“سپورٹس ڈائریکٹریٹ: جہاں پوسٹنگ ایک رائے ہے، ڈیوٹی ایک آپشن ہے، اور حاضری ایک افسانہ”
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا کے سپورٹس اداروں میں اگر آپ کو لگتا ہے کہ “ٹرانسفر” کا مطلب ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہوتا ہے تو آپ ابھی پرانے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ یہاں جدید انتظامی سائنس نے ایک نیا ماڈل ایجاد کیا ہے: “ڈیجیٹل پوسٹنگ، فزیکل آزادی، اور کاغذی حاضری”۔یہ وہ ادارہ ہے جہاں بندہ کوہاٹ میں تعینات ہوتا ہے لیکن قیوم سٹیڈیم کے کیفے میں موجود ہوتا ہے، اور فائل میں لکھا ہوتا ہے: “ڈیوٹی پر حاضر”۔یعنی جدید فزکس کے مطابق یہاں ایک ہی وقت میں تین حقیقتیں سچ ہو سکتی ہیں:
بندہ کوہاٹ میں ہے،بندہ پشاور میں ہے بندہ کہیں بھی نہیں ہے لیکن تنخواہ لے رہا ہے اب اگر آپ اسے “کوانٹم سپورٹس ایڈمنسٹریشن” کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ کیا ہے؟ یا مسئلہ اصل ہے بھی یا نہیں؟ کھیلوں کے مختلف مراکز میں ایک دلچسپ رجحان پایا جاتا ہے۔ شاہ طہماس سٹیڈیم ہو، حیات آباد کمپلیکس ہو یا پشاور سپورٹس کمپلیکس، ایک چیز مشترک ہے: ہر جگہ عملہ موجود ہے، لیکن اپنی جگہ نہیں۔یہاں “ڈیسک جاب” کا مطلب ہے کہ ڈیسک آپ کے بغیر چل رہی ہے اور آپ کسی اور ڈیسک پر بیٹھے ہیں۔ بعض اوقات تو ڈیسک خود بھی نہیں جانتی کہ اس کا اصل مالک کون ہے۔ اگر کوئی سوال کرے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے تو جواب آتا ہے:“سسٹم ایسے ہی چل رہا ہے” یہ وہ جملہ ہے جو پاکستان کے ہر ناکام سسٹم کا آئینی دفاع ہے۔
ٹرانسفر آرڈر: ایک ادبی صنف ہے اب ٹرانسفر آرڈر کو سمجھیں۔ یہ ایک ایسا دستاویز ہے جو تین دنیاو¿ں میں ایک ساتھ موجود ہوتا ہے:فائل میں موجود، نوٹیفکیشن میں موجود، اور حقیقت میں غیر موجود کاغذ کہتا ہے بندہ کوہاٹ چلا گیا ہے، قیوم سٹیڈیم کہتا ہے بندہ یہیں ہے اور بندہ خود کہتا ہے “میں تو کل سے چھٹی پر ہوں” یہی وہ مقام ہے جہاں انتظامی نظام شاعری بن جاتا ہے: “میں بھی ہوں، تم بھی ہو، مگر کوئی بھی اپنی جگہ نہیں”
غیر حاضری یا متبادل ڈیوٹی؟ اب ایک اور دلچسپ تصور سامنے آتا ہے: “غیر حاضری مگر حاضری کے ساتھ” کچھ اہلکار مہینوں سے اپنی اصل ڈیوٹی سے غائب ہیں لیکن ریکارڈ میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ بعض اوقات ٹی اے/ڈی اے بھی چل رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ جدید ملازمت ہے جس میں: آپ کام نہیں کرتے، لیکن آپ کی کارکردگی رپورٹ بنتی ہے،اور آپ کی حاضری بھی مکمل ہے
یہ دراصل “سرکاری یوٹوپیا” ہے جہاں حقیقت اور فائل ایک دوسرے سے کبھی نہیں ملتے۔ بیوروکریسی کا کھیل: اسپورٹس ایڈیشن، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پورا نظام بیوروکریسی کے ایک “خودکار اسپورٹس موڈ” میں چل رہا ہے۔ اس موڈ میں ،فائلیں خود چلتی ہیں، آرڈر خود نافذ ہوتے ہیں،اور عملدرآمد خود بخود ملتوی ہو جاتا ہے اگر کوئی پوچھے کہ رٹ کہاں ہے تو جواب آتا ہے:“رٹ تو ہے… مگر مختلف جگہوں پر تقسیم ہے”
تنخواہ: واحد چیز جو وقت پر پہنچتی ہے اس پورے سسٹم میں ایک چیز فول پروف ہے: تنخواہ۔،یہ کبھی لیٹ نہیں ہوتی، کبھی غلط جگہ نہیں جاتی، اور کبھی ٹرانسفر نہیں ہوتی۔ یہاں انصاف کا اصول بڑا سادہ ہے: “ڈیوٹی ہو یا نہ ہو، پیمنٹ فل ہونی چاہیے”،کاش کارکردگی بھی اسی طرح خودکار ہوتی۔ اصل سوال جو کوئی نہیں پوچھتا اصل سوال یہ نہیں کہ کون کہاں ڈیوٹی کر رہا ہے۔،اصل سوال یہ ہے کہ “اگر کوئی ڈیوٹی نہیں کر رہا تو سسٹم چل کون رہا ہے؟” یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگر مل جائے تو آدھا سرکاری نظام خود بخود ری سیٹ ہو جائے گا۔ اختتامی حقیقت (جو سب جانتے ہیں مگر کوئی نہیں کہتا)
اسپورٹس ڈائریکٹریٹ میں مسئلہ افراد کا نہیں، “عملدرآمد کے تصور” کا ہے۔ یہاں آرڈر بنانا آسان ہے، لیکن نافذ کرنا ایک “ایڈوانس اسپورٹس ایونٹ” بن چکا ہے۔ اور سب سے دلچسپ بات،یہ سب جانتے ہیں ، سب دیکھ رہے ہیں اور سب خاموش ہیں، کیونکہ یہاں خاموشی بھی ایک پوسٹنگ پالیسی ہے۔ #SportsDirectorateKP #GovernanceComedy #BureaucracyFail #PublicFunds #TransferPostingDrama #PakistanSportsSystem #AccountabilityNow #InvisibleDuty #OfficeReality #InvestigativeHumor
|