کرکٹ سٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، عوامی شمولیت یا خیبرپختونخوا میں کھیلوں کی ترجیحات پر مہنگا سوال؟

22 اپریل کو خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک عوام دوست اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومتی موقف یہ ہے کہ اسمبلی کارروائی کو روایتی ایوان سے نکال کر ایک کھلے مقام پر لانے سے عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کی کارروائی براہ راست دیکھنے کا موقع ملے گا۔ پہلی نظر میں یہ اقدام شفافیت، عوامی رسائی اور جمہوری عمل کو عوام کے قریب لانے کی ایک مثبت کوشش معلوم ہوتی ہے۔

لیکن جب اس فیصلے کو کھیلوں کے تناظر، مالی ترجیحات اور عوامی وسائل کے استعمال کے زاویے سے دیکھا جائے تو کئی سنجیدہ سوالات سامنے آتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اسمبلی اجلاس کرکٹ سٹیڈیم میں کیوں ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ صوبے کی ترجیحات، کھیلوں کے مفاد اور مالی ذمہ داری کے مطابق ہے؟ اس بحث کا پہلا اور فوری اثر کھیلوں کی سرگرمیوں پر پڑا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انڈر 17 نیشنل جونیئر ٹورنامنٹ کا ایک میچ، جو اسی سٹیڈیم میں شیڈول تھا، اسمبلی اجلاس کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا۔ بظاہر یہ محض ایک دن کی تبدیلی لگتی ہے، مگر اس کا علامتی اثر بہت بڑا ہے۔ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ جب سیاسی سرگرمی کیلئے جگہ درکار ہو تو کھیلوں کی سرگرمیوں کو پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے۔

یہ پیغام اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے شعبے کو پہلے ہی انفراسٹرکچر کی کمی، فنڈز کی قلت اور ناقص سہولیات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں اور سپورٹس اداروں کو مسلسل یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ وسائل محدود ہیں، سہولیات محدود ہیں اور بڑے ایونٹس کیلئے مناسب انفراسٹرکچر دستیاب نہیں۔ ایسے ماحول میں اگر ایک سیاسی اجلاس کیلئے کھیلوں کا شیڈول بدلا جاتا ہے تو کھیلوں کو ترجیح دینے کا سرکاری دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔ دوسرا اہم سوال مالی اخراجات کا ہے۔

ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کی بحالی پر تقریباً دو ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس منصوبے کو صوبے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ایک اہم سرمایہ کاری قرار دیا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ اس تاریخی میدان کو دوبارہ بڑے کرکٹ مقابلوں کیلئے تیار کیا جائے اور صوبے میں اعلیٰ معیار کی کرکٹ کی واپسی ممکن بنائی جائے۔ لیکن اب اسی سٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس کیلئے اضافی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ نشستیں لگائی جائیں گی، فرنیچر رکھا جائے گا، سیکیورٹی بڑھائی جائے گی، پروٹوکول کے انتظامات ہوں گے، میڈیا کیلئے سہولیات دی جائیں گی، پارکنگ کا بندوبست ہوگا، اور پورے مقام کو ایک روزہ سیاسی تقریب کیلئے تیار کیا جائے گا۔ یہ سب اخراجات سرکاری وسائل سے ہوں گے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اس ایک روزہ اجلاس پر کتنی رقم خرچ ہوگی؟ اگر حکومت اس فیصلے کو عوامی شمولیت کا نام دیتی ہے تو اسے اس کے مالی اخراجات بھی عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں۔ اخراجات کی شفافیت کے بغیر یہ اقدام عوامی خدمت سے زیادہ ایک مہنگی نمائشی تقریب محسوس ہوتا ہے۔ تیسرا اور شاید سب سے حساس سوال کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی حالت سے متعلق ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے یہی بتایا جا رہا تھا کہ ارباب نیاز سٹیڈیم مکمل طور پر بڑے میچز کیلئے تیار نہیں۔ کبھی آوٹ فیلڈ کی حالت پر سوال اٹھایا گیا، کبھی چمن کی کوالٹی پر، کبھی روشنیوں کے معیار پر۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر بڑے میچز اور ممکنہ طور پر پی ایس ایل مقابلے وہاں منعقد نہیں کیے جا سکے۔ اگر گراونڈ کی حالت اتنی نازک تھی کہ بڑے میچز نہیں ہو سکتے تھے تو پھر اسمبلی اجلاس کیلئے یہی گراونڈ کیسے موزوں قرار پایا؟

اسمبلی اجلاس کے دوران میدان میں کرسیاں، صوفے، میزیں اور دیگر انتظامات کیے جائیں گے۔ وزرائ، حکام، میڈیا نمائندے اور سیکورٹی اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہوں گے۔ اس تمام سرگرمی سے میدان اور آوٹ فیلڈ پر اضافی دباو پڑے گا۔ اگر یہی دباو کھیلوں کے مقابلوں کیلئے مسئلہ بنتا ہے تو سیاسی اجتماع کیلئے اسے نظرانداز کیوں کیا جا رہا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو کھیلوں کیلئے حساس قرار دیا جاتا ہے تو پھر غیر کھیل سرگرمیوں کیلئے بھی وہی حساسیت ہونی چاہیے۔ ورنہ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ معیار کھیل کیلئے سخت اور سیاست کیلئے نرم ہیں۔ یہ اثر صرف مرکزی کرکٹ گراونڈ تک محدود نہیں رہے گا۔

