عادل خان سوئمنگ پول: کھلاڑیوں کے لیے بنایا گیا مرکز یا آمدن کا مستقل “کاروباری ماڈل”؟

پشاور کے عادل خان سوئمنگ پول کے گرد بحث اب صرف کھیل یا سہولت کی نہیں رہی، یہ ایک ایسے نظام کی کہانی بنتی جا رہی ہے جہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاستی انفراسٹرکچر کا اصل مقصد کھلاڑی ہیں یا ریونیو جنریشن۔یہ سوئمنگ پول بنیادی طور پر تیراکوں کی تربیت کے لیے بنایا گیا تھا۔ مقصد واضح تھا نوجوانوں کو معیاری تربیت، محفوظ ماحول اور بین الاقوامی معیار کی تیاری فراہم کرنا۔ لیکن زمینی حقیقت اس تصور سے مختلف تصویر پیش کر رہی ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے یہ سہولت ایک مکمل کمرشل یونٹ کے طور پر چلائی جا رہی ہے، اور اس کے اثرات اب کھلاڑیوں کی تربیت کے معیار پر براہ راست نظر آ رہے ہیں۔

پچھلے سال کے انتظامی ریکارڈ کے مطابق اس پول سے تقریباً ایک کروڑ اکتالیس لاکھ روپے کی آمدن حاصل کی گئی۔ یہ کوئی معمولی رقم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ آمدن کس پالیسی کے تحت حاصل کی گئی، کہاں جمع ہوئی، اور اس کا کتنا حصہ اسی سہولت کی بہتری پر دوبارہ خرچ ہوا؟ سرکاری نظام میں اصول یہ ہوتا ہے کہ ریونیو یا تو اپ گریڈیشن میں لگتا ہے یا پھر کھلاڑیوں کی سہولت میں۔ لیکن یہاں تصویر اتنی سادہ نہیں لگتی۔مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال کے اعداد و شمار ابھی واضح نہیں۔ انتظامیہ کا موقف یہی ہے کہ حتمی تصویر وقت کے ساتھ سامنے آئے گی اور اصل صورتحال ادائیگیوں اور بینک ریکارڈ سے ہی واضح ہوگی۔ یعنی ابھی سب کچھ “عبوری” ہے، لیکن زمینی سرگرمی مکمل رفتار سے جاری ہے۔

گرمی کی حالیہ لہر اور آئندہ مہینوں میں اس کے مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث سرکاری سوئمنگ پول میں عوامی رش بڑھنے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ یعنی ایک طرف آمدن بڑھنے کا امکان ہے، دوسری طرف کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے جگہ پہلے سے محدود ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو پورے نظام کو سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔اب اصل مسئلہ انتظامی ترجیحات کا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پول میں لائف گارڈز کی تعداد موجود ہے، لیکن ان کی تعیناتیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایک لائف گارڈ جو معذوری کے بعد مخصوص ڈیوٹی پر رکھا گیا تھا، وہ مختلف حالات میں تعینات ہے۔ ایک اور اہلکار، جو مبینہ طور پر کسی اعلیٰ افسر سے تعلق رکھتا ہے، کسی مختلف ذمہ داری پر کام کر رہا ہے۔ جبکہ ایک پرانا صفائی اہلکار اب لائف گارڈ کے فرائض بھی انجام دیتا ہے۔

یہ صورتحال بذات خود کسی بڑے بحران کا اعلان نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ انسانی وسائل کی تقسیم میں کوئی واضح اور پیشہ ورانہ معیار موجود نہیں۔اصل سوال پھر وہی ہے جو بار بار واپس آتا ہے۔ اگر یہ سہولت کھلاڑیوں کے لیے ہے تو پھر اسے کھلاڑیوں کے لیے کیوں نہیں چلایا جا رہا؟ اور اگر یہ آمدن کا ذریعہ ہے تو پھر اس آمدن کا ایک واضح حصہ کھلاڑیوں کی تربیت، غذائیت، اور آلات پر کیوں خرچ نہیں ہوتا؟یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ سوئمنگ صرف پانی میں تیرنے کا نام نہیں۔ یہ ایک مکمل سسٹم ہے جس میں ڈائٹ، کوچنگ، آلات اور باقاعدہ ٹریننگ شامل ہوتی ہے۔ لیکن موجودہ ماڈل میں کھلاڑیوں کے لیے بنیادی سہولتیں بھی مکمل طور پر دستیاب نہیں دکھائی دیتیں۔

اب معاملہ مزید پیچیدہ اس وقت ہوتا ہے جب سوئمنگ ایسوسی ایشن کی درخواستوں کا ذکر آتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے باقاعدہ طور پر ٹریننگ شیڈول، وقت کی تقسیم، اور آلات کی فراہمی کی درخواست دی تھی۔ لیکن جواب میں صرف محدود سہولت دی گئی، یعنی مخصوص لینز کی تخصیص۔ باقی مطالبات کو وسائل کی کمی کے باعث ناممکن قرار دیا گیا۔یہاں ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف لاکھوں روپے کی آمدن، دوسری طرف وسائل کی کمی کا جواز۔ یہ تضاد خود اپنے اندر ایک سوال ہے، جس کا جواب کوئی دستاویزی وضاحت کے بغیر مشکل ہے۔
مزید حساس پہلو یہ ہے کہ سوئمنگ ایسوسی ایشن کے اندر بھی انتظامی نوعیت کے سوالات موجود ہیں۔ ایسوسی ایشن کی قیادت بیوروکریٹک پس منظر سے تعلق رکھتی ہے، اور ماضی میں کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ بھی رہی ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادارہ جاتی اور ذاتی مفادات ایک دوسرے سے الگ ہیں یا کہیں نہ کہیں جڑے ہوئے ہیں۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی بھی نظام میں فرد پر نہیں بلکہ پالیسی پر بات ہونی چاہیے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون کہاں بیٹھا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ نظام کس سمت جا رہا ہے۔

اگر اگلے مہینے مقابلے ہونے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا تیراک انہی محدود لینز میں تیار ہوں گے؟ اور کیا وہ کھلاڑی جو عالمی معیار کے مقابلوں کے لیے تیار کیے جانے چاہئیں، وہ صرف جزوی تربیت کے ساتھ میدان میں اتارے جائیں گے؟یہ صورتحال ایک بنیادی انتظامی ناکامی کی طرف اشارہ کرتی ہے: وسائل موجود ہیں، انفراسٹرکچر موجود ہے، آمدن بھی ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں کے لیے مکمل نظام نہیں بنایا جا رہا۔

اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ جب کوئی سہولت آمدن پیدا کرنے لگے تو اس کا فوکس بدل جاتا ہے۔ کھیل پیچھے رہ جاتا ہے، اور اکاونٹنگ آگے آ جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں کھیل کی روح اور انتظامی حقیقت آمنے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں۔آخر میں سوال صرف اتنا ہے کیا یہ پول تیراکوں کے لیے ہے، یا تیراک اس پول کے “بزنس ماڈل” کے لیے ہیں؟

#KPKSports #PeshawarSwimmingPool #AdilKhanSwimmingPool #SportsGovernance #PakistanSports #Investigation #SportsInfrastructure #AthletesRights #SwimmingPakistan #PublicFunds #SportsPolicy


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1009 Articles with 781107 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More