پاکستان اسپورٹس بورڈ کا 2022 آئین: اصلاح، کنٹرول یا طاقت کا ارتکاز؟


2022 میں جاری ہونے والا پاکستان سپورٹس بورڈ کا آئین بظاہر ایک بڑی اصلاح کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد پاکستان میں اسپورٹس گورننس کو جدید، شفاف اور جوابدہ بنانا تھا۔ پرانے 1981 قواعد کو ختم کرکے ایک نیا ڈھانچہ بنایا گیا جس میں کہا گیا کہ ادارہ خودمختار ہوگا، میرٹ پر فیصلے کرے گا، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہوگی اور کھلاڑیوں کی فلاح کو مرکز میں رکھا جائے گا۔لیکن اس دستاویز کو صرف الفاظ کی سطح پر دیکھنا غلط ہوگا۔ اصل مسئلہ اس کے اندر موجود ساختی تضادات ہیں۔ یہ آئین ایک طرف “خودمختاری” کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف کھیلوں کے تقریباً ہر اہم معاملے کو وفاقی حکومت کے کنٹرول میں دے دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسا نظام بنتا ہے جو اصلاح بھی دکھاتا ہے اور ساتھ ہی طاقت کے ارتکاز کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

سب سے پہلے اس آئین کا بنیادی تضاد واضح ہوتا ہے۔ ادارے کو خودمختار کہا گیا ہے لیکن اس کی قیادت مکمل طور پر حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ بورڈ کا صدر ہے، سیکریٹری اسی وزارت کا نائب صدر ہے، ڈائریکٹر جنرل وزیراعظم تعینات کرتا ہے، اور وزیراعظم ہی بورڈ کا سرپرست اعلیٰ ہے۔یہ ڈھانچہ عملی خودمختاری نہیں دیتا بلکہ “حکومتی نگرانی کے تحت خودمختاری” پیدا کرتا ہے۔ دنیا کے جدید اسپورٹس ماڈلز، خصوصاً آئی او سی کے اصولوں کے مطابق اسپورٹس اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں سیاسی کنٹرول ادارے کے مرکز میں موجود ہے۔

آئین کا سب سے طاقتور پہلو سیکشن 7 میں دیا گیا وسیع اختیار ہے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ اب صرف کھیلوں کو فروغ دینے والا ادارہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ریگولیٹری اتھارٹی بن چکا ہے۔ یہ فیڈریشنز کی رجسٹریشن، ان کی معطلی، فنڈز کی تقسیم، آڈٹ، نظم و ضبط، انتخابات کی نگرانی، ٹیموں کی بیرون ملک روانگی، اور حتیٰ کہ گورننس کوڈز تک کنٹرول کرتا ہے۔ یہ حد سے زیادہ مرکزیت (centralization) ایک بڑا سوال پیدا کرتی ہے: کیا ایک ہی ادارے کو اتنے زیادہ اختیارات دینا نظام کو بہتر بناتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟

اصولی طور پر شفافیت اور احتساب کے دعوے موجود ہیں، مگر ان کے عملی ڈھانچے کمزور ہیں۔ کوئی آزاد احتساب کمیشن نہیں، کوئی مضبوط وِسل بلوور تحفظ نہیں، اور نہ ہی کوئی واضح پبلک رپورٹنگ سسٹم ہے جو فنڈز اور فیصلوں کو عوام کے سامنے لائے۔ یعنی احتساب کا نعرہ ہے، مگر مضبوط ادارہ جاتی نظام نہیں۔ سب سے اہم شقوں میں سے ایک قومی فیڈریشنز پر کنٹرول ہے۔ ہر فیڈریشن کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 42 کے تحت رجسٹر ہونا ضروری ہے، آڈٹ شدہ اکاونٹس رکھنا ضروری ہیں، اور ماڈل آئین کی پابندی لازمی ہے۔

