کھیلوں کی ایسی فضا برقرار رکھتے تھے جس سے مقامی ٹیلنٹ زندہ رہتا تھا۔ ان کوچز کو ایک ہی فیصلے سے فارغ کر دینا صرف چند افراد کی ملازمت ختم کرنا نہیں بلکہ کھیلوں کے ایک فعال نظام کو کمزور کرنا ہے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر واقعی مالی مشکلات یا اخراجات میں کمی مقصود تھی تو انہی دنوں تقریباً بیس نئے اہلکار کیوں بھرتی کیے گئے؟ اگر ایک طرف پرانے، تجربہ کار اور فنی مہارت رکھنے والے کوچز کو یہ کہہ کر فارغ کیا جا رہا ہے کہ وسائل محدود ہیں، اور دوسری طرف نئی بھرتیاں جاری ہیں، تو یہ فیصلہ انتظامی تضاد کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ مالی وسائل نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔

یہاں اصل المیہ یہ ہے کہ فنی مہارت رکھنے والے افراد کو نکال کر غیر فنی عملے کو جگہ دی جا رہی ہے۔ کھیلوں کے نظام میں کوچز بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ گراونڈ، عمارت، دفاتر اور عملہ اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر نوجوانوں کی تربیت کرنے والا موجود نہ ہو تو پورا سپورٹس ڈھانچہ بے روح ہو جاتا ہے۔ اگر ایک ضلع میں ہاکی، فٹبال اور بیڈمنٹن کے کوچز کو فارغ کر کے مالی اور چوکیدار رکھے جا رہے ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ کھیلوں کی ترقی ترجیح میں شامل نہیں۔

یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ سوچ کا بحران ہے۔ پاکستان میں اکثر کھیلوں کے شعبے میں ترجیحات الٹی رہی ہیں۔ انفراسٹرکچر کے نام پر بجٹ خرچ ہو جاتا ہے، نئی تعمیرات کے اعلانات ہو جاتے ہیں، مگر کوچنگ اور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس میدان تو موجود ہوتے ہیں لیکن معیاری کھلاڑی پیدا نہیں ہوتے۔ چارسدہ میں جو ہوا وہ اسی وسیع مسئلے کی ایک واضح مثال ہے۔

اس معاملے میں سیاسی مداخلت کے الزامات صورتحال کو مزید تشویشناک بناتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئے بھرتی ہونے والے بعض افراد سیاسی سفارشات کے تحت لائے گئے۔ اگرچہ اس الزام کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، مگر اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو یہ کھیلوں کے نظام کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ جب سپورٹس اداروں میں بھرتیاں میرٹ کے بجائے سفارش پر ہونے لگیں تو سب سے پہلے فنی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ پھر ادارے کھیل کے فروغ کے بجائے سیاسی مفادات کے تابع ہو جاتے ہیں۔

چارسدہ میں کوچز کی برطرفی نے ایک اور مسئلہ بھی بے نقاب کیا ہے: ڈیلی ویجز ملازمین کا غیر محفوظ مستقبل۔ تیرہ سال تک خدمات انجام دینے کے باوجود اگر ایک کوچ کو کسی وضاحت کے بغیر فارغ کیا جا سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام میں تجربے اور کارکردگی کی کوئی ضمانت نہیں۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی باصلاحیت فرد مستقل بنیادوں پر کام کرنے میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرے گا۔

یہ صورتحال نوجوان نسل کے لیے بھی خطرناک ہے۔ کھیل صرف مقابلے کا نام نہیں بلکہ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی تربیت کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔ جب کوچز ہٹا دیے جائیں گے تو نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مواقع محدود ہوں گے۔ میدان ویران ہوں گے، تربیت کا عمل رک جائے گا اور نوجوان مثبت سرگرمیوں سے دور ہوتے جائیں گے۔ اس کا نقصان صرف کھیلوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو ہوگا۔

مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق کنٹیجنٹ اسٹاف کی فکس تنخواہوں کے باوجود نئی بھرتیوں کے بعد تنخواہوں میں مبینہ کٹوتیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے بعض اہلکاروں کی پانچ سے دس دن کی تنخواہ کاٹ کر سابق ملازمین کو ادائیگی کی گئی۔ اگر یہ درست ہے تو یہ صرف انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ مالی شفافیت پر ایک سنگین سوال ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف نظام پر اعتماد ختم کرتے ہیں بلکہ بدعنوانی کے شکوک کو بھی تقویت دیتے ہیں۔

یہ تمام حقائق ایک بڑی تصویر دکھاتے ہیں: ضلعی سپورٹس نظام میں پالیسی، شفافیت اور ترجیحات کا بحران۔ اگر فنی کوچز کو نکال کر غیر فنی عملہ بھرتی کیا جائے، اگر بھرتیوں میں سیاسی اثر و رسوخ شامل ہو، اگر تنخواہوں کی تقسیم غیر شفاف ہو، تو پھر کھیلوں کے فروغ کے دعوے محض نعرے رہ جاتے ہیں۔چارسدہ کا یہ واقعہ دراصل پورے صوبے کے سپورٹس نظام کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے ہاں کھیلوں کے ادارے اکثر کھیل کے بنیادی تقاضوں کے بجائے انتظامی ضروریات کے تابع چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باصلاحیت نوجوان سہولیات اور رہنمائی نہ ملنے کے باعث ضائع ہو جاتے ہیں۔ اگر کوچز کی جگہ سفارش یافتہ غیر فنی افراد کو ترجیح دی جائے گی تو کھیلوں کی ترقی کیسے ممکن ہوگی؟

یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی اصل ترجیح کیا ہے؟ اگر مقصد کھیلوں کو فروغ دینا ہے تو پھر کوچز کو نکالنا اور غیر فنی عملہ بڑھانا کس منطق کے تحت کیا جا رہا ہے؟ اگر مقصد مالی بچت ہے تو نئی بھرتیاں کیوں کی جا رہی ہیں؟ اگر سب کچھ قواعد کے مطابق ہے تو پھر شفاف وضاحت کیوں نہیں دی جا رہی؟یہ خاموشی خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ جب انتظامیہ وضاحت نہیں دیتی تو شکوک بڑھتے ہیں۔ اور جب شکوک بڑھتے ہیں تو ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یہی اس وقت چارسدہ میں ہو رہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فیصلے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ برطرف کیے گئے کوچز کے کیس کا جائزہ لیا جائے، نئی بھرتیوں کے معیار کو سامنے لایا جائے، اور اگر مالی بے ضابطگی کے الزامات درست ہیں تو ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ ہمارے کھیلوں کے اداروں میں کھیل سے زیادہ اہمیت سفارش، سیاسی دباو اور انتظامی سہولت کو دی جا رہی ہے۔چارسدہ کے کوچز کی برطرفی صرف چار افراد کی برطرفی نہیں بلکہ یہ ایک علامت ہے۔ یہ اس نظام کی علامت ہے جہاں کھیلوں کے مستقبل کے بجائے وقتی انتظامی فیصلے غالب ہیں۔ اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو ہم نوجوانوں سے کھیل چھین لیں گے۔ میدان موجود ہوں گے مگر تربیت نہیں ہوگی۔ ڈھانچے موجود ہوں گے مگر نتائج نہیں آئیں گے۔

اگر آج تجربہ کار کوچز کو خاموشی سے نکالا جاتا رہا تو کل صرف ملازمین نہیں بلکہ پورا کھیل ہار جائے گا۔ اور جب کھیل ہار جائے تو نقصان صرف ایک شعبے کا نہیں، پوری نسل کا ہوتا ہے۔

#Charsadda #SportsCoaches #SportsCrisis #AdministrativeFailure #PoliticalInterference #FinancialIrregularities #SportsDevelopment #YouthTalent #InvestigativeJournalism #KikxNow #MusarratUllahJan

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776286 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More