ایک بڑے سرکاری اجلاس کیلئے درجنوں سرکاری گاڑیاں، سیکورٹی گاڑیاں، میڈیا وینز اور دیگر ٹرانسپورٹ سٹیڈیم کے اطراف جمع ہوں گی۔ اس کیلئے ممکنہ طور پر شاہ طہماس فٹبال گراونڈ اور جمخانہ گراونڈ جیسے قریبی سپورٹس مقامات کو پارکنگ یا معاون انتظامات کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک سیاسی اجلاس کا دباو ایک کے بجائے کئی کھیلوں کے مقامات پر پڑے گا۔ یہ نہ صرف وہاں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کو متاثر کرے گا بلکہ سپورٹس انفراسٹرکچر کی حفاظت پر بھی سوال اٹھائے گا۔ ایک صوبہ جو مسلسل کھیلوں کیلئے وسائل کی کمی کا ذکر کرتا ہے، وہی اگر کھیلوں کے میدانوں کو سیاسی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرے تو اس کی ترجیحات زیر سوال آتی ہیں۔

چوتھا اہم سوال حکومت کے اس دعوے سے متعلق ہے کہ اجلاس عوام کو اسمبلی کارروائی دکھانے کیلئے سٹیڈیم میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ بیانیہ سننے میں اچھا لگتا ہے، مگر اس کی حقیقت کا انحصار ایک بنیادی سوال پر ہے: کیا عام عوام کو واقعی سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ہوگی؟ اگر سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر داخلہ محدود رہا، صرف منتخب افراد کو اجازت ملی، یا عوام کی رسائی علامتی حد تک رکھی گئی، تو پھر یہ پورا دعویٰ کمزور پڑ جائے گا۔ عوامی رسائی کے بغیر عوامی شمولیت کا دعویٰ محض نمائشی ہوگا۔

اگر حکومت واقعی اسمبلی کارروائی عوام کے قریب لانا چاہتی ہے تو اس کیلئے اور بھی راستے موجود ہیں۔ عوامی گیلری کو وسعت دی جا سکتی ہے، لائیو نشریات کو مو¿ثر بنایا جا سکتا ہے، کم خرچ عوامی مقامات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایک کرکٹ سٹیڈیم میں اجلاس کرنا سب سے زیادہ نمایاں ضرور ہے، مگر ضروری نہیں کہ سب سے زیادہ موثر بھی ہو۔ یہی اس فیصلے کا اصل مسئلہ ہے۔ اس فیصلے میں عملی فائدے سے زیادہ علامتی تاثر نظر آتا ہے۔ ایک طرف کھیلوں کے میدان میں سیاسی اجلاس منعقد ہوگا، دوسری طرف اسے عوامی شمولیت کا نام دیا جائے گا، جبکہ کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور اخراجات بھی بڑھیں گے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اصل مقصد جمہوری رسائی سے زیادہ سیاسی منظرنامہ بنانا ہے۔

کھیلوں کا انفراسٹرکچر عوام کے ٹیکس سے بنتا ہے تاکہ کھلاڑی، نوجوان اور سپورٹس سرگرمیاں اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر یہی انفراسٹرکچر وقتی سیاسی تقریبات کیلئے استعمال ہونے لگے تو یہ نہ صرف ترجیحات کا مسئلہ بنتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کا بھی۔ کیونکہ عوام یہ دیکھتے ہیں کہ وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں، ترجیح کس کو دی جا رہی ہے، اور کس شعبے کو وقتی طور پر قربان کیا جا رہا ہے۔ جب نوجوان کھلاڑی دیکھتے ہیں کہ ان کا میچ ایک سیاسی اجلاس کیلئے ملتوی ہوا، تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ کھیل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب کھیلوں کے میدان سیاسی تقریب کیلئے استعمال ہوتے ہیں، تو یہی پیغام جاتا ہے کہ سپورٹس انفراسٹرکچر کھیلوں سے زیادہ سیاسی علامت کیلئے اہم ہے۔ یہی وہ تاثر ہے جو حکومت کیلئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

جمہوری شفافیت صرف مقام بدلنے سے نہیں آتی۔ عوامی اعتماد صرف بڑے سٹیج لگانے سے نہیں بنتا۔ اور عوامی شرکت صرف کھلے میدان میں اجلاس کرنے سے یقینی نہیں ہوتی۔ حقیقی شفافیت تب ہوگی جب اخراجات واضح ہوں، کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں، انفراسٹرکچر محفوظ رہے، اور عوام کو حقیقی رسائی دی جائے۔ جب تک ان سوالات کے واضح جواب نہیں دیے جاتے، ارباب نیاز سٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس عوامی شمولیت سے زیادہ ایک مہنگی سیاسی نمائش محسوس ہوگا، جس کی قیمت کھیلوں کی ترجیحات اور عوامی وسائل سے ادا کی جائے گی۔


#PublicMoney #GovernmentSpending #SportsNeglect #AccountabilityNow #SaveSportsInfrastructure #MisplacedPriorities #KPGovernment #StadiumUnderPressure #SportsMatter #TransparencyInSports #PAssembly #ArbabNiazStadium #ImranKhanCricketStadium #SportsInfrastructure #PublicFunds #Accountability #KPSports #CricketInPakistan #SportsGovernance #TaxpayersMoney #StadiumManagement #ProtectSportsGrounds #SportsPolicy #PeshawarSports #TransparencyMatters #kikxnow #digitalcreator #musarratullah jan

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776216 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More