کھیل یا خاموش تماشا؟ خیبرپختونخوا میں ٹیلنٹ ہنٹ ختم، میدان خالی اور سوالات باقی
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کبھی خیبرپختونخوا پاکستان میں کھیلوں کی نرسری سمجھا جاتا تھا۔ اسکواش، ہاکی، فٹبال، ایتھلیٹکس، کرکٹ، باکسنگ، ویٹ لفٹنگ اور مارشل آرٹس جیسے کھیلوں میں اس صوبے نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھلاڑی پیدا کیے۔ پشاور سے لے کر چترال اور ڈیرہ اسماعیل خان سے سوات تک، نوجوان کھلاڑی محدود وسائل کے باوجود آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ صوبے میں کھیلوں کا پورا نظام ایک بنیادی سوال کے سامنے کھڑا ہے: آخر نئے کھلاڑی کہاں سے آئیں گے؟ یہ سوال جذباتی نہیں بلکہ عملی ہے۔
خیبرپختونخوا میں آخری مرتبہ کوئی نمایاں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کب ہوا تھا؟ اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو زیادہ تر لوگوں کو شاید یاد بھی نہ ہو۔ سال 2021 میں سکواش کے شعبے میں ایک نجی بینک کے تعاون سے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام منعقد ہوا تھا، جسے کافی تشہیر بھی ملی۔ لیکن اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ نہ کسی بڑے پیمانے پر نئے ٹیلنٹ کی تلاش ہوئی، نہ گراس روٹ لیول پر مستقل پروگرام نظر آئے، اور نہ ہی نوجوانوں کو وہ ماحول ملا جہاں سے مستقبل کے ایتھلیٹس سامنے آ سکیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ٹیلنٹ تلاش ہی نہیں کیا جائے گا تو اگلی نسل کے کھلاڑی پیدا کیسے ہوں گے؟
صوبے میں 38 سے زائد اسپورٹس ایسوسی ایشنز موجود ہیں۔ تقریباً ہر کھیل کی ایک ایسوسی ایشن ہے، ہر ایسوسی ایشن میں عہدیدار ہیں، اجلاس ہوتے ہیں، تصویریں بنتی ہیں، پریس ریلیز جاری ہوتی ہیں، اور سوشل میڈیا پوسٹس بھی آتی ہیں۔ لیکن زمینی حقیقت کیا ہے؟ اکثر ایسوسی ایشنز کا مو¿قف ہوتا ہے کہ ان کے پاس فنڈز نہیں، سامان نہیں، کوچنگ سہولیات نہیں، اور کھیلوں کے میدان نہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست ہوسکتی ہے، مگر پھر دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں میں ان ایسوسی ایشنز نے عملی طور پر کیا کیا؟
کیا انہوں نے دیہات، تحصیلوں اور اضلاع میں جا کر ٹیلنٹ تلاش کیا؟ کیا انہوں نے اسکولوں اور کالجوں کے ساتھ رابطہ کیا؟ کیا انہوں نے نوجوانوں کیلئے کوچنگ کیمپ لگائے؟ کیا انہوں نے غریب کھلاڑیوں کو سامان فراہم کیا؟ کیا انہوں نے ایسے سسٹم بنائے جہاں ایک عام نوجوان بھی کھیل کے ذریعے آگے آسکے؟ اگر ان سوالات کے ایماندارانہ جواب دیے جائیں تو تصویر کافی تشویشناک نظر آتی ہے۔ آج خیبرپختونخوا میں ہزاروں نوجوان ایسے ہیں جن کے پاس کھیلنے کی صلاحیت موجود ہے، مگر نہ ان کے پاس جوتے ہیں، نہ کٹس، نہ کوچنگ، نہ گراو¿نڈ، اور نہ مستقبل کی کوئی امید۔ ایسے حالات میں نوجوان کھیل کو کیوں منتخب کرے گا؟ وہ کیوں صبح سویرے گراو¿نڈ جائے گا جب اسے معلوم ہو کہ آگے راستہ بند ہے؟ کھیل صرف جذبے سے نہیں چلتے، انہیں نظام، سہولیات اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں کھیل اب اکثر تصویروں اور تقریبات تک محدود ہوچکے ہیں۔ فیس بک پوسٹس، فوٹو سیشنز، افتتاحی تقریبات، یادگاری شیلڈز اور رسمی ایونٹس کو اسپورٹس کلچر سمجھ لیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کھیلوں کی ثقافت میدانوں، کوچنگ، مقابلوں اور مسلسل محنت سے بنتی ہے، نہ کہ سوشل میڈیا کی تشہیر سے۔ دوسری طرف ہر سال نئے اسپورٹس گراو¿نڈز اور کمپلیکسز کے اعلانات ہوتے ہیں۔ کچھ واقعی تعمیر ہوتے ہیں، جبکہ کچھ صرف فائلوں اور کاغذات میں موجود نظر آتے ہیں۔ کروڑوں روپے کے منصوبے بنتے ہیں، فنڈز جاری ہوتے ہیں، ٹینڈرز دیے جاتے ہیں، اور تعمیراتی کاموں کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں سے فائدہ کس کو ہورہا ہے؟