یہ اصول درست سمت میں قدم ہیں کیونکہ پاکستان میں کئی فیڈریشنز خاندانی کنٹرول، غیر شفاف انتخابات اور مالی بے ضابطگیوں کا شکار رہی ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ عمل درآمد ہے، قانون نہیں۔ پاکستان میں اکثر قوانین موجود ہوتے ہیں مگر ان کا اطلاق یکساں نہیں ہوتا۔یہی تضاد اس نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔آئین کا ایک اور اہم پہلو بیرون ملک ٹیموں کی روانگی سے متعلق ہے۔ کوئی بھی کھلاڑی یا ٹیم پاکستان اسپورٹس بورڈ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جا سکتی۔ یہ شق بظاہر جعلی ٹیموں، جعلی دعوت ناموں اور غیر قانونی دوروں کو روکنے کے لیے ہے۔

یہاں ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ پاکستان میں ماضی میں ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جہاں کھیلوں کے نام پر جعلی دعوت نامے، مشکوک ٹیمیں اور ویزا کے غلط استعمال کی شکایات رہی ہیں۔ اس تناظر میں یہ شق کنٹرول کا ایک قانونی آلہ بن جاتی ہے۔لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر اجازت کا نظام سیاسی یا غیر شفاف ہو تو یہ کھلاڑیوں کے لیے رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ یعنی یہ شق حفاظت بھی ہے اور ممکنہ رکاوٹ بھی۔ اسی طرح الیکشن کمیشن کا ڈھانچہ بھی ایک دلچسپ تضاد رکھتا ہے۔ اسے آزاد کہا گیا ہے مگر اس کے ارکان کی تقرری بھی اسپورٹس بورڈ خود کرتا ہے۔ یعنی نگرانی کرنے والا ادارہ خود ہی نگران ادارے کے ارکان منتخب کرتا ہے۔ اس سے غیر جانبداری پر سوال اٹھتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل کے اختیارات بھی غیر معمولی طور پر وسیع ہیں۔ وہ روزمرہ انتظامات، اخراجات، عملدرآمد، تبادلے، اور فیڈریشنز کی نگرانی تک کا اختیار رکھتا ہے۔ اگر یہ کردار میرٹ پر ہو تو نظام بہتر ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ سیاسی اثر میں ہو تو پورا نظام ایک مرکز پر منحصر ہو جاتا ہے۔ معطلی اور ختم کرنے کے اختیارات بھی کافی وسیع ہیں۔ فیڈریشن کو مالی بے ضابطگی، انتخابات میں مسئلہ، یا “عوامی مفاد” کی بنیاد پر معطل کیا جا سکتا ہے۔ “عوامی مفاد” ایک ایسا لفظ ہے جس کی کوئی واضح حد نہیں، اور یہی چیز اسے ممکنہ طور پر غیر شفاف بناتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے اسپورٹس نظام میں طاقت کا ارتکاز پہلے ہی ایک مسئلہ رہا ہے۔ مختلف فیڈریشنز میں سیاسی اثر و رسوخ، ذاتی گروہوں کا کنٹرول، اور شفافیت کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ اس آئین نے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، مگر اس کے لیے جو طریقہ اپنایا گیا ہے وہ مزید مرکزیت پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے: کیا پاکستان کے اسپورٹس بحران کا حل زیادہ کنٹرول ہے یا بہتر ادارہ جاتی خودمختاری؟اس آئین میں دونوں چیزیں ایک ساتھ لانے کی کوشش کی گئی ہے، مگر عملی طور پر یہ توازن کمزور نظر آتا ہے۔

اگر اسے بہتر نیت سے نافذ کیا جائے تو یہ نظام شفافیت، نظم و ضبط اور احتساب کو بہتر بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے غیر متوازن انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ کھیلوں کے نظام کو مزید سیاسی اور مرکزی کنٹرول میں لے جا سکتا ہے۔آخر میں حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ آئین نہیں بلکہ اس کا نفاذ ہے۔ پاکستان میں اکثر ادارہ جاتی اصلاحات کاغذ پر مضبوط ہوتی ہیں مگر زمین پر ان کا اثر کمزور ہوتا ہے۔ اس لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ قوانین کیا کہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں کون، کیسے اور کس نیت سے استعمال کرتا ہے۔

#PakistanSportsBoard #SportsGovernance #SportsCorruption #PakistanSports #GovernanceCrisis #SportsPolicy #PSB #SportsAdministration #Accountability #InvestigativeJournalism


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 999 Articles with 775805 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More