کیا واقعی کھلاڑی فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ یا پھر صرف ٹھیکیدار فائدے میں ہیں؟ اور ان ٹھیکیداروں کے ذریعے اصل فائدہ کن لوگوں تک پہنچ رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر بات کرنے سے اکثر لوگ گریز کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً ہر شخص خود کو “اسپورٹس لوور” کہتا ہے۔ سیاستدان کھیلوں کے فروغ کی بات کرتے ہیں، افسران دعوے کرتے ہیں، ایسوسی ایشنز خود کو فعال قرار دیتی ہیں، اور مختلف شخصیات نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے بیانات دیتی ہیں۔ لیکن جب عملی احتساب، شفافیت اور کارکردگی کی بات آتی ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ سپورٹس سے وابستہ صحافی خاموش ہیں۔ ایسوسی ایشنز خاموش ہیں۔ صوبائی اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ خاموش ہے۔ ڈسٹرکٹ اسپورٹس افسران خاموش ہیں۔ یہ خاموشی محض اتفاق نہیں بلکہ پورے نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ کھیلوں کا شعبہ صرف اسٹیڈیم بنانے سے مضبوط نہیں ہوتا۔ اگر گراس روٹ لیول پر نوجوان کھلاڑی تیار نہ ہوں، اگر سکول اور کالج اسپورٹس ختم ہوجائیں، اگر کوچنگ سسٹم کمزور ہو، اگر میرٹ پر مواقع نہ ملیں، تو بڑے اسٹیڈیم بھی خالی رہ جاتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں کئی کھیل ایسے ہیں جو کبھی صوبے کی پہچان تھے، مگر اب زوال کا شکار ہیں۔ ہاکی میں حالات خراب ہیں، فٹبال اندرونی تنازعات کا شکار ہے، ایتھلیٹکس کو مستقل سپورٹ نہیں ملتی، جبکہ متعدد انفرادی کھیل صرف چند نجی کوششوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو مستقبل میں صوبے کے پاس نہ کھلاڑی ہوں گے، نہ مقابلے، اور نہ ہی اسپورٹس کلچر۔ اصل مسئلہ صرف فنڈز کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران بھی ہے۔
جب کھیلوں کو صرف سیاسی نمائش یا تصویری سرگرمی سمجھا جائے گا تو نتائج بھی سطحی ہوں گے۔ ایک نوجوان ایتھلیٹ کو مستقل کوچنگ، غذائیت، نفسیاتی سپورٹ، مقابلے، سفر، اور میرٹ پر مواقع درکار ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ بغیر سنجیدہ پالیسی اور نگرانی کے ممکن نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ چترال، باجوڑ، کرم، وزیرستان، سوات، شانگلہ، کوہاٹ اور جنوبی اضلاع میں ایسے نوجوان موجود ہیں جو اگر مناسب سہولیات پائیں تو قومی سطح پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر ٹیلنٹ کبھی سسٹم تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔
بعض علاقوں میں گراو¿نڈز موجود نہیں۔ کہیں کوچز نہیں۔ کہیں سامان نہیں۔ اور کئی جگہوں پر کھیل صرف سیاسی تعلقات رکھنے والوں تک محدود ہوچکے ہیں۔ یہ صورتحال صرف کھیلوں کا نقصان نہیں بلکہ نوجوان نسل کا نقصان بھی ہے۔ کھیل نوجوانوں کو منشیات، جرائم، انتہاپسندی اور بے مقصدی سے دور رکھتے ہیں۔ جب کھیلوں کے دروازے بند ہوتے ہیں تو اس کے سماجی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ اس وقت ضرورت نعروں کی نہیں بلکہ سخت سوالات کی ہے۔
گزشتہ دس برسوں میں کتنے حقیقی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام ہوئے؟ کتنے کھلاڑی ان پروگراموں سے قومی سطح تک پہنچے؟ کتنے اسپورٹس منصوبوں کا آڈٹ ہوا؟ کتنی ایسوسی ایشنز کی کارکردگی جانچی گئی؟ کتنے ڈسٹرکٹ اسپورٹس دفاتر واقعی فعال ہیں؟ اور سب سے اہم سوال: کھیلوں پر خرچ ہونے والے وسائل کا اصل فائدہ نوجوان کھلاڑیوں کو کیوں نظر نہیں آتا؟ اگر ان سوالات کے جواب نہیں دیے جاتے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ نظام کی ترجیحات کہیں اور ہیں۔
خیبرپختونخوا کا اسپورٹس سیکٹر اس وقت ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں کھیل صرف افتتاحی تقریبات، پریس ریلیز، فوٹو سیشنز اور کاغذی کارروائی تک محدود ہوجائیں گے۔ حقیقی کھلاڑی، حقیقی مقابلہ اور حقیقی ٹیلنٹ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جائے گا۔ یہ اب صرف کھلاڑیوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ پورے نظام کا سوال بن چکا ہے۔
#KhyberPakhtunkhwa #SportsInKP #TalentHunt #GrassrootsSports #PakistanSports #KPKSports #SportsCorruption #YouthDevelopment #SportsJournalism #Kikxnow #MusarratUllahJan #AthleteDevelopment #SportsInfrastructure #KPYouth #InvestigativeJournalism